گذشتہ ماہ بالی وڈ فلموں کی ڈانسراور کئی فلموں کے لیے کریوگرافی کرنے والی 33 سالہ خاتون نے دعوی کیا تھا کہ معروف کریوگرافر گنیش اچاریہ نے انہیں ’پورن فلمیں‘ دیکھنے پر مجبور کیا
خاتون نے کہا تھا کہ وہ گنیش اچاریہ کے ساتھ ابتدائی طور پر بطور ڈانسر کام کرتی تھیں اور بعد ازاں وہ خود کریوگرافر بنیں اور ان کے ساتھ کام کرتی رہیں خاتون نے کہاتھا کہ بالی وڈ کریوگرافر نے انہیں اپنے دفتر بلاکر اپنا لیپ ٹاپ دیا اور انہیں پورن ویڈیوز دیکھنے پر مجبور کرنے سمیت جنسی تسکین پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا
خاتون نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ گنیش اچاریہ جب سے انڈین فلم اینڈ ٹیلی وژن کریوگرافرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے انہوں نے انہیں ہراساں کرنا شروع کیا
خاتون نے مزید کہا تھا کہ گنیش اچاریہ نے ان سے اپنی کمائی میں سے کمیشن دینے کا بھی کہا اور انہیں طرح طرح سے ہراساں کرنے لگے اور ایسا نہ کرنے پر انہوں نے ان کی آئی ایف ٹی سی اے کی رکنیت بھی معطل کردی خاتون نے گنیش اچاریہ کے خلاف بھارت کی نیشنل کمیشن فار وویمن میں شکایت درج کروانے سمیت کریوگرافرز کی تنطیم میں بھی ان کے خلاف شکایت درج کروائی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ انہیں انصاف فراہم کرنے میں مدد دی جائے
خاتون کی جانب سے جنسی ہراسانی آنے کے محض 2 دن بعد ہی گنیش اچاریہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تو ٹھیک طرح سے خاتون کو جانتے ہی نہیں البتہ انہیں یاد ہے کہ وہ ان کے ساتھ 2007 میں بیک ڈانسر کے طور پر کام کر چکی ہیں
ممبئی پولیس نے کوریوگرافر خاتون کی درخواست پر گنیش اچاریہ کے خلاف 5 فروری کو ایف آئی آر درج کی تھی علاوہ ازیں پولیس نے مقدمے میں 2 خواتین کو بھی شامل کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے گنیش اچاریہ کی ہدایات پر شکایت کرنے والی خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا
مقدمے میں نامزد مزید 2 خواتین کے حوالے سے شکایت درج کروانے والی خاتون نے دعوی کیا تھا کہ مذکورہ دونوں خواتین نے انہیں گذشتہ ماہ 26 جنوری کو ہونے والے ایک ایونٹ میں گنیش اچاریہ کی ہدایات پر تشدد کا نشانہ بنایا اور ساتھ ہی ڈانسر و کرریو گرافر خاتون نے دونوں خواتین پر جنسی ہراسانی کے الزامات بھی لگائے تھے
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ گنیش اچاریہ کے خلاف خاتون کو جنسی ہراسانی کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے اس سے قبل 2018 میں اداکارہ تنوشری دتہ کی شکایت پر بھی ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا