پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ فنکار، میزبان اور مزاحیہ اداکار معین اختر کی 72 ویں سالگرہ پر گوگل نے اپنے ڈوڈل سے انہیں ایک شاندار خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

باغی ٹی وی :آج رات رات 12:00 بجتے ہی گوگل کے اسکرین پر معین اختر کا ڈوڈل نمایاں ہوگیا گوگل نے کئی ماڈلوں کے ٹی وی پر اپنا نام اور معین اختر کے کرداروں والی تصاویر دکھائی ہیں۔

معین اختر 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے فنی کیرئیر کا آغاز 6ستمبر 1966ء کو پاکستان کے پہلے یوم دفاع کی تقاریب کے لیے کیے گئے پروگرام سے کیا موین اختر نے 14 برس کی عمر سے ہی تھیئٹر پر کام شروع کردیا تھا۔ انہوں نے شیکسپیئر کے ڈراموں میں اپنی شاندار اداکاری کی۔ پی ٹی وی پر انتظار فرمائیے میں معین اخترکا کردار بہت پسند کیا گیا۔

معین اختر اپنے زبردست مشاہدے ٹائمنگ، ذہانت اور برجستہ اداکار کی باعث نہ صرف پاک وہند بلکہ دنیا بھر میں عالمی شہرت رکھتے تھے انہوں نے لاتعداد ڈراموں، اسٹیج شو، فلموں اور دیگر پلیٹ فارم پر اپنے فن کا جادو جگایا انور مقصود کے لکھے ہوئے شاندار پروگرام لوز ٹاک میں انہوں ںے سینکڑوں کردار ادا کئے جو ایک سے بڑھ کر ایک تھے اور امر ہوگئے۔

لیجنڈ اداکارمعین اخترنے ریڈیو ٹی وی اور فلم میں ادا کاری کے کئی یادگار جوہر دکھائے، 44 سال تک کامیڈی اداکاری گلوکاری اور پروڈکشن سمیت شوبز کے تقریباً ہرشعبے میں ہی کام کیا معین اختر نے طنز و مزاح سے بھرپور جملوں میں تہذیب کا ایک نیا پہلو متعارف کروایا، فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں معین اختر کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

معین اختر کے معروف ٹی وی ڈراموں اور پروگرام میں روزی، انتظار فرمائیے، بندر روڈ سے کیماڑی، آنگن ٹیڑھا، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، یس سر نوسر، عید ٹرین،مرزا اور حمیدہ، ہاف پلیٹ ،بکرا قسطوں پہ، کچھ کچھ سچ مچ، اور کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں۔

معین اختر نے 1974 میں فلم، تم سا نہیں دیکھا، مسٹر کے ٹو اور مسٹر تابعدار میں بھی اپنے کام سے شائقین کو خوب لطف اندوز کیا جس پر انھیں پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازاگیا۔

فن کی دنیا میں مزاح سے لیکر پیروڈی تک اسٹیج سے ٹیلی ویژن تک معین اختروہ نام ہے جس کے بغیر پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ نامکمل رہے گی۔

شو بز کے ہر شعبے میں نظر آنے والے فنکار معین اختر 22 اپریل سن 2011ء کوکراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے لیکن ان کی یادیں آج بھی مداحوں کے چہروں پر موجود مسکراہٹوں میں زندہ ہیں۔

Shares: