حافظ آباد (باغی ٹی وی،خبر نگارشمائلہ) ضلعی ہیڈ کوارٹر حافظ آباد میں ٹریفک پولیس کی کارروائیوں نے عام شہریوں بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ چالانوں کی بھرمار نے نہ صرف عوام کے اوسان خطا کر دیے ہیں بلکہ امیر طبقے کی من مانیوں نے قانون کی بالادستی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

شہریوں کے مطابق موٹر سائیکل جو عوام کی بنیادی سواری ہے، اسی پر سخت ترین قوانین لاگو کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب شہر میں بڑی گاڑیاں بلا نمبر پلیٹ، برادریوں کے ناموں کے ساتھ آزادانہ گھومتی ہیں جنہیں ٹریفک پولیس روکنے کی زحمت تک نہیں کرتی۔ ایک شہری نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "شہر میں کئی گاڑیاں دیکھی ہیں جن پر نمبر پلیٹس کی جگہ برادری کے نام درج ہیں اور وہ کھلے عام شاہراہوں پر دندناتی پھرتی ہیں”۔

شہر کے مختلف حصوں میں پارکنگ کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری زمینیں جو عوامی پارکنگ کے لیے استعمال کی جا سکتی تھیں، انہیں خود سرکاری اداروں نے غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ تحصیل احاطہ اور پٹوارخانہ کے سامنے خالی جگہوں پر بااثر افراد کی پشت پناہی سے غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈ قائم کر دیے گئے ہیں جہاں مبینہ طور پر فیس بھی وصول کی جا رہی ہے۔ شہریوں نے اس غیر قانونی فیس پر آواز اٹھائی تو ہر طرف سے خاموشی دیکھنے میں آئی۔

ڈی ایس پی رائے ملازم حسین نے اعتراف کیا کہ پارکنگ غیر قانونی ہے اور ایف آئی آر درج کرنے کی بات کی، تاہم جب ٹریفک انچارج نے وضاحت دی کہ "یہ پارکنگ انجمن تاجران کے زیرِ نگرانی ہے” اور وہاں تعینات شخص موٹر سائیکل چوری روکنے کے لیے بٹھایا گیا ہے، تو پولیس حکام نے خاموشی اختیار کر لی۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پارکنگ کو فیس پارکنگ میں تبدیل کرنا ہے تو حکومت کو ٹھیکے پر دے تاکہ عوام کو سہولت اور حکومت کو آمدن حاصل ہو۔ شہر میں موجود کئی سرکاری جگہیں مثلاً دانہ منڈیاں، اسلامیہ گرلز کالج کے قریب میدان، جلالپور روڈ اور ریلوے کی زمین اس مقصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، مگر ترجیحات کچھ اور نظر آتی ہیں۔

اسی طرح روزانہ ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی بھاری گاڑیاں، جن میں 80 ٹن وزنی ڈمپر شامل ہیں، سرگودھا، چنیوٹ اور ونیکے تارڑ سے پتھر اور ریت لے کر شہر میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ گاڑیاں اکثر بغیر لائسنس، بغیر کاغذات اور کم عمر بچوں کے زیرِ استعمال ہوتی ہیں۔ جب اس حوالے سے ٹریفک پولیس سے سوال کیا گیا تو یہ کہہ کر جان چھڑائی گئی کہ "ایکسل لوڈ کی ذمہ داری ڈی آر ٹی اے سیکرٹری کی ہے” اور جب کاغذات کے متعلق پوچھا گیا تو حکام نے خاموشی اختیار کر لی۔ وجہ واضح ہے: یہ گاڑیاں بڑے ٹرانسپورٹرز، سرکاری افسران اور سیاسی بااثر افراد کی ملکیت ہیں۔

شہر کے مرکزی علاقوں جیسے کچہری روڈ، ڈاکخانہ چوک، فوارہ چوک، مدنی بازار، کلمہ چوک وغیرہ میں نو پارکنگ زونز میں کھڑی بڑی گاڑیوں کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، لیکن موٹر سائیکل سواروں کو موقع پر ہی پکڑ کر دو ہزار روپے کے چالان تھما دیے جاتے ہیں۔

عوامی سطح پر مطالبہ ہے کہ اگر چالان کیے جائیں تو ساتھ شعور بھی دیا جائے۔ شہری مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے اخراجات کی وجہ سے پہلے ہی پریشان ہیں۔ ایسے میں دو ہزار روپے کے چالان ان کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر عام شہریوں پر سختی ہے تو طاقتور اور امیر افراد کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ قانون پر عمل کریں، لائسنس، رجسٹریشن اور ہیلمٹ کا استعمال یقینی بنائیں، چھوٹے بچوں کو موٹر سائیکل چلانے نہ دیں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

قانون کی بالادستی، عوامی شعور اور محکموں کی غیر جانب داری ہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ جب تک قانون کا اطلاق سب پر برابر نہ ہوگا، حافظ آباد جیسے شہروں میں شہری پریشانی کا شکار رہیں گے اور اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان قائم رہیں گے۔

Shares: