ریاض :پراپیگنڈہ بند کیا جائے:موسمیاتی سربراہی اجلاس کے حوالے سے سعودی عرب کا سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے وزیر توانائی نے ان الزامات پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے درپردہ کام کر رہا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان السعود نے رواں ہفتے گلاسگو میں ہونے والی بات چیت کے دوران کہا کہ ’جو کچھ آپ سن رہے ہیں وہ ایک الزام اور جھوٹ ہے۔شہزاد عبدالعزیز نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے موسمیاتی مذاکرات کے سربراہ اور دیگر کے ساتھ بہت بہتر اندازمیں کام کر رہے ہیں۔
اس سے قبل سعودی رہنماؤں نے واضح کیا تھا کہ جب تک طلب برقرار رہے گی وہ اپنے ذخائر سے تیل کی ترسیل کا ارادہ رکھتا ہے۔
دوسری جانب سائنسدانوں اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر دنیا گلوبل وارمنگ کے مزید تباہ کن اثرات سے بچنا چاہتی ہے تو ایک دہائی سے بھی کم وقت ہے۔علاوہ ازیں ماحولیات کے رضاکاروں نے امریکا اور یورپی یونین پر الزام لگایا ہے کہ وہ سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے ہیں۔
کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک نے موسمیاتی تبدیلی کا باعث بننے والے اسباب پر کیے گئے وعدہ پورے نہ کرنے پر امریکی صدر جوبائیڈن کو’فوسیل آف دی ڈے‘ ایوارڈ دے کر ان کی تضحیک کی تھی۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گلاسگو کے دورے میں اعلان کیا تھا کہ مملکت 2060 تک کاربن کے اخراج کو صفر کر دے گی۔لیکن سعودی رہنماؤں نے دنیا کی طلب ختم ہونے سے پہلے اپنی مملکت سے تیل کے آخری مالیکیول کو نکالنے کا عزم ظہار کیا تھا۔








