شہباز اکمل جندران۔۔
باغی انویسٹی گیشن سیل۔۔
ملک سے غداری اور بغاوت کے 110 مقدمات کس سیاسی رہنما کے خلاف درج ہوئے؟

بانی متحدہ الطاف حسین کے خلاف پاکستان میں درج مقدمات کی فہرست بہت طویل ہے۔ذرائع کے مطابق ان کے خلاف قتل،اقدام قتل، بھتہ خوری،اغوا،کرپشن اور دیگر جرائم پر مشتمل مقدمات کی تعداد ساڑھے 3ہزار سے زائد ہے۔تاہم صرف ملک سے غداری کے 110مقدمات ہیں۔ جو مختلف اوقات میں مختلف شہریوں کی مدعیت میں درج کروائے گئے۔

الطا ف حسین کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں، شکار پور، کشمور، کندھ کوٹ، سکھر، روہڑی، ٹھٹھہ، جامشورو، کوٹری، سہون، جیکب آباد، بدین، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، حیدر آباد مٹیاری، میر پور خاص، گھوٹکی اور میر پور ماتھیلو میں بغاوت کے مجموعی طورپر 29مقدمات۔ اسلام آباد میں 4، لاہور میں بھی 4،ملتان، چنیوٹ، سرگودھا، راجن پور، بہاولنگر، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، اوکاڑہ، گجرات،منڈی بہاوالدین، چیچہ وطنی اوربورے والا سمیت پنجاب میں مجموعی طورپر 52کوئٹہ میں دو، بلوچستان میں مجموعی طورپر 11مقدمات، خبر پختونخواہ میں 5،کشمیر میں 2اور گلگت و بلتستان میں بغاوت کے الزامات کے تحت دو مقدمات درج ہوئے ہیں۔

الطا ف حسین کے خلاف بغاوت کے مقدمات تعزیرات پاکستان کی دفعہ 121،121-A۔122اور 123کے تحت ریاست کے خلاف جرم یا بغاوت کے الزام میں مقدمات درج کئے گئے۔دفعہ 121کے تحت حکومت کے خلاف بغاوت جرم ہے۔ جس کی سزا موت یا پھر عمرقید جرمانہ ہے۔ اسی طرح دفعہ 121-Aکے تحت حکومت کے خلافبغاوت کی سازش جرم ہے۔ جس کی سزا عمرقید یا 10سال تک سزا اور جرمانہ ہے۔ دفعہ 122کے مطابق حکومت کے خلاف ہتھیار بند ہونا یااس مقصد کے لیے ہتھیار اکٹھے کرنا جرم ہے۔ جس کی سزا 10سال تک قید اور جرمانہ ہے۔ جبکہ دفعہ 123کے مطابق حکومت کے خلاف سازش میں سہولت کاری کرنا جرم ہے۔جس کی سزا10سال تک قید اور جرمانہ ہے۔








