فاقی کابینہ کا ایک اجلاس ہواجس میں انہوں نے نیب بارے تیسری ترمیم کرنے کا بل 2022 منظور کر لیا ہے.
نئے بل کے مطابق: نیب 500 ملین روپے سے کم کرپشن کیسز کی تحقیقات نہیں کر سکے گا جبکہ احتساب عدالت کے ججز کی تقرری سے متعلق صدر کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے.
نئے بل قوانین کے تحت پراسیکیوٹر جنرل نیب کی مدت ملازمت میں 3 سالہ تک کی توسیع کی جا سکے گی.
علاوہ ازیں: نیب قانون کے سیکشن 16 میں بھی ترمیم کر دی گئی ہے
نئے بل کی رو سے ملزم کے خلاف اسی علاقے کی احتساب عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکے گا جہاں جرم کا ارتکاب ہوا ہو. جبکہ نیب کو ہائیکورٹ کی مدد سے نگرانی کی اجازت دینے کا اختیار واپس لے لیا گیا.
نئے بل میں یہ بھی درج ہے کہ ملزمان کے خلاف تحقیقات کے لیے کسی سرکاری ایجنسی سے مدد نہیں لی جا سکے گی بلکہ آئین اور قانون کے مطابق کروائی ہوگی.
اس تیسری ترمیم میں یہ بھی شامل ہے کہ: چیئرمین نیب فرد جرم عائد ہونے سے قبل عدالت میں دائر ریفرنس ختم کرنے کی تجویز کر سکیں گے جبکہ بل کے تحت احتساب عدالتوں کے ججز کی تقرری کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہی رہے گا.