بھارتی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد ہندو انتہا پسند آپے سے باہر ہو چکے ہیں اور انہوں نے مسلمانوں پر تشدد کا سلسلہ شروع کر دیا ہے. بھارتی ریاست ہریانہ میں ٹوپی پہن کر بازار سے گزرنے والے مسلم نوجوان کو ہندو انتہا پسندوں نے تشدد کا نشانہ بنایا .اور جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقے گروگرام میں ایک مسلمان لڑکا ٹوپی پہنے بازار سے گزرا توہندو انتہا پسندوں نے اسے روکا، ٹوپی اتاری اور تشدد کا نشانہ بنایا، ہندو انتہا پسندوں نے مسلم نوجوان کو کے شری رام کا نعرہ لگانے پر بھی مجبور کیا. عالم نامی نوجوان کے ساتھ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ نماز پڑھ کر مسجد سے گھر جا رہا تھا. عالم نے پولیس میں ہندو انتہا پسندوں کے‌ خلاف کاروائی کے لئے درخواست دے دی ہے. جس میں اس نے لکھا کہ ہندو انتہا پسندوں نے اسے کہا کہ یہاں ٹوپی پہننے کی اجازت نہیں. مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ہندو انتہا پسندوں نے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ ان کے کہنے پر میں نے نعرہ لگا دیا۔ اس کے بعد انھوں نے مجھے ’جے شری رام‘ بولنے کے لیے بھی مجبور کیا، لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے لاٹھی سے میری بری طرح پٹائی کی۔ مسلمان نوجوان کی چیخ و پکار سن کر مقامی لوگ مدد کی لئے آئے تو ہندو انتہا پسند فرار ہو گئے. گروگرام شہر کے اے سی پی راجیو کمار نے اس حوالہ سے کہا کہ واقعہ کے متعلق تھانہ میں تعزیرات ہند کی دفعہ 153، 149، 323 اور 506 کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے. مدعی کا میڈیکل بھی کروایا گیا ہے. ۔ ملزموں کو گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے.

واضح رہے کہ گروگرام میں مسلمانوں پرہندو انتہا پسندوں کے تشدد کے کئی واقعات گزشتہ ایک سال میں سامنے آ ئے ہیں ۔

Shares: