fbpx

دوبڑے اداروں کا غیرقانونی زرمبادلہ آپریٹروں کیخلاف بڑے پیمانےپرکارروائی کا فیصلہ

اسلام آباد:اسٹیٹ بینک آف پاکستان اورایف آئی اے نےغیرقانونی زرمبادلہ آپریٹرزکیخلاف بڑے پیمانے پرمشترکہ کارروائی کااعلان کردیا۔

بینک دولت پاکستان کےگورنراوروفاقی تحقیقاتی ادارے کےڈائریکٹرجنرل نے8 نومبر2022کومنعقد ہونیوالےاعلیٰ سطح کےایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں زرمبادلہ کی غیرقانونی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اورملک میں انجام دی جانیوالی زرمبادلہ کی غیرقانونی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کیلئے ایک جامع لائحہ عمل وضع کیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک بھر میں زرمبادلہ کے غیر قانونی آپریٹروں اور سٹے بازوں کو پکڑنے اور قانونی کارروائی کیلئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

تھانہ پڑانگ:اغواء برائے تاوان گینگ کے 7 ملزمان گرفتار

اجلاس میں کئے گئے فیصلے کے تحت اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے نے پاکستان میں زرمبادلہ کے غیر قانونی آپریٹروں کیخلاف مشترکہ کارروائی شروع کردی۔ اس ضمن میں اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کی مشترکہ ٹیمیں ان سرگرمیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی اور ان کیخلاف تعزیری / قانونی کارروائی کریں گی تاکہ سٹے بازی اور گرے مارکیٹ کا خاتمہ کیا جاسکے۔

مرکزی بینک اور تحقیقاتی ادارے کی ٹیمیں قوانین کے تحت حاصل قانونی اختیار کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے پاکستان بھر میں غیرقانونی فارن ایکس چینج آپریٹروں اور کاروباری اداروں کیخلاف کریک ڈاؤن کریں گی۔

کارکن آج رات سےاسلام آباد کےداخلی و خارجی راستے بند کریں گے:پرویزخٹک کا اعلان

اسٹیٹ بینک کے مطابق بینکوں اور ایکس چینج کمپنیوں کو اسٹیٹ بینک پاکستان میں زرمبادلہ میں کاروبار کرنے کی اجازت دیتا ہے، فارن ایکس چینج ریگولیشن ایکٹ 1947ء کے تحت بینکوں اور ایکس چینج کمپنیوں کے علاوہ کسی فرد یا ادارے کی جانب سے زرمبادلہ کا کاروبار انجام دینا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق زرمبادلہ میں کاروبار اوپن مارکیٹ کی شرح مبادلہ پر منفی اثر ڈالتا ہے، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کی شرح مبادلہ کے درمیان فرق کو بڑھا دیتا ہے۔