fbpx

دنیا تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کئی عجیب و غریب خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہیں انسان کے اندر خنزیر کا دل لگا کر اس کو نئی زندگی دے دی گئی ہے۔ تو کہیں ایک ویڈیو میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ چین نے مصنوعی سورج کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے جو اصل سورج سے کئی گنا زیادہ بڑا ہے۔ کہیں خلا سے ہی سائنسدان سٹوڈنٹس کو Space science
پر لیکچر دے رہے ہیں تو کئی ممالک ایسے بھی ہیں جو کہ خلا میں جنگی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین دوربین کو خلا میں بھیجا گیا ہے تاکہ اس کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے تو دوسری طرف اڑنے والی کاروں کا بھی تجربہ کر لیا گیا ہے۔

لیکن جو خبر اس وقت سب سے زیادہ ڈسکس ہو رہی ہے وہ انسان کے اندر خنزیر کا دل لگانے کے حوالے سے ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس ٹیم میں ایک پاکستانی ڈاکٹر بھی شامل ہے جس نے یہ تجربہ کیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس تجربے کے لئے خنزیر کا دل ہی کیوں منتخب کیا گیا کسی حلال جانور کا دل کیوں نہیں استعمال کیا گیا۔اس سوال کا جواب تو بہرحال سائنس کی روشنی میں ہی مل سکتا ہے لیکن میں جس بات کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج کل اس طرح کی عجیب و غریب خبریں اتنی زیادہ کیوں آ رہی ہیں۔اس وقت یہ تمام کام اتنی آسانی سے کیسے ہو رہے ہیں جو اب سے پہلے تک نا ممکنات میں سے تھے۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہے کہ یہ سب اس لئے ممکن ہو گیا ہے کیونکہ سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ سائنس کی یہ بے پناہ ترقی دراصل ہم انسانوں کے لئے ایک اشارہ بھی ہے کہ یہ دنیا اب بہت تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ سائنس کے یہ کرشمات دراصل وہ واقعات ہیں جن کا حوالہ ہمیں دجال کی آمد اور قیامت کی نشانیوں میں ملتا ہے۔دجال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ظہور کے بعد ہر طرف فتنہ و فساد برپا کردے گا۔ دجال کی شعبدہ بازیاںmesmarismدھوکے وغیرہ کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کو اس کے جن ہونے کا گمان ہوگا لیکن دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے مسیح، پھرنبی کہے گا اور اسکے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔ اور لاعلم لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کو پھانستا چلا جائے گا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا۔۔
جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے، اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اس کے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔
قابل غور بات یہ بھی ہے کہ دجال اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی ہوں گے یعنی یہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اورعورتیں ہوں گی۔۔۔
دراصل یہودی جس مسیح کا انتظار کر رہے ہیں وہ وہی دجال ہوگا جس کے پاس غیر معمولی طاقتیں ہوں گی جس سے وہ لوگوں میں شر پھیلائے گا۔
دجال کی طاقتوں کے حوالے سے احادیث میں لکھا ہے کہ۔۔
اس کے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جو پانی نظر آئے گا وہ آگ ہوگی۔۔۔
اس دجال کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا۔۔ مطلب یہ کہ اس کے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہوں گے۔۔۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ وہ اس زمین پر کتنی تیزی سے چلے گا؟
آپؐ نے فرمایا: جس طرح ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا۔ اس گدھے کے کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین کوبھیجے گاجو لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔
وہ ایک بدو سے کہے گا اگر میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہارے لیے دوبارہ زندہ کروں تو تم کیا کروگے؟
کیا تم شہادت دو گے کہ میں تمہارا خدا ہوں؟
بدو کہے گا۔۔ ہاں۔۔ چنانچہ دو شیاطین اس بدو کے ماں اور باپ کے روپ میں اس کے سامنے آجائیں گے اور کہیں گے ہمارے بیٹے اس کا حکم مانو یہ تمہارا خدا ہے۔

دجال کسی دیہاتی سے کہے گا کہ میں اگر تمہارے اونٹ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے رب ہونے کی گواہی دو گے؟
وہ کہے گا: ہاں تو دجال کے ساتھی شیاطین اس دیہاتی کے اونٹ کی شکل اختیار کر کے آ جائیں گے۔
دجال کسی علاقے میں سے گزرے گا اور اس علاقے کے لوگ دجال کی تکذیب کردیں گے تو اس کے نتیجے میں ان کا کوئی جانور نہیں بچے گا سب ہلاک ہو جائیں گے۔ دوسرے علاقے سے گزرے گا جہاں کے لوگ اس کی تصدیق کریں گے تو اس کے نتیجے میں دجال آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسانے لگے گا زمین کو حکم دے گا تو زمین خوب غلہ اگانے لگے گی ان ماننے والوں کے مویشی شام کو اس حال میں آئیں گے کہ وہ پہلے سے زیادہ بڑے اور فربہ ہوں گے ان کی کوکھ بھری ہوئی ہوں گی اور ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔
دجال اپنے نہ ماننے والوں سے اس کا مال و متاع چھین لے گا اور اپنے ماننے والوں کو دنیا کے ہرایک ظاہری مال و دولت سے خوب نواز دے گا۔ مرے ہوئے انسانوں کو زندہ کر دے گا۔ پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دے گا۔
اس کا قبضہ ان تمام وسائل پر ہوگا جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہیں مثلا پانی آگ اور غذا پر۔۔ اس کے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہوں گے اس کی دسترس تمام قدرتی وسائل پر ہوگی مثلا بارش فصلیں قحط اور خشک سالی وغیرہ۔ وہ ایک نقلی جنت اور دوزخ بھی اپنے ساتھ لائے گا۔
یعنی یہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا فتنے کا دور ہوگا جس میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک بے شمار ہلاکتیں ہوں گی بھوک و پیاس کی آزمائشیں ہوں گی۔ بے انتہا سختیاں مصیبتیں پریشانیاں بیماریاں اور طرح طرح کے دھوکے ہوں گے۔ دجال کے ظاہر ہونے سے تین سال پہلے بارشوں کا سلسلہ ایسا ہوگا کہ پہلے سال آسمان سے ایک تہائی بارش رک جائے گی پھر دوسرے سال دو تہائی بارش رک جائے گی پھر تیسرے سال مکمل بارش رک جائے گی۔ اسی لیئے یہ فتنے بہت سخت ہو جائیں گے اور یہ آزمائشیں بھی سخت ہوں گی۔

اب آپ ان تمام نشانیوں پر غور کریں تو وہ کونسا ایسا کام ہے جو اس وقت نہیں ہو رہا۔ ایک طرف انسان میں خنزیر کا دل ڈال کر زندگی اور موت کو اپنے ہاتھ میں لینے کا تجربہ ہو چکا ہے۔دوسری طرف انسانی دماغ میں چپ ڈالنے کی بات ہو رہی ھے۔چینی ساختہ ایک نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر جسے مصنوعی سورج کا نام دیا گیا ہے اس نے 17 منٹ سے زیادہ دیر تک مسلسل سورج سے پانچ گنا زیادہ گرم چلنے کے بعد بلند درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔اور اب مصنوعی سورج کے بعد وہ مصنوعی چاند پر بھی کام کررہے ہیں۔لیکن انسانی ترقی نے جہاں تیزی سے Ecosystem کو تباہ کر دیا ھے وہیں دنیا تیزی سے گلوبل وارمنگ کی تباہ کاریوں کی طرف بھی بڑھ رہی ھے سال2021 پانچواں لگاتار سال تھا جو گرم ترین رہا اور دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔ آسمان سے بارشیں برسنا پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہیں اور اس سے ماحول پر جو اثر پڑ رہا ہے اس کو دور کرنے کے لئے مصنوعی طریقوں سے اب بارشیں برسائی جاتیں ہیں۔چین سال2021
میں 55 خلائی مشنز انجام دے کردنیا میں سب سے زیادہ خلائی مشن مکمل کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی چین کا ہی کارنامہ ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ اپنے خلائی اسٹیشن سے تدریسی سرگرمیوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔اور اس
Space classکی سب سے خاص بات یہ ہے کہ تینوں ٹیچرز زمین سے تقریبا چار سو کلومیٹر کی بلندی سے بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے اور چین کے پانچ مختلف شہروں میں قائم کئے گئے پانچ کلاس رومز میں کل 1420 سٹوڈنٹس نے ایک ساتھ اس خلائی لیکچر میں شرکت کی۔امریکہ، جرمنی، فرانس اور چین خلاء میں فوجی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ اڑنے والی گاڑیاں جو آج تک ہم نے فلموں یا کارٹونز میں دیکھیں تھیں مگر اب دبئی میں اس اڑنے والی سوپرگاڑی کا کامیاب تجربہ کرلیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ قدرتی وسائل پر پہلے ہی چند کمپنیوں کا قبضہ ہو چکا ہے پانی جیسی نعمت بھی اب عام انسانوں کو بازار سے خرید کر پینا پڑتی ہے۔ زراعت میں بھی مختلف تجربات کرکے مصنوعی طریقوں سے اب پیداواروں کو کئی گنا زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ جانوروں کے فارم بنا کر اور مختلف Steroidsکا استعمال کرکے ان کو وقت سے پہلے کھانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ گائے بھینسوں کو انجیکشنز لگا کر ڈبل مقدار میں دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔جانور تو جانور انسانوں پر بھی Genetic تبدیلیوں کی طرف تیزی سے ریسرچ کرکے انسان کی ساخت میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ In shortیہ کہ وہ تمام نشانیاں جو کہ ہم دجال کی آمد کے ساتھ منسوب کرتے ہیں وہ ایک طرح سے پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ہم ان تمام فتنوں کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ احادیث میں دجال کی نشانیاں بتائے گئے ہیں۔

لیکن جہاں ہمیں ہماری احادیث کی کتابوں میں دجال کے فتنوں کے بارے میں بتایا گیا ہے وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دجال آئے گا لیکن اس کے لیے مدینہ میں داخل ہونا ممنوع ہوگا وہ مدینہ کے مضافات میں کسی بنجرعلاقے میں خیمہ زن ہوگا۔ اس دن بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ میں تصدیق کرتا ہوں تم وہی دجال ہو جس کا حلیہ ہمیں اللہ کے نبیؐ نے بتایا تھا دجال لوگوں سے کہے گا کہ اگر میں اسے قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں؟ تو کیا تمہیں میرے دعوی میں کوئی شبہ رہے گا؟ وہ کہیں گے نہیں۔۔ پھر دجال اسے قتل کر دے گا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر دے گا تب وہ آدمی کہے گا کہ اب میں تمہاری حقیقت کو پہلے سے زیادہ بہتر جان گیا ہوں۔ دجال اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن ایسا نہیں کرسکے گا۔ وہ اس مومن کو دوبارہ نہیں مار سکے گا اور دوبارہ مارنے کی طاقت کھو بیٹھے گا۔
ایمان والوں کا وہ کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جو سب ترقیاں ہو رہی ہیں وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہی ہیں۔ اور یہ ہم سب کے لئے آزمائش ہیں کہ ہم اس ترقی کو ہی سب کچھ نہ مان لیں بلکہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہا ہے۔