رواں مالی سال24-2023 کا بجٹ لاگو

0
20
pak

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے مطابق پانچ بڑے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے رواں مالی سال24-2023 کے بجٹ میں اٹھائے گئے اقدامات لاگو کردیئے ہیں۔

باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایکٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردیا، فنانس ایکٹ 2023کے زریعےبجٹ میں عائد کردہ مجموعی طور پر 415 ارب روپے کے مزید ٹیکس لاگو کردیئے ہیں اب 30 کروڑ کی بجائے 50 کروڑ سالانہ آمدن پر 10 فیصد سپر ٹیکس نافذ ہوگا،فنانس ایکٹ2023کے نافذ ہوتے ہی پٹرولیم لیوی 50 سے بڑھا کر 55 روپے کرنے کے بعد آمدنی پراضافی سپرٹیکس بھی نافذ کردیا ہےسپرٹیکس کیلئےانکم سلیب30 کروڑسےبڑھا کر50 کروڑکردی گئی ہے-

قابل ٹیکس اشیا کی غیر رجسٹرڈ لوگوں کو سپلائی پر سیلز ٹیکس کی شرح 3 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کردی ہے، بچوں کے500 روپے مالیت تک کے 2 گرام کے دودھ کے ڈبے پر سیلز ٹیکس5 فیصد سے بڑھا کر6 فیصد کردیا ہے،بینکنگ کمپنیوں کی 30 کروڑ سے زیادہ آمدن پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگ گیا، سالانہ 15 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 0 سطح پر برقرار رکھی گئی ہے، بڑے شعبوں میں 30 کروڑسے زیادہ کمانے پربھی10 فیصد ٹیکس دینا ہوگا-

بڑےشعبوں میں پیٹرولیم، گیس، ادویہ سازی، شوگر، ٹیکسٹائل پربھی، فرٹیلائزر، لوہا،اسٹیل،ایل این جی ٹرمینل،آئل مارکیٹنگ،آئل ریفائنر، ایئرلائنز، آٹوموبائلز، بیوریجز،سیمنٹ، کیمیکلز، سگریٹ، تمباکوسیکٹر بھی شامل ہیں کھاد پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد، ماہانہ دو لاکھ روپے سے زائد کی تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح میں اڑھائی فیصد اضافہ کردی گئی ہے جبکہ نان فائلرز کیلئے پچاس ہزار روپے سے زائد کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر 0.6 فیصد ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔

سالانہ40 کروڑ سے50 کروڑ کمانےوالی کمپنیوں سے8 فیصد سپر ٹیکس لیا جائیگا،35 کروڑ سے 40 کروڑ آمدن پر سپرٹیکس کی شرح 4 سے بڑھ کر6 فیصد ہوگئی ہےسالانہ 30 کروڑ سے 35 کروڑ روپے آمدن پر 4 فیصد، 25 کروڑ سے 30 کروڑ آمدن پر 3 فیصد ،20 کروڑ سے 25 کروڑ روپے آمدن پر 2 فیصد،15 کروڑ سے 20 کروڑ روپے آمدن پر 1 فیصداورسالانہ 15 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح صفر سطح پر برقراررکھی گئی ہےاسی طرح ماہانہ دو لاکھ روپے سے زائد یعنی سالانہ 24 لاکھ سے زائد آمدن پر انکم ٹیکس 2.5 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے-

پراپرٹی کی خرید وفروخت پر ایک فیصد ٹیکس بڑھادیا گیا ہے، پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس ایک سے بڑھا کر دو فیصد کردیا ہے پراپرٹی کی خرید و فروخت سے مزید 45 ارب روپے حاصل ہوں گے۔

اس کے علاوہ ڈرگ ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ادویات سازوں اور سپلائرز سمیت پوری سپلائی چین کو بھی ٹیکس سے چھوٹ دیدی گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے مالی سال 24-2023 کے وفاقی بجٹ میں 2000 سی سی سے زائد گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کر دیاہے۔

Leave a reply