چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
altafkhandahir@gmail.com
قسط کا خلاصہ:
دوسری قسط میں چولستانی گوپوں کی ثقافت،فنون لطیفہ اور روہیلوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شاعر شاہد عالم شاہد لشاری کی شاعری اور چولستانی معیشت، جیسے مویشیوں کی پرورش اور روزگار کی کمی کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ چولستان کے لوگوں کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی اور قحط سالی کے اثرات ہیں۔ بارشوں کی کمی اور "ٹوبھوں” میں پانی کا ذخیرہ کرنے کی مشکلات نے ان کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، تعلیم کی کمی اور صحت کے مسائل بھی اہم موضوعات ہیں جن پر حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

دوسری قسط، چولستان کی زندگی کے چیلنجز
چولستان کے باسیوں کے لیے پانی کی قلت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ٹوبھوں میں جمع کیا جانے والا پانی ان کے لیے زندگی کا سہارا ہے، لیکن بارش کی کمی ان ذخائر کو ناکافی بنا دیتی ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کے باعث لوگ اور ان کے مویشی ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی نے چولستان کے لوگوں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور مقامی اسکولوں کی خستہ حالی جیسے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولیات کے بغیر لوگ معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جو کئی بار جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

چولستان کی دلکش سرزمین اپنے دھرتی جائے کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔سرائیکی وسیب کے لوگ سیدھے سادے، ریت کی طرح نرم و نازک ہیں۔نرم مزاجی،صوفیانہ امن پسند رنگ اور کلچرل روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔اپنی دھرتی کی ہر چیز سے بےپناہ محبت کرتے ہیں۔عالمی مشہور شاعر شاہد عالم شاہد لشاری جن کی گزرگزران روہی رہتل ہے۔سرائیکی وسیب کی بین الاقوامی شہرت یافتہ روہی ان کی روح ہے۔ریت اور روایت، تہذیب وتمدن،ثقافت،فنون لطیفہ میں خطاطی، موسیقی،مصوری، شاعری سب انسان کی چھپی امیدوں اور خواہشات کا خوبصورت اظہار ہے۔شاعر اپنی شاعری سے اپنے علاقے کی تاریخ،ادب اور شعور کے خزانوں کو دنیا میں اجاگر کرتاہے۔

کسی خطے کی رنگین شاعری میں جتنا بڑا کینوس ہوگا، وہ دھرتی اتنی جاندار،شاندار اور عرفان وحکمت کی بلندیوں کو چھوہے گی۔یہ کمال اللہ پاک نے سرائیکی وسیب کے شعراء کرام کو بہت زیادہ دان کیا ہے۔پاکستان کے خوبصورت حسین مادری زبانوں کے گلدستے میں سب سے زیادہ کتابیں شاعری سرائیکی زبان و ادب کی ہیں۔ سرائیکی عہد جدید کا خوبصورت کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد کا عالم شاعری میں کمال خوبصورتی جھلک رہی ہے۔

پاتے گھگھرا چولی چنی بولا بینسر
روہی دی ہک حور ٹری ہےریت نچی ہے
گوپے دیوچ پوہ دی رات کوں قصہ ٹر پئے
ڈھلدیں ڈھلدیں رات ڈھلی ہے ریت نچی ہے
کنگن والے بھاء دے مچ تے بہہ تے شاہد
"موہن” کافی جو آکھی ہے ریت نچی ہے
اجڑے گوپے کوں مٹی دے گھبکار مہکار وانگوں لگے
بھرے ٹوبھے دے چودھار ڈیکھوں جڈے مال چردا ودے
اج تاں کترن دی خوشبو نے جھمر مچائی ہے پرے تھل تلک
نین سادے مرادے کھڑن ڈیکھدے مال چردا ودے

سرائیکی ادبی فورم "فکر فرید” بانی صاحبزادہ شیر میاں خان عباسی کے دیرے روہی چولستان کنگن آلے بنگلے پر ٹھنڈی ٹھار راتوں میں بھاہ کے مچ کے اردگرد سرائیکی مشاعرہ و موسیقی کی وجد بھری آواز کی دھن سے دوشیزہ محبوبہ حسین دلربا منظر میں چنگاری بن کر ریت پر خوب رقص جھمر کرکے عاشقوں کے دلوں کو خوب بھاتی ہے۔اس کا رنگ و چہرہ غزل کا روپ ہے۔
پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
ککڑ،بیر،شرینہہ،جال پیلھوں کا درخت بھی ان کا ایک قسم کا اوپن گوپہ ہوتاہے۔جہاں ٹوبھے کے پانی کی چاہت،وہاں بیٹھ کر ککھ کانوں سے گھریلو آسائشی سامان میں موڑے بنانا، پتلی باریک لکڑی سے گوپہ تیار کرنا وغیرہ روہی کے باسیوں کے لیے ذریعہ معاش اور گزر گزران کے اوزار نعمت خداوندی سےکم نہیں ہیں۔ کانوں سے گوپے بھی تیار ہورہے ہیں۔پرانے نئے قصے بھی آشکار ہورہے ہیں۔راتوں کو جاگ کر مستی بھری یادیں تازہ کی جاتیں ہیں۔شاعر نے ایک ایک لمحہ محفوظ کرکے اپنے طلسماتی فکری صلاحیتوں سے شاعری کا نیا جہاں گوپہ تشکیل دے دیا ہے۔شاعر نے اچھوتے انداز میں اپنی بات کو اس طرح بیان کی ہے۔

کنگن آلے دے گھاٹے شرینہاں تلے رات ٹردی پئی اے
نال قصے دے قصہ پیا جاگدے مال چردا ودے
ساڈی نبھ ویسی زندگی ریت اچ
دفن تھی ویسی ہر خوشی ریت اچ
ساڈے جیونڑ دے آسرے سارے
ساڈے سکھ وی عذاب وی ریت اچ
او جو وچھڑے تاں ول تے نی آیا
مونجھ رل گئی ہے بلکدی ریت اچ
میڈی روہی تے مار ڈیوو میکوں
رت میڈی رل ونجے میڈی ریت وچ

سرائیکی جگ مشہور شاعر اسلم جاوید کا اپنے خوبصورت مزاحمتی شعری مجموعے طبل کلہاڑی میں دل بھاتے انداز میں روہی اور تھل کے صحرائی ماحول کو شاندار رنگوں میں اپنا مدعا بیان کیا۔سرائیکی وسیب میں تھل اور چولستان روہی گوپوں میں چھپا ثقافتی ورثہ حقیقت میں سادہ سماجی روایات،چاہت،خلوص، امن و رواداری کا درس ہے۔سرائیکی دھرتی روحانیت سے مالامال ہے۔یہاں کا ہر زبان بولنے والا فرد ہماری تہذیبی زمینی میٹھے پھل آم،کھجور اور شہد کی مٹھاس کا خوبصورت اظہار ہے۔ہر وسیبی کا کردار گھاٹے درخت کی چھاں ہے۔ہمارا سفر عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف ہے۔اسلم جاوید چودھری کا قصہ اپنی روہی چولستان کی چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن سے عشق کی لازوال داستان ہے۔سرائیکی شعراء کرام نے لفظ روہی کو بطور استعارہ محرومی،دہشت،وحشت، کرب وبلا، جنت،بہشت،خوشی،سنگلاخ مشکلات،ترقی،خوشحالی،،بے بسی، امن،محبت،الگ شناخت،وچھوڑا،وصل،وادی عشق، مونجھ، ڈکھ، ہمدردی،خلوص،برداشت، صبر وشکر، بے نیازی،خود اعتمادی،خواہشات کا لامتناہی روحانی سفر،تحمل،امید،آس،ملال استعمال کیا ہے۔جس نے روہی کا جو پہلو یا رنگ دیکھا اس نے وہی بیان کردیا۔
تھل، روہی چولستان الفاظ سرائیکی جہانوں کا نیا عجیب عالم حیرت ہے۔

تھل ہے قصہ مونجھ دا ۔۔۔۔۔۔۔ روہی عشق دا ناں
اکھ بھالی دا میلہ ڈیکھاں ڈھولی نال کراں
چولستان دے رنگ ہزاراں جال کرینہہ دی چھاں
کیڑھا نندروں ٹردا ویندے آرھ ارینہہ دی چھاں
جتھاں میکوں کندن ملدی اتھ شرینہہ دی چھاں
پیلوں پکیاں چݨ تے اکھیاں ڈولی ڈھاک ہے ساوی
پیلوں پکیاں لب اچ مکھیاں مونہہ مسواک ہے ساوی
پیلوں پکیاں میں نہ چکھیاں ساڈی ٻاک ہے ساوی

چولستان میں حسن وجمال بھری حیات بشریت،حیوانات اور نباتات کی بقاء کا سب سے اہم ذریعہ پانی ہے۔صحرائی علاقے میں بارش نہ ہونے کی صورت میں پانی جمع کرنے کے لیے "ٹوبھے” بنائے جاتے ہیں۔جو گوپوں کے نزدیک چھوٹے تالابوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ٹوبھوں کا پانی مقامی لوگوں اور ان کے جانوروں کی زندگی کا سہارا ہے۔جب بارش کی پھلواڑی کی پہلی پھنوار چولستان کی ریت پر پڑتی ہے تو خوشبو ہر سوں پھیل جاتی ہے۔نئی دلہن ریت بن کر خوب گنگناتی ہے۔رقص جھمر کھیلتی ہے۔تمام روہیلوں کے چہرے مسلسل خوشی اور شادی مانی کے نہ تھمنے والے احساسات کی رم جھم برسات شروع ہوجاتی ہے۔ہر طرف کھلا کھلا چہرہ نظر آتاہے۔عاشق اپنی محبوبہ کے ملن کے متلاشی نظر آتے ہیں۔برسا موسم سے پہلے ریت خوب دھمال کرتی ہے۔ابھا،لما،پوادھ پچادھ ہر طرف سریلی آوازیں آنا شروع ہوجاتیں ہیں۔شاعر خود اگر روہیلا ہو تو اس کا تخیل کمال حسین نظر آتا ہے۔نمونہ کلام مادری زبان میں ہو تو ابلاغ بہت ہی عمدہ ہوتا ہے۔

ابھے توں بدلی اسری ہے ریت نچی ہے
مینہ دی پہلی پھینگ ڈھٹی ہے ریت نچی ہے
جال اتوں پیلھوں چنڑدے نازک ہھتیں توں
مہندی دی خشبو نکتی ہے ریت نچی ہے
ٹوبھے اتے لتھین کونجاں اصلوں مونجھاں
ول سانول دی گالھ چلی ہے ریت نچی ہے

تاہم مینہ بارش کی کمی کے باعث ٹوبھے اکثر خشک ہو جاتے ہیں اور قحط سالی کا بیاباں منظر عام بات ہے۔گرمیوں میں جب درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے تو گوپوں میں رہنے والے روہیلے ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پانی کی قلت نہ صرف ان کی روزمرہ کی معاشی و سماجی زندگی کو مشکل بناتی ہے بلکہ جانوروں،چرند پرند اور سرسبز پودوں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔چولستان روہی کے سادہ نفیس،یقین کامل کی طاقت سے مالامال باشندے صحرائی علاقے میں زندگی بسر کرتے ہوئے صدیوں سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ان کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی ہے۔مگر قدرتی بارش عظیم نعمت خداوندی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔

بارشوں کا نہ ہونا صرف ان کی روزمرہ کی زندگی بلکہ ان کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ کیونکہ چولستان کا بیشتر انحصار بارشوں پر ہوتا ہےجو سال بھر میں چند بار ہوتی ہیں۔اور یہی پانی "ٹوبھہ ” نامی ذخائر میں جمع کیا جاتا ہے۔تاہم، بارش کی کمی اور ذخیرہ شدہ پانی کی محدود مقدار کی وجہ سے یہ وسائل ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ٹوبھے کے میٹھے پانی خوبصورت وادی پر انسان،حیوان،شجر، چرند پرند سبھی خوشی خوشی زندگی گزارتے اور رب العزت جلال کا شکر ورد کرتے ہیں۔مگر بارش کی کمی اور ٹوبھوں کی خشکی جیسے سخت حالات میں لوگ اپنے جانوروں اور خود اپنی بقا کے لیے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اپنی چولستان دھرتی پر بارش ہونے کی شدید تمنا نے کلاسک شاعر شاہد عالم شاھد لشاری کیا خوب تخیل تخلیق کیا ہے۔صبح سے شام تک صحرائے چولستان کے چٹیل ڈاہروں وسیع میدانوں میں سارا دن مال مویشی چرانے والے بکر وال کی گھر کی طرف واپسی سفر کو اپنے شاندار لفظوں کی رنگین چادر پہنائی ہے۔خوبصورت نظارہ کہ سارا دن چرواہا نے دعائیں مانگیں کہ ہماری طرف بارش ہوگی۔مگر پتہ چلا ابر رحمت ہماری طرف نہ آیا بلکہ پہاڑوں پر خوب برسا۔شاعر کا حسین کلام توجہ طلب ہے۔
سجھ کوں گھر تیئں پجا تےولداپئے
کوئی بکریاں چراتے ولدا پئے
ریت رل گئی ہے سر تے پھینگ نی پئی
جھڑ پہاڑیاں پسا تے ولدا پئے
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔









