کوہ سلیمان رودکوہیوں سے تباہیاں جاری،تودے گرنے سے پنجاب بلوچستان اورکٹائوسے ڈیرہ غازیخان و ڈیرہ اسماعیل خان کازمینی راستہ بند، شمتالہ میں8سالہ لڑکاجاں بحق، متعددزخمی۔
باغی ٹی وی رپورٹ۔کوہ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں سے بلوچستان پنجاب کو ملانے والی مین بین الصوبائی شاہراہ کوئٹہ روڈ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ پہاڑی تودوں کے گرنے کی وجہ سے بند ہے۔ این ایچ اے کی نااہلی کی وجہ سے گزشتہ رات سے ٹریفک بلاک ہے۔ فارملٹی کے لیے ایک گاڑی کو کھڑا کیاہواہے، این ایچ اے کی جانب سے تاحال لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں گرنے والے پہاڑی تودوں کو نہ ہٹایا جا سکا،
مسافر سیاح پھنس گئے جو انتہائی پریشان ہیں ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء ختم ہوگئی ہیں، اس وقت صورتحال انتہائی خراب ہے،بارڈر ملٹری پولیس تھانہ راکھی گاج پہاڑی تودے ہٹواکر روڈ کھلوانے میں مصروف ہے۔دوسری طرف صوبہ خیبرپختون کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا ڈیرہ غازی خان سے زمین رابطہ منقطع ہوگیا ہے ۔جت والا ناڑی کے مقام پربین الصوبائی انڈس ہائی وے پر پانی کے تیز بہا ئوسے روڈ کٹ گیا، کئی بستیوں کو بھی سیلابی پانی نے گھیر لیاہے۔ کچھی کینال کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے کادبائو برداشت نہ کرسکی ،جس سے بستی ہدیانی ائرپورٹ روڈ کے پاس کچھی کینال کا مشرقی کنارہ ٹوٹ گیا اوراب سیلابی پانی ڈی جی کینال کی جانب رواں دواں ہے جس سے سینکڑوں بستیوں کے زیرآب آنے کاشدیدخطرہ پیداہوگیاہے۔کوہ سلیمان کے علاقوں فورٹ منرو ،کھر،رونگھن، یکبائی، مبارکی، گجڑی، تھوخ ،کھرڑ بزدار،پیر گہنوں، منجھیل، ہنگلون کَچھ اور گردو نواح میں گزشتہ روز سے وقفے وقفے سے تیز بارش کاسلسلہ جاری ہے جس ندی نالوںجن می رونگھن، وڈور ندی ، زندہ پیر سوری لنڈ ندی اورسنگھرندی میں شدید طغیانی ہے،
کوہ سلیمان پر بارش سے مختلف علاقوں میں مکانات کے گرنے کی اطلاعات تمن قیصرانی شمتالہ میں قاسم کا 8سالہ بیٹا مکان گرنے سے جاں بحق باقی گھر والے زخمی بتائے جارہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کی بستیاں لوہاروالا، گدپور ،چٹ روڈ اور بستی جندانی کے لوگ نقل مکانی کرنے میں مصروف درجنوں بستیاں زیر آب آچکی ہیں۔تھانہ چوٹی کی حدود میں کھوسہ اور جلال آنی برادری کے درمیان سیلابی پانی کا کٹ لگانے پر تصادم تین افراد زخمی ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل۔تونسہ کے علاقہ کوٹ مہوئی کی مغربی جانب باندھا جانیوالا پروٹیکشن بند گٹہ مکمل کٹا ئو کی زد میں ہے جوکسی بھی وقت ٹوٹ سکتاہے۔ڈیرہ غازیخان میں بارشوں، رودکوہیوں میں طغیانی کے باعث ریسکیو عمل تیز کردیا گیا ہے،
ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد انور بریار امدادی سرگرمیاں کی نگرانی میں مصروف ہیں،ڈیرہ غازیخان میں 14تا 18اگست کے4روز کے دوران4300ریسکیو سرگرمیاں عمل میں لائیں گئیں۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122 نے ٹرانسپورٹیشن کی4290 سرگرمیوں پر کام کیا۔سیلاب سے سینکڑوں معمولی زخمیوں کو بھی ابتدائی طبی امداد دی گئی،ریسکیو ٹیموں نے14شدید زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں شفٹ کیا۔سیلاب سے دو فیز میں مجموعی طور پر235 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا ہم کہ سیلاب متاثرین کی دن رات خدمت کررہے ہیں،بارشوں کا سلسلہ تھم جانے پر ریلیف سرگرمیاں مزید تیز کردی جائیں گی،لوہار والا،کوچہ ککری،یارو کھوسہ،حیدر چوک،کوٹ مبارک،بستی بزدار میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،تونسہ کی بستیوں منجوتھہ،مگروتھہ،کلاچی،سوکڑ،کھر بزدار،جلو والی،وہوا،مندرانی،جٹ والا میں سیلابی پانی موجود ہے،دیگر والی،چوکی والا سے سیلابی پانی نکل چکا ہے،انہوں نے کہا کہ کوٹ چھٹہ کی بستیوں کمہار والی،رمدانی،تالپور،سہرانی میں ریسکیو آپریشن جاری ہے،متاثرین صبر سے کام لیں،انہیں تمام سہولیات موقع پر فراہم کریں گے۔