جج دھمکی کیس میں عمران خان کے خلاف ٹرائل کا آغاز ہوگیا
خاتون جج کو دھمکی کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ عدالت کی جانب سے مقدمے میں عمران خان کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں جب کہ اسلام آباد پولیس نے بھی مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کروا دیا ہے۔ مقامی عدالت کے سینئر سول جج رانا مجاہد رحیم نے نوٹس جاری کرنے کے احکامات دیدیے۔
واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد جلسے کے دوران خاتون جج کو دھمکی دی تھی، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمے میں سے دہشت گردی کی دفعات حذف ہونے پر کیس سیشن کورٹ بھیجا گیا تھا۔ خاتون جج کو دھمکی کے کیس میں عمران خان ضمانت پر ہیں۔ ٹرائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت نے عمران خان کو 18 جنوری کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں.
طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے.وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری
پنجاب حکومت جانے کی اطلاعات کے باوجود پرویز الہٰی کی رات گئے تک مصروفیات
لندن میں مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ نے ٹی وی چینل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا۔
سینما کی تاریخ کا مشکل ترین، ممکنہ طور پر جان لیوا اور مہنگا اسٹنٹ ٹام کروز پر فلمبند
یاد رہے کہ اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی 2 مقدمات میں مستقل ضمانت منظور کرلی تھی خاتون جج کو دھمکی کے کیس میں عدالت نے عمران خان کی ضمانت 50 ہزار روپے مچلکوں کے عوض منظور کر لی تھی جب کہ تھانہ کوہسار میں درج اشتعال انگیز تقاریر کے مقدمے میں بھی عمران خان کی مستقل ضمانت منظور کرلی گئی تھی.
سیشن جج کامران بشارت مفتی کے روبرو کیس کی سماعت کے موقع پر عمران خان کے ہمراہ پی ٹی آئی رہنما اسد عمر بھی عدالت پہنچے تھے۔ وکیل بابر اعوان نے عدالت کو بتایا تھا کہ عمران خان کے خلاف تھانہ کوہسار میں ایک مقدمہ درج ہے ، جس میں عمران خان شامل تفتیش بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ عمران خان نے تفتیش صحیح طریقے سے جوائن نہیں کی۔ جج نے استفسار کیا کہ اشتعال انگیزی کس تقریر میں تھی، وہ آپ نے بتانا ہے۔پبلک پراسیکیوٹر نے بتایا تھا کہ عمران خان نے پبلک سرونٹس کو دھمکیاں دیں۔ تاہم بعد ازاں عدالت نے جج دھمکی کیس اور اشتعال انگیز تقریر کے مقدمے میں عمران خان کی مستقل ضمانت منظور کرلی گئی تھی۔








