فیملی کو قتل سمیت دیگر سنگین خطرات کا سامنا، وزیراعظم، چیف جسٹس اور وفاقی وزیر داخلہ انصاف فراہم کرے،زکیہ نورین خٹک

0
58
zakia noreen

خیبر پختونخوا کے ضلع کرکے سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی سرگرم رکن پاکستانی امریکن خاتون زکیہ نورین خٹک کی فیملی کے دو بچے مقامی طالبان تشدد پسند گروپ نے اغواء کرکے انکی رہائی کے بدلے 80 لاکھ روپے تاوان مانگ لیا،فیملی کو قتل سمیت دیگر سنگین خطرات کا سامنا، وزیراعظم، چیف جسٹس اور وفاقی وزیر داخلہ سے انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل،تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع کرکے سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی سرگرم رکن پاکستانی امریکن خاتون زکیہ نورین خٹک نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ اپنے خاندان کی واحد اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں اور ایم بی اے کرنے کے بعد علاقے کی خواتین کے حقوق اور اُن کی بہتری کیلئے میدان عمل میں قدم رکھا اور ویمن اویرننس ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لا کر علاقے خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے کئی پرا جیکٹس پر بھی کام کیا،اس دوران ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نےممبر آف ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اور بیت المال کمیٹی منتخب کر لیا،

ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کےممبر کے حیثیت سے میں نے بیوہ اور غریب خواتین بشمول کچھ کرسچین خواتین کے نام بیت المال سے جاری ہونے والے فنڈز کیلئے دیئے جس پر مجھے سخت تنقید کا سامناکرنا پڑا،جس پر میں نے جواب دیا کہ آئین پاکستان کے مطابق بیت المال سے جاری ہونے والے فنڈز پر دوسروں کا بھی حق ہے مگر کمیٹی کے دیگر ممبران نے مجھے ہدف تنقید بنایا اور لوگوں میں یہ جھوٹی خبر پھیلا دی کہ یہ بھی کرسچن بن گئی ہے،جس پر علاقے کے طالبان نے مسجد کے لاؤڈ اسپیکرپر میرے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا، اس کے بعد علاقے کےتشددپسندطالبان کے ایک گروپ نے میرے بھائی اکرام اللہ اور ان کے دو بچوں کو 80 لاکھ روپے تاوان کے عوض اغواء کر لیا اور اب ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اگر ہم نے انصاف کا مطالبہ کیا تو ہمیں قتل کر دیا جائے گا، جبکہ میرے والد پر پتھراؤ بھی کیا گیا اور ہمیں اپنے علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ہم 2009 میں پشاور چلے گئے جس کے بعد میں اپنے ننھے بیٹے کے ساتھ امریکہ ہجرت کر گئی،میرے جانے کے بعد طالبان میری فیملی کو ہراساں کرتے رہے اور یہ سلسلہ پچھلے 24 سالوں سے جاری ہے۔ میں اپنی فیملی کی فلاح و بہبود اور اپنے والدین کی زندگی کیلئے آج بھی انصاف کی متلاشی ہوں ، زکیہ نورین خٹک نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی سےاپیل کی کہ انہیں اور انکی فیملی کوانصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ آزادانہ اپنی زندگی گزار سکیں۔

Leave a reply