دنیاکی زندگی آزمائش،فیصلے عدل سے ،یوم آخرت کی تیاری کریں،خطبہ حج

0
122
khutba hajj

سعودی عرب: مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیا گیا،الشیخ خطيب ماهر المعيقلي نے خطبہ حج دیا.

امام الشیخ خطیب ماہر المعقیلی نے خطبہ حج میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نےحضرت محمدﷺکو رحمت بناکر بھیجا،اللہ تمام چیزوں پر قدرت رکھتا ہے، اس نے قرآن کو اتارا، ایک ایسی کتاب ہے جس میں حکم پورے ہیں، اللہ تمام باتوں کو جاننے والا ہے، انکے بشارت ہے جو نیک اعمال کرتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور کوئی عبادت کے لائق نہیں، اللہ نے ہماری جانب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر احسان فرمایا، یہ اللہ کی رحمت کی علامت ہے، وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں، اللہ کی بات کو مانتے ہیں اور جو حکم انکو دیا جاتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں، نیکی کا کام کرتے اور برائی سے رکتے ہیں، یہ لوگ حقیقت میں کامیاب ہیں،تم سب پر لازم ہے کہ اللہ پر ایمان لے کر آؤ اور رسولوں پر ایمان لے کر آؤ، تم اتباع کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ، فلاح پا جاؤ، اے لوگو، اللہ کا خوف اختیار کرو اور اس دن سے ڈرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو نہیں پہچانتا ہو گا، اللہ کا وعدہ حق ہے، دنیا کی زندگی آزمائش ہے یہ کہیں دھوکے میں نہ ڈال دے، وہ لوگ جو تقویٰ اختیار کرتے اللہ انکو کامیاب کرتا ہے،اور اسکو وہاں سے نوازتا ہے جو اسکی سوچ میں نہیں ہوتا.جو تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اسکے تمام گناہوں کو معاف کرے گا تقویٰ کی کئی صورتیں ہیں، اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے، کسی صورت شرک نہ کیا جائے، کسی اور سے مدد نہ مانگی جائے.

شراب اورجواشیطانی عمل ،جومومنوں کوتکلیف دیتےہیں کبھی فلاح نہیں پاسکتے.خطبہ حج
خطبہ حج میں امام کا مزید کہنا تھا کہ اے ایمان والو اللہ کی بات کرو اور انصاف کی بات کرو ،شیطان کے دھوکوں اور وسوسوں سے خود کو محفوظ رکھو ،اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جو ظلم کا راستہ اختیار کرے گا اس سے انتہائی خطرناک اور انتہا درجے کا عذاب ہوگا ،اے ایمان والو بدگمانی سے بچو غیبت سے بچو ،ایک گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے،اے لوگو ایک دوسرے کو برے القابات سے مت پکارو،جو مومنوں کو تکلیف دیتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاتے،اللہ تعالیٰ نے دین اسلام لوگوں کیلئے پسند کیا ہے،اللہ حکم دیتا ہے کہ خیر کی طرف جائیں، برائی سے رکیں ایمان سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹیں،اللہ جانتا ہے جو ہم کرتے ہیں، ہم امانت کو اسکے مالک تک پہنچائیں، فیصلہ عدل سے کریں، اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو، اسکے رسول کی اطاعت کرو، یوم آخرت کی تیاری کرو، اسکی فکر کرو، ہم پر لازم ہے جو شریعت نے ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ڈالی اسکو پورا کریں،لازم ہے کہ دنیا کے حوالے سے جتنے احکامات دیئے گئے ہیں، انکو پورا کریں،اسلام امانت میں خیانت سے منع کرتا ہے،اسلام فحاش اور بے حیائی سے منع کرتا ہے ،ایک دوسرےسےتعاون کرواورمددکاجذبہ قائم رکھو،قرآن کہتاہےجوظلم کرتاہےاس کی پکڑہوگی،اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرکےدرجات بلندکرنےوالاہے،شراب اورجواشیطانی عمل ہے،جومومنوں کوتکلیف دیتےہیں کبھی فلاح نہیں پاسکتے،اللہ تعالیٰ تمہارےاعمال کوجاننےوالاہے،اللہ تعالیٰ سننےاوردیکھنےوالاہے،اللہ تعالیٰ فرماتاہےناحق کسی کوقتل نہ کرو،اللہ تعالیٰ فرماتاہےکسی کامال ہڑپ نہ کرو،اللہ تعالیٰ نےانسانوں کواپنی عبادت کےلیےپیداکیا.اللہ تعالیٰ کےسواکوئی عبادت کےلائق نہیں،اللہ تعالیٰ عظیم ہےاوربہت بڑی حکمت والاہے،نمازبرائی سےبچاتی ہے،زکوۃ اداکرو،حقوق العبادکاخیال رکھو،قرآن پاک میں لوگوں کےلیےہدایت موجودہے،ارکان اسلام کی پیروی میں ہی ہدایت موجودہے،

دوسری جانب میدان عرفات میں شدید گرمی کے باعث یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے،حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ آج اداکیا جارہا ہے اور مکہ مکرمہ میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے، اس دوران عازمین کو گرمی سے بچانے کیلئے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں ، عرفات میں فضا کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے فواروں کا استعمال کیا جارہا ہے، میدان عرفات میں درجہ حرارت47 سینٹی گریڈ تک پہنچنےکی پیشگوئی کی گئی ہے،سعودی محکمہ موسمیات نے حجاج کو کھلے مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے ،

میدان عرفات مکہ مکرمہ سے 22 کلومیٹر دور ہے جبکہ وادی منی سے اس کا فاصلہ 10 اور مزدلفہ سے 6 کلومیٹر ہے ،اور یہ پیدل طے کرنا ہے اور آج 45 سنٹی گریڈ گرمی ہے ،آج میدان عرفات میں حج کے رکن اعظم کی ادائیگی کے بعد سورج غروب ہوتے ہی زائرین عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع مزدلفہ کا رخ کریں گے اور رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے،اس کے بعد مزدلفہ سے کنکریاں جمع کرنے کے بعد وہ جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں اور حج کے آخری رکن کی ادائی کے لیے واپس خانہ کعبہ آ کر طواف کرتے ہیں۔

میدان عرفات کا رقبہ 33 مربع کلو میٹر ہے۔ یہ مکہ سے مشرق کی جانب طائف کی راہ پر 21 کلو میٹر دور ایک بڑا وسیع و عریض میدان ہے جہاں دنیا کے گوشے گوشے سے آنے والے عازمین حج 9 ذی الحجہ کو جمع ہوتے ہیں۔یہ میدان شمال سے جنوب تک 12 کلو میٹر اور مشرق سے مغرب تک پانچ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ شمالی جانب سے عرفات نامی پہاڑی سلسلے میں گھرا ہوا ہے،میدان عرفات حرم مکی سے باہر واقع ہے اور مقاماتِ حج میں وہ واحد جگہ ہے جو حدود حرم سے خارج ہے۔میدان عرفات چند برسوں قبل تک چٹیل میدان ہوتا تھا۔ کہیں کہیں گھاس نظر آجاتی تھی لیکن اب صورتحال مختلف ہے یہاں شجر کاری کی گئی ہے

Leave a reply