کشمیر روڑ پر کے ڈی اے افسر و دیگر تعمیرات کا معاملہ
عدالت نےکشمیر روڑ سے تمام تجاوزات کا خاتمہ کرنے کا فوری حکم دے دیا۔جتنی مشینیں چاہیں لے کر جائیں اور سب گرائیں، چیف جسٹس کا کے ڈی اے کو بڑا حکم
کے ڈی اے کلب، اسکواش کورٹ، سوئمنگ پول و دیگر تعمیرات بھی گرانے کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی زمانے میں کشمیر روڑ پر بچے کھیلتے تھے،
میں خود کشمیر روڑ پر کھیلتا رہا ہوں،آج کشمیر روڑ پر سب قبضے ہو گئے۔
عدالت کا کشمیر روڑ دوبارہ بچوں کے لیے کھولنے کا حکم، عدالت کا رائیل پارک پر بھی پارک بنانے کا حکم ۔اس موقع پرفیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ پورا کے ڈی اے افسر کلب گرا دیا گیاہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق کلب اب بھی چل رہا ہے، آلہ دین پر بھی کوئی کلب بنا دیا گیا ہے، یہ کے ڈی اے کلب کیا ہوتے ہیں؟ چیف جسٹس نے افتصفار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بچپن میں ان سب میدانوں میں کھیلا ہے، کیا کشمیر روڑ پر سب ختم کردیا ؟ کشمیر روڑ پر ملبہ کیوں چھوڑ دیا؟ تجاوزات اب بھی ہیں تو بچے کیسے کھیلیں گے،انھوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ خود جا کر تجاوزات کا خاتمہ کرے، کیا صرف اشرافیہ کے لیے سب سہولتیں ہیں،
عدالت کا کشمیر روڑ پر تمام کھیل کے میدان بحال کرنے کا حکم دے دیا۔اگر کوئی رکاوٹ ڈالے تو عدالتی حکم کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔عدالت نے سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کردی۔








