557ء میں شام کے سلطان نورالدین زنگی کے دورِ حکومت میں رسول اللہ‏‎ﷺ کے جسدِ مبارک کو مدینہ منورہ سے نکالنے کی ناپاک کوشش کی گئی ایک رات سلطان سو رہےتھے کہ مسلسل 3 بار ایک ہی خواب دیکھا کہ رسول اللہ ‏‎ﷺخواب میں تشریف لاتے اور دو آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں کہ نور الدین مجھے ان آدمیوں کی شرارت سے بچاؤ. اب سلطان کو چین کہاں تھا فوراً مدینہ کی طرف کوچ کیا اوردنوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے مدینہ منورہ پہنچے. وہاں تحائف دینے کے بہانے مدینہ منورہ کے ہر فردسے ملے لیکن وہ دوچہرے نظر نہ آئےجو 3 بار انہیں خواب میں دکھائے گئےتھے.سلطان نے پوچھا کیا آپکو یقین ہے کہ مدینہ کا ایک ایک فرد مجھ سے مل چکا ہے؟ جواب ملا کہ جی ہاں سوائے دو افراد کہ جو مراکش کے نماز, روزہ کے نہایت پابند متقی باشندے ہیں اور دن رات صرف روضہ رسول‏‎ﷺ پہ حاضر درودو وسلام بھیجتے رہتے ہیں.(منافقت کا درجہ دیکھیے ذرا) آپکا انہیں بتایا گیا لیکن انہوں نے کہا ہمیں کسی تحفے کی ضروت نہیں. سلطان نے فوراً انہیں بلوایا. باز پرس کے بعد معلوم ہوا کہ دونوں عیسائ باشندے ہیں اور مال وزر کی لالچ میں اپنے عیسائ حکمران کے کہنے پر منافقت کا اعلی ڈرامہ رچا کر روضہ رسول کے قریب مکان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئےوہاں سے روضہ رسول تک سرنگ کی کھدائ کامنصوبہ تقریباً تکمیل کے مراحل میں تھا.سلطان نورالدین زنگی سنتے رہے روتےرہے.انکے قتل پر فوری عمل درآمد کرو کر سلطان نے روضہ رسول‏‎ﷺ کے گرد خندق کُھدوائ اور اسے پگھلے ہوئے سیسے سے بھروا دیا تاکہ قیامت تک دوبارہ ایسی ناپاک سازش نہ ہو سکے.رسول اللہ ‏‎ﷺکی عزت پر کامیاب پہرا دے کر اپنا فرض ادا کر کے سلطان اپنا دامن پکڑ کر فقیروں کی طرح مدینہ منورہ کی گلیوں میں دیوانہ وار روتے ہوئے پھرے آپ روتے جاتے اور ایک ہی بات فرماتے.. میرا نصیب کہ پوری دنیا سے اور بھی مسلم حکمرانوں کہ ہوتے ہوئے یا رسول اللہ‏‎ﷺ
اس غلام کو ہی آپ نے اس خدمت کے لیے چنا؟
حال ہی میں فرانس میں سرکاری سطح پر گستاخی ہوئ یہ ایک فرد کا ذاتی فعل نہیں تھا ریاستی سطح پر یہ اقدام کیا گیا جسے ساری یورپی یونین مطلب سب مغربی ممالک نے مکمل سپورٹ کیا..سرکاری عمارتوں پر بڑی سکرینز پر انکے خاکے دکھائے گئےجنکا سایہ ہی نہیں تھا.💔لیکن 57 مسلم ممالک میں سے ایک ایک نے رسول اللہ‏‎ﷺ کی عزت پر مُردوں والا کردار ادا کیاسوچنے کی بات یہ ہے کہ آج ان 57 مسلم حکمرانوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں تھا؟کہ رسول اللہ‎ﷺسوتے میں آجگاتے کہ اٹھو میری عزت پہ پہرہ دو. کسی ایک سے انہوں یہ کام لینا گوارا نہ کیا؟ انہیں اپنے اعمال کا احتساب کرنا چاہیے کہ کس لیے انہیں ناموسِ رسالت ‏‎ﷺکے تحفظ کے عظیم کام کی سعادت حاصل نہ ہوسکی..؟نماز,روزہ,تسبیحوں کا نام ہی دین ہے تو وہ تو اللہ منافق سے بھی نہیں چھینتا.. نہ ہی یہ کہ چند تقاریر اور مذمت سے ذمہ داری سے فارغ ہوا جائے. اصل بات تو ہے میدانِ عمل میں آکر رسول اللہ‎ﷺسے وفا کر جانا..اور جہاں تک اولیاء, محدثین کی تحقیق ہے کہ سلطان نورالدین کو اس سعادت کہ حاصل ہونے کی بڑی وجہ انکا علماء اور دین کے تحفظ کے اقدامات تھے آپ نے اپنے دورِ حکومت میں سب سے عالیشان عمارتیں دین پڑھانے کے لیے بنوائیں. علماءِ حق کو سب سے بلند مقام, عہدے اور عزت دی جب کہ آج کےدور میں علماءِ حق کی وہ عزت نہیں.نہ ہی دینی تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے بلکہ اسے تعلیم سمجھا ہی نہیں جاتا. عمومی سوچ ہے کہ عالم کو بس مسجد تک محدود ہونا چاہیے جبکہ اسلام میں علماء کو انبیاء کے وارث کہا گیا ہے.قصہ مختصر کہ مسلمانوں میں اگر کبھی تبدیلی آئے گی ترقی ہو گی تو اسلام کو عملی طور پر اپنانے سے ہو گی.اور اسلام میں اگر سیدنا محمد‏‎ﷺ سے محبت, وفا ہر چیز سے بڑھ کر نہ ہو تو اسلام میں کچھ نہیں بچتا.آخری
با اختیار عثمانی حکمران سلطان عبدالحمید کے دور میں فرانس نے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا اعلان کیا تو آپ نے باوجود اس کے کہ سلطنتِ عثمانیہ آخری سانسیں لے رہی تھی ملک میں خانہ جنگی کی صورتِ حال تھی پھر بھی آپ نے سنتے ہی فوراً فرانس کے
سفیر کو بلا کر خاکے منسوخ کرنے کا کہا بصورتِ دیگر جہاد کا اعلان کرنے کا کا عندیہ دیا.سلطان کےالفاظ میں عزم کی اسقدر پختگی جھلک رہی تھی کہ فرانس کو خاکے منسوخ کرنا پڑے.یہ تھی نبی آخر الزماں‏‎ﷺ سے عملی وفا. شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے دنیاوی واُخروی کامیابی کا راز چند الفاظ میں سمو دیا کہ محمد‏‎ﷺ سے کوئ وفا کرے جیسے وفا کرنے کا حق ہے تو لوح و قلم (قسمت لکھنے کا اختیار) بھی اسکے ہوتے ہیں.مختصر یہ کہ امتِ مسلمہ اگر عروج چاہتی ہے تو پہلے رسول اللہ‏‎ﷺ سے وفاکرنی ہو گی.اس وفا کے بغیر,رسول اللہ‏‎ﷺ کی عزت پہ سمجھوتہ کر کے کسی قسم کی ترقی/ عروج کی خواہش فضول ہے.ساری دنیا آج کرونا, مہنگائ , معاشرتی بے سکونی اور ایک سے بڑھ کر ایک مسلئے سے دوچار ہے لیکن شائد آسمان سے پتھر گریں تو کوئ مانے گا کہ ہاں اللہ واقعی ناراض ہے.

Shares: