مقبوضہ کشمیر میں مسلسل چوتھے روز بھی کرفیو نافذ ہے اور دیگر پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ بیرونی دنیا کے ساتھ اس خطے کے تمام مواصلاتی رابطے منقطع ہوگئے ہیں۔
کشمیر کی موجودہ صورتحال 1846کے مقابلے میں بدترین ہے۔ کشمیری صحافی مزمل جلیل
کشمیر میڈیا سروسس کے مطابق بھارتی حکومت نے جموں و کشمیرسے آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر کو فوجی محاصرے میں رکھا تھا۔

ہزاروں ہندوستانی فوجی ، نیم فوجی دستے اور پولیس اہلکار مقبوضہ وادی میں ویران سڑکوں پر پہرہ دیتے ہیں۔ سری نگر میں تعینات فوجیوں نے گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کو آنے جانے سے منع کر دیاہے۔ وادی کشمیر میں سڑکیں ویران ہیں ، جبکہ جموں ، کٹھوعہ ، سمبا ، پونچھ ، ڈوڈا ، راجوری ، ادھم پور ، کشتواڑ اور دیگر علاقوں میں بھی ایسی صورتحال ہے۔

وادی میں چوتھے روز بھی مواصلات کا بلیک آوٹ جاری ہے ، قابض حکام انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کے رابطوں کو معطل رکھتے ہیں۔ حکام نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لئے ٹیلیویڑن ، ٹیلیفون اور انٹرنیٹ رابطوں کومنقطع کر دیا تھاجس کی وجہ سے مقبوضہ وادی کا پوری دنیا رابطہ کٹ گیا ہے ۔ لینڈ لائن فون تک کو بند کر دیا گیا ہے ، جس سے لوگوں میں زیادہ پریشانی پھیل رہی ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے ، مقامی اخبار اپنے آن لائن ایڈیشن بھی اپ لوڈ نہیں کر سکے۔ زیادہ تر اخبارات پرنٹ ہی نہیں ہوسکے۔ تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔

اشیائے ضروریہ کی قلت ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتی جا رہی ہے کیونکہ رہائشیوں ، بچوں اور مریضوں کے لئے دودھ ، دودھ کی چیزیں اور دوائیں حاصل کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

Shares: