عمران خان صاحب اپنی مشکلات میں اضافہ مت کریں اور سیدھا سیدھا امریکہ کے سامنے لیٹ جائیں، اسرائیل کو تسلیم کریں، بھارت کی شان میں قصیدے پڑھنا شروع کر دیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جائیں 10 ارب ڈالر قرضہ لیں 5 ارب سے عیاشی کریں اور ہمیں 5 ارب کی سبسڈی دیں۔ ملک جائے بھاڑ میں قرضہ چڑھتا ہے تو چڑھنے دیں کونسا آپ نے وہ قرض ادا کرنا ہے

آپ کے بہادر فیصلے چند گھنٹے اس قوم کو یاد رہتے ہیں بس۔ ہم غیرت سے جینا تو چاہتے ہیں لیکن اسکی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔خدا کے لئے ہمیں غیرت سے جینے کا درس دینا چھوڑ دیں۔ غیرت کی ہمیشہ ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ہم ادا کرنے کو تیار نہیں.

خان صاحب ہم روشن خیال نہیں راشن خیال ہیں۔ ہم دماغ سے نہیں پیٹ سے سوچنے والی عوام ہیں ۔ آپکی جرات کیسے ہوئ ہمیں خوداری کا سبق پڑھانے کی ہم ہرگز اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔۔
ہم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانتے ضرور ہیں لیکن ہم سے اس پر عمل نہ ہوگا کیونکہ ہمیں بس دو وقت کی روٹی چائیے اس لیے مہربانی کریں ہمیں آزمائش میں نا ڈالیں۔ ہم نہ تو غیرت سے جینا چاہتے ہیں ، نہ ہمیں کسی اور چیز کی پرواہ ہے۔ ہاں ہم سے بس نعرے لگوا لیں اسرائیل نامنظور، غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے۔ لیکن غیرت سے جینا ہمیں نہیں قبول۔

ہم بدنصیب لوگوں کو حقائق سمجھ نہیں آ رہے۔ ہمیں نواز اور زرداری جیسے فرعون ہی سوٹ کرتے ہیں۔ جو بیرونی قرضوں میں سے چند سکوں کی سبسڈی عوام کو دے کر باقی اپنے اکاؤنٹس بھرنے کے لیے واپس لے جاتے ہیں اور یہ عوام کہتی ہے کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے۔ جو عوام خود لٹنے برباد ہونے ملک گروی رکھوانے غلامی برداشت کرنے کو تیار ہے انہیں آپ غیرت کے سبق پڑھا رہے ہیں۔؟؟

دنیا کی فاتح قوموں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں وہ ریاستِ مدینہ ہو یا سلطنت عثمانیہ مٹھی بھر مسلمان جن کے پاس کھانے کو روٹی نہیں پہننے کو اچھا لباس نہیں رہنے کو پکا مکان نہیں وہ غیرت کے اوپر کھڑے ہوتے ہیں تو اللہ انہیں چند سالوں میں آدھی دنیا کی حکمرانی عطا کر دیتا ہے ان عرب کو بدوؤں کے ہاتھوں سلطنتِ روم اور فارس ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ زیادہ دور کیوں جاتے ہیں یہ آپ کے پڑوس میں چند ہزار طالبان نے غیرت کے اوپر پوری دنیا سے ٹکر لے لی بیس سال بھوک و افلاس برداشت کی ایک ایک گھر سے دس دس جنازے اٹھائے ہزاروں کو تو کفن دفن تک نصیب نہیں ہوا لیکن وہ ڈٹے رہے لڑتے رہے او بِلآخر فتح یاب ہوئے۔

اس عوام کو سلطان صلاح الدین ایوبی سلطان محمد فاتح خالد بن ولید جیسے عظیم فاتح تو چاہئیے ہیں لیکن خود انہوں نے رتی برابر غیرت ایمانی نہیں دکھانی۔ جان لیں کہ عظیم مقاصد کے لیے عظیم قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں مشکلات تکلیفیں رکاوٹیں آتی ہیں ان حالات سے لڑ کر ہی قومیں عظیم بنتی ہیں دنیا کی تاریخ میں کسی قوم نے بھی بغیر تکلیفوں کے عروج نہیں پایا۔ ابھی تو حالات اور خراب کیے جائیں گے جو آپ نے امریکہ بہادر کو آنکھیں دکھائی ہیں وہ آپ پر اقتصادی پابندیاں لگائے گا ہر محاذ پر آپ کو ضرب لگانے کی کوشش کرے گا عوام نے تب آپ کے ساتھ کھڑے ہونا تو دور خود آپ کو گریبان سے پکڑ کر اقتدار سے نکال دینا ہے اور بخوشی غلامی کا توق گلے میں ڈال کر کہیں گے ہمارے اجداد بھی غلام تھے ہم بھی غلام رہیں گے بے شک علامہ اقبال کہتے رہے ہوں ۔ "اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی”۔ لیکن ہمیں روٹی چاہئیے پھر چاہے غلامی کی ہی کیوں نا ہو۔ کیونکہ غیرت سے پیٹ نہیں بھرتا نا ہم غیرت سے جینے کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔۔

Twitter @zohaibofficialk

Shares: