دہلی :کیاکریں:اگرہندوانتہاپسندگروپوں کو فیس بک سے ہٹایاگیاتو پھرحملے ہوں گے،فیس بک ڈرگیا،اطلاعات کے مطابق فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فیس بک کو خدشہ ہے کہ نفرت انگیز گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے اس کے عملے پر حملہ آور ہوسکتے ہیں

فیس بک نے اس ممکنہ حملے کے حوالے سے ایک واقعہ بھی بیان کیا ہے ، فیس بک کا کہنا ہے کہ ایسے ہی جیسے جون میں نئی دہلی ہندوستان کے باہر درجنوں مذہبی انتہا پسندوں نے ایک پینٹیکوسٹل چرچ نصب کیا ، جس نے یہ دعوی کیا تھا کہ یہ ایک ہندو مندر کے اوپر تعمیر کیا گیا تھا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس گروہ نے احتجاج کے طور پروہاں ایک ہندو بت نصب کیا ، اور ایک پادری کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اس کے سر میں گھونسہ مارا۔

فیس بک لکھتا ہے کہ اس سے بڑھ کرہندوانتہا پسندوں کی طرف سے لڑائی کی اورکیا مثال ہوسکتی ہے کہ بجرنگ دل کے نام سے مشہور ہندو قوم پرست تنظیم کے ممبروں نے اس ویڈیو میں اس حملے کی ذمہ داری کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے جسے فیس بک پر تقریبا 250 ڈھائی لاکھ بار دیکھا گیا ہے۔

فیس بک کا کہنا ہےکہ اس سال کے شروع میں کمپنی کی سیفٹی ٹیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بجرنگ دل نے ہندوستان بھر میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کی حمایت کی ہے اور ممکنہ طور پر ایک "خطرناک تنظیم” کے طور اس سے یہی توقع کی جارہی ہے

Shares: