اسلام آباد:معروف صحافی سلیم صافی نے فیک نیوز ،جھوٹ اور من گھڑت خبروں کی روک تھام کےلیے بنائے جانے والے قانون پرتنقید کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے
سلیم صافی جو کہ اس قسم کے جستجو میں بڑے ماہر مانے جاتے ہیں ایک نئی چیز سامنے لائے ہیں ، اور یہ وہ چیز ہے کہ جس کو معلوم کرنے کےبعد ہرکوئی حیران رہ گیا ہے ،
فیک نیوزپھیلاناپی ٹی آئی کامستقل وطیرہ ہے۔عمران خان کےدورہ روس کے بارےمیں حکومتی ترجمان یہ فیک نیوزتسلسل کےساتھ پھیلارہےہیں کہ کسی پاکستانی حکمران کاپچیس سال میں یہ پہلادورہ روس ہےحالانکہ زرداری ۲۰۱۱ میں دورہ کرچکےہیں۔کیا پیکا آرڈیننس کےتحت ان ترجمانوں کےخلاف کاروائی ہو گی؟ pic.twitter.com/CANt7j06u7
— Saleem Safi (@SaleemKhanSafi) February 23, 2022
سلیم صافی کہتے ہیں کہ :فیک نیوزپھیلاناپی ٹی آئی کامستقل وطیرہ ہے۔عمران خان کےدورہ روس کے بارےمیں حکومتی ترجمان یہ فیک نیوزتسلسل کےساتھ پھیلارہےہیں کہ کسی پاکستانی حکمران کاپچیس سال میں یہ پہلادورہ روس ہے ،سلیم صافی کہتے ہیں کہ حالانکہ زرداری 2011 میں دورہ کرچکےہیں۔کیا پیکا آرڈیننس کےتحت ان ترجمانوں کےخلاف کاروائی ہو گی؟
خیال رہے کہ حکومتی ترجمانوں کی طرف سے جو تازہ بیان جاری کیے جارہے ہیں اس کےمطابق فواد چوہدری نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس کے حوالے سے کہا ہے کہ 23 سال بعد کسی پاکستان کی طرف سے سربراہ ریاست کا یہ دورہ ہوگا،
یاد رہے کہ وزیراعظم کے روس کے دورے کے دوران دونوں ممالک کراچی سے لاہور پائپ لائن بچھانے کیلئے نارتھ سائوتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت متوقع ہے ،رو سی صدر پیوٹن اور پا کستانی وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات سے ملنے والے اشاروں کو امریکہ غور سے دیکھے گا۔
وزیراعظم عمران خان روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی دعوت پر 23 سے 24 فروری تک روس کے سرکاری دورے پر روانہ ہورہے ہیں۔بین الاقوامی مبصرین اس دورے کو ایک ایسے وقت میں انتہائی تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں جب دنیا ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان شدید عالمی محاذ آرائی اور دوسری طرف روس اور چین کے عالمی اتحاد میں تبدیلی کا مشاہدہ کر رہی ہے۔اس دورے سے کئی اہم شعبوں میں دوطرفہ معاہدے ہونے کا امکان ہے جبکہ پاکستان اور روس کے درمیان عالمی اور علاقائی سلامتی کے معاملات بالخصوص افغانستان اور وسطی ایشیا کی صورتحال پر تعاون میں اضافہ ہوگا۔
اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس دورے کے دوران امکان ہے کہ دونوں ممالک کراچی اور لاہور کے درمیان پائپ لائن بچھانے کے لیے نارتھ سائوتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر آگے بڑھنے کے لیے اقدامات کا اعلان کریں گے۔اس معاملے پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک پہلے ہی ضروری حقائق پر کام کر چکے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ باضابطہ طور پر اس منصوبے کو شروع کرنے کا اعلان کیا جائے جبکہ آئندہ برسوں میں پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مزید اقدامات کا اعلان کرنے کی بھی تیاری کر رہے ہیں۔