اخترمینگل ہمارے حلیف تھے اور رہیں گے، شبلی فراز
باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ مینگل کے تمام تحفظات جلد دور کرلیں گے ،اخترمینگل سے رابطہ کررہے ہیں،
اختر مینگل کے6نکاتی مطالبے پر کمیٹی بنائی تھی، کمیٹی میں جہانگیر ترین بھی تھے مگر وہ اب نہیں ہیں، کمیٹی میں جلد نئے ممبر کو شامل کرلیں گے،وزیراطلاعات شبلی فراز: بلوچستان صوبہ ہمارےلیے بہت اہم ہے،شبلی فراز ممبر کا تقرر ہوتےہیں اختر مینگل کےتحفظات دور ہوجائیں گے
ایک دو روز میں تمام مسائل حل ہوجائیں گے، بجٹ کا معاملہ بھی بہتر طریقے سے حل ہوجائےگا،
بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کی قومی اسمبلی میں 4نشستیں ہیں،قومی اسمبلی میں بی این پی مینگل کے3منتخب اورایک مخصوص رکن ہے
اختر مینگل کا کہنا تھا میں آج ایوان میں پی ٹی آئی حکومت سے علیحدگی کااعلان کرتاہوں،ہم ایوان میں موجود رہیں گے اور اپنی بات کرتے رہیں گے،تحریک انصاف سے اتحاد ختم کرتے ہوئے دکھ ہورہا ہے،بلوچستان آپ کا قرض دار نہیں، حساب کرلیں تو آپ کا ایک ایک بال بلوچستان کا قرض دار ہوگا،سوئی گیس کی رائلٹی توچھوڑیں،ہمیں سونگنےکوبھی نہیں ملتی،
اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، کشمیر ملے گا تو ملے گا،جو آپ کے پاس ہے اس کیلئےتو کچھ کرو،میرے بلوچ کا خون کیوں زیر بحث نہیں آتا،کیا بلوچ کارنگ ٹماٹر کے رنگ سے زیادہ خراب ہے؟بلوچستان کو برابر کا حصہ دینا ہوگا،آج نہیں توکل دینا ہوگا،ہمیں کوئی لائن میں نہیں لگنے دیتا، آپ آن لائن کی بات کررہے ہیں،بلوچستان میں آج آن لائن کلاسز نہیں ہورہیں، وہاں تھری جی فور جی نہیں ہے،
اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ ہم نےاسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزیراعظم اور صدر کے انتخاب پر حکومت کا ساتھ دیا،اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود گزشتہ بجٹ میں ساتھ دیا، وفاقی حکومت نے ہمیں کیا دیا؟
واضح رہے کہ بی این پی کی جانب سے حکومت سے علیحدگی کی دھمکی یہ پہلی بار سامنے نہیں آئی ماضی میں بھی کئی ایسے مواقع آئے لیکن حکومت نے بی این پی کو راضی کر لیا ،گزشتہ برس بھی بجٹ کے موقع پر بی این پی نے علیحدگی کی دھمکی دی تھی لیکن حکومت نے مذاکرات کئے تھے اور بجٹ کی منظوری کے لئے بی این پی نے حکومت کی حمایت کر دی تھی







