وفاقی بجٹ میں پی ٹی وی کی بھی سن لی گئی،کیمروں اور آلات میں جدت لانے کیلئے بڑی رقم مختص

0
42

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال 2020-21 کے لئے وزارت اطلاعا ت و نشریات کی 12 سکیموں کے لئے 360.918 ملین مختص کیے ہیں ۔

پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام( پی ایس ڈی پی 2020-21) کے مطابق 100کلوواٹ میڈیم وویز ریڈیو سٹیشن گوادر کے لئے 40ملین ‘ پی ٹی وی کے کیمرے اور آلات میں جدت لانے کے لئے100ملین ‘ برکان ری براڈ کاسٹنگ سٹیشن کے لئے19.663 ملین ‘ ری براڈ کاسٹنگ سٹیشن نیلم کے لئے15ملین، ری براڈ کاسٹنگ سٹیشن خاران (بلوچستان) کے لئے 25.41 ملین مختص کئے گئے ہیں

ری براڈ کاسٹنگ سٹیشن شاردہ نیلم ویلی کے لئے12.225ملین، ری براڈ کاسٹنگ سٹیشن زیارت (بلوچستان) کے لئے 7.720 ملین ‘ میڈیم ویوز سٹیشن مظفر آباد کی بحالی کے لئے40 ملین، میرپور ٹرانسمیٹر کی تبدیلی کے لئے 40 ملین اور نئی سکیم میں ڈی ٹی ایم بی کے پائلٹ پراجیکٹ کے لئے 50.918ملین مختص کیے گئے ہیں ۔

قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری، وزیراعظم ایوان میں موجود،معاشی چیلنج کا مقابلہ کرینگے ، حماد اظہر

 

 

وفاقی بجٹ، تنخواہوں میں اضافہ نہ ہوا مگر نیب کے بجٹ میں اضافے کی تجویز

قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ہماری معاشی پالیسیاں عوامی فلاح کیلئے ہیں ، تحریک انصاف کا دوسرابجٹ پیش کرنااعزازہے،احتساب کاعمل جاری رکھاجائے گا،ہمارابنیادی مقصد معیشت کی بحالی ہے ،جب ہم نےحکومت سنبھالی توملک دیوالیہ ہونےکےقریب تھا،حکومت سنبھالی تو20ارب ڈالرکرنٹ اکاوَنٹ خسارہ تھارواں سال ایف بی آر کے ریونیو میں 17 فیصداضافہ ہوا،

حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر کی انتہائی سطح پر تھا،بجٹ خسارہ 2300ارب کی انتہا پر پہنچ چکا تھا ,2 سال کے دوران کرپشن کا خاتمہ ،احتساب رہ نما اصول رہے،مشکل سفر سے ابتدا کی معیشت کی بحالی کیلئے اقدامات کیے،ماضی کے بھاری قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے 5ہزار ارب کا بوجھ پڑا،10لاکھ پاکستانیوں کوبیرون ملک نوکریوں کےمواقع پیداکیےگئے،

حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال ایف بی آرکے ریونیو میں17فیصداضافہ ہوا،دوسالہ دورحکومت کے دوران 5000 ارب کا سود ادا کیا، 74فیصداندرونی قرضوں کوطویل المدت قرضوں میں تبدیل کیاگیا،ہم نے بجٹ فنانسنگ کیلئے اسٹیٹ بینک سے قرضے لینابندکردیئے،بیرونی سرمایہ کاری پاکستان میں لانےکیلئےآسان کاروبارپالیسی کااجراکیا،

Leave a reply