کوئٹہ: بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، خاص طور پر انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس میں انہوں نے دہشت گردوں کے ایک خطرناک منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے صوبے کو بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔ یہ کامیابی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نشاندہی کے بعد ممکن ہوئی، جنہوں نے کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کی موجودگی کا پتہ لگایا۔ حکام کے مطابق، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اطلاعات پر سی ٹی ڈی بلوچستان، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس نے ایک کامیاب مشترکہ آپریشن کیا۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی اہم تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانا تھا۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپریشن کا آغاز رات کی تاریکی میں کیا گیا، جب سی ٹی ڈی، ایف سی اور پولیس نے دہشت گرد گروپ کو گھیرے میں لے لیا۔ اس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں تین دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ دو کو گرفتار کیا گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ فائرنگ کے دوران کچھ دہشت گرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تعداد پانچ سے سات بتائی جا رہی ہے۔ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ گرفتار دہشت گردوں سے بھی تفتیش کا عمل جاری ہے تاکہ ان کے نیٹ ورک اور دیگر ممکنہ حملوں کے منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں ہیں۔ سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جس کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

یہ کارروائیاں صوبے کے شہریوں میں اطمینان اور تحفظ کا احساس بڑھانے میں معاون ثابت ہوئی ہیں، جبکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ حکام نے اس کامیابی کو بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن قائم رکھنے میں مدد مل سکے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا، "مجھ سمیت پوری قوم ایف سی، پولیس اور سی ٹی ڈی کے افسران کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔” ان کی بہادری اور قربانیوں کی بدولت ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

Shares: