ہائے غربت.تحریر:مبین خان

0
41

کثر و بیشتر لوگ کہا کرتے ہیں کہ غریبوں سے ہمدردی کرنا چاہیے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ غریبی بہت اچھی چیز ہے، اسلام غریبی میں پھلا پھولا ہے، کبھی کسی غریب کو دیکھا تو کہا ہائے ہائے، کبھی غریب کو دیکھا تو بات بھی نہیں کی، کبھی ساتھ بیٹھنے بھی نہیں دیا، بعض لوگ ساتھ لیکر کہیں جانے کے لئے تیار نہیں، بعض لوگ بات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔

انسان جب کسی دوسرے کو اپنے سے بھی زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہے تو کچھ تسلی ہوتی ہے،اسے کچھ جینے کا حوصلہ ملتا ہے
انسان جب کسی دوسرے کو اپنے سے بھی زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہے تو کچھ تسلی ہوتی ہے،اسے کچھ جینے کا حوصلہ ملتا ہے کہنے کو تو ہر امیر ہر دولتمند یہ بات کہتا ہے کہ پیسہ ہاتھ کی میل ہے آج میرے ہاتھ کل کسی اور کے ہاتھ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دولتمند ہوتے ہی مزاج کیوں بدل جاتا ہے۔معلوم یہ ہوا کہ یہ بات وہ ایک محاورے کے طور پر کہہ رہا ہے، دکھاوے کے لئے کہہ رہا ہے حقیقت میں اسے اس بات کا یقین ہے کہ آج میرے پاس پیسہ ہے تو سب کچھ ہے میں جو چاہوں کرسکتا ہوں حکومت بھی غریبی کے خاتمے کا نعرہ بلند کرتی ہے بلکہ پوری دنیا غریبی کے خاتمے کی بات کرتی ہے لیکن جب سے دنیا قائم ہوئی ہے تب سے امیری و غریبی دونوں ہیں، اس لیے کہ یہ نظام الٰہی ہے اور ویسے بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا میں ہر شخص ایک برابر ہوتا تو دنیا میں کیسے امن و امان قائم رہتا۔جب دنیاوی سطح پر یہ نظام قائم ہے کہ ہر آدمی ایک برابر نہیں ہے تو پھر قدرت کے قانون کو کیسے چیلنج کیا جاسکتا ہے اگر قدرت نے سب کو ایک برابر کیا ہوتا تو سب ووٹ مانگتے پھر ووٹ دیتا کون۔
پوری دنیا کے انسانوں کا چہرہ الگ الگ ہے، آنکھوں کا لینز الگ ہے، ہاتھوں کا فینگر الگ الگ ہے یہ تینوں چیزیں اس بات کا اعلان کررہی ہیں کہ قدرت کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے اے انسانو! اگر قدرت تمہیں چھپر پھاڑ کر دے سکتی ہے تو چمڑی ادھیڑ کر لے بھی سکتی ہے اس لئے غریبوں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو، غریبوں کا دل نہ دکھاؤ فرعون لاؤ لشکر سمیت دریائے نیل میں غرق کردیا گیا، قارون خزانہ سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا، نمرود کو ایک مچھر کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا، شداد کو خود اس کی بنوائی ہوئی جنت کی چوکھٹ پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیاپھر آج کا انسان کس کھیت کی مولی ہے جو یہ سوچ رہا ہے کہ ہم مالدار ہیں تو ہمارا بال بیکا نہیں ہوسکتا ایک دولتمند کے گھر میت ہوتی ہے پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح خبر پھیل جاتی ہے اس کے آخری رسومات میں لوگوں کا اژدہام ہے

تاحد نگاہ جم غفیر ہے بڑے بڑے امراء، رؤسا، حکمراں سب کے سب آئے ہوئے ہیں، ایک غریب گھرانے میں موت ہوتی ہے کسی کو پتہ بھی چلتا ہے تو اسے کوئی حیرت نہیں ہوتی وقت مقررہ پر اس کے قریبی ساتھی رشتہ دار کاندھے پر اٹھاتے ہیں آخری رسومات ادا کرتے ہیں اور اسی مٹی میں اسے بھی دفن کیا جاتا ہے۔دنیا میں رہنے کا طریقہ الگ الگ، سوسائٹی الگ الگ نہ دولتمند کے ساتھ ایک دو لوگ دوچار دن قبر میں سونے کے خواہشمند ہوئے نہ غریب کے ساتھ تو پھر یہی احساس وقت رہتے کیوں نہیں ہوتا، جب آخری وقت ہوتا ہے تو غلطی کی معافی تلافی کی جاتی ہے آخر یہی کام صحتمند رہتے ہوئے کیوں نہیں کیا جاتا،، کتنی رشتہ داریاں بگڑجاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، کتنی دوستیاں ختم ہو جاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، نکاح اور شادی بیاہ کو مشکل بنادیا گیا ۔امیری اور غریبی کے نام پر، جہیز کا بازار بھی لگایا جاتا ہے اور جہیز کی آڑ میں موت کے گھاٹ بھی اتارا جاتا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے۔
ایک طرف کوئی مخمل کے بستر پر سوتا ہے دوسری طرف کوئی اخبار بچھا کر فٹ پاتھ پر سوتا ہے زندگی کا گذر بسر تو دونوں کا ہورہا ہے لیکن ایک کا آرام سے دوسرے کا تکلیف سے لیکن آج کے حالات پر نظر دوڑا نے سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ انسانوں کی بھیڑ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر انسانیت میں کمی آتی جارہی ہے غریبی کے خاتمے کا خواب دکھا کر سیاست تو خوب کی جاتی ہے مگر غریبوں کو راحت پہنچانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاتا اب تو دینی، سیاسی، سماجی غرضی کہ ہر شعبے ہر میدان میں امیری اور غریبی کی کھائی بڑھتی جا رہی ہیزکوٰۃ کی رقم دے کر بھی بہت سے لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں ملتا جب تک کہ چار آدمی سے ذکر نہ کر دیں حالانکہ اسلامی تاریخ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے ایک غریب آدمی کے پاس امدادی رقم بھیجی تو یہ کہدیا تھا کہ ان سے یہ نہ بتانا کہ یہ رقم کس نے دی ہے،

ان سے تم بھلے سلام کرنا لیکن میرا سلام نہ کہنا، ہوسکے تو ان کے ہاتھ میں رقم نہ دیکر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے ان کے قریب رکھ دینا وہ صاحب جب رقم دیکر واپس آئے تو حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ آپ نے اپنا سلام کہنے سے کیوں منع کیا اور دوسری بات یہ کہ پیسہ ہاتھ میں دینے سے کیوں منع کیا تو حضرت عائشہ ؓنے کہا کہ تم میرا سلام کہتے تو ہوسکتا ہے کہ وہ پھر کبھی ایسی حالت میں ہوتے کہ انہیں پھر امداد کی ضرورت پڑتی اور مجھ تک پیغام یہ سوچ کر نہیں پہچا تے کہ ان کے پاس سے ایک بار امدادی رقم آچکی ہے۔
اس لیے میں نے یہ سوچا کہ انہیں معلوم ہی نہ ہو کہ یہ رقم عائشہؓ نے بھیجی ہے اور ہاتھ میں نہ دینے کے لیے اس وجہ سے کہا کہ تم ہاتھ میں دیتے تو ہوسکتا تھا کہ ان کا ہاتھ نیچا ہوتا اور تمہارا ہاتھ اوپر ہوتا تو کہیں تمہارے دل میں یہ خیال نہ پیدا ہوجاتا کے لینے والے کا ہاتھ نیچے اور دینے والے کا ہاتھ اوپر ہے تو کہیں تم تکبر نہ کر بیٹھتے بہت سے علماء کرام نے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓنے اپنے بھانجے عروہ کویہ رقم بھیجی تھی۔
بہر حال اس واقعے سے امدادی سامان و رقم کا پرچار پرسار کرنے والوں کو عبرت حاصل کرنا چاہیئے بلکہ اس واقعے سے ہر خاص و عام کو سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جو مالدار تھے وہ اپنی دولت سے جنت کا سامان خریدا کرتے تھے اور آج کا مسلمان بھی مدارس سے لیکر خانقاہوں تک صرف مرغ و ماہی کا انتظام کرنے والوں اور مٹھیوں کو موٹی موٹی رقم سے گرم کرنے والوں کو اہمیت دیتا ہے اور غریب مریدین تک کو قریب تک بیٹھنے کی جگہ نہیں دیتا کوئی بڑے حوصلے سے دعوت دیتا ہے تو اس کے وہاں جانے سے کتراتے ہیں اور کسی کے ہاں اس انداز سے جاتے ہیں کہ کھانے کے بعد دسترخوان پر ہاتھ اٹھاکر اجتماعی دعا تک کرتے ہیں۔
کیا اس سے غریبوں کو ٹھیس نہیں لگتی، کوئی آپ کو نذرانہ دے تو اس سے مصافحہ کریں اور گلے بھی لگائیں اور کوئی ہاتھ بڑھائے تو اسے اشاروں اشاروں میں کہیں ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے تو کیا اس غریب مرید کو ٹھیس نہیں پہنچے گی پھر بھی اسٹیج سے خطابت کے انداز میں کہیں کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے تو دنیا چاہے کچھ بھی کہے میں تو یہی کہوں گا کہ ایسا کرنے والا رہنما نہیں بلکہ روٹی توڑ فقیر ہے، یہ واعظ نہیں بلکہ یہ ایک شعبدہ باز ہے اس کا انداز خطابت ایک فن ہے ،فن سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
ہر انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو تو آتے ہی ہیں اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کوئی بھی انسان اچھے برے حالات سے بھاگ نہیں سکتا ہے انسان کے لیے لازمی ہے کہ وہ اچھے اور موافق حالات میں اللہ رب العزت کا شکر ادا کرے اور غرور و تکبر سے بچنے کی کوشش کرے اور برے حالات کا مقابلہ بھی اعتماد اور خوش اسلوبی سے کرے اور کبھی بھی اپنی زندگی سے بیزار اور ناامید نہ ہو جائے کیوں کہ نہ ہی اچھے حالات ہمیشہ کے لیے رہتے ہیں اور نہ ہی برے حالات، لیکن برے حالات میں کام آئے لوگ ہمیشہ یاد رہتے ہیں ان ہی برے حالات اور مصائب میں ایک پریشانی اور مسئلہ غریبی ہے یہ ایسی بیماری ہے کہ جس کو بھی لگ جاتی ہے اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی غریب انسان کسی کا نہیں رہتا اور نہ ہی اسے کوئی اپناتا ہیں یہاں تک کہ سگے بھائی بہن بھی ایسے شخص سے رشتہ ناطہ رکھنا گوارا نہیں کرتے۔
انساں سے غریب انسان اپنا بسر اوقات کیسے مہیا کرتا ہے یہ صرف ایک غریب ہی جانتا ہے۔ ہمیں غریب کا مذاق اڑا کر ان کا دل نہیں دکھانا چاہیئے کیونکہ غریب ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ غریب انسان دن رات ایک کر کے اپنے اہل و اعیال کے لیے دو وقت کا کھانا ممکن بنا تا ہے بہت سے غریب لوگ غربت سے تنگ آ کر مختلف جرائم میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا خدا نخواستہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر کے سنگین جرم کے مرتکب ہوتے ہیں حالانکہ مجرم بننے کے لیے، یا خودکشی جیسا سنگین قدم اٹھانے کے لیے غریب ہونے کی دلیل دینا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے لیکن غربت کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ضرور ہوتا ہے اور بہت سے لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے آئے دن سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ویڈیوز اور پوسٹس نظر آتے ہیں جن میں مختلف سماجی کارکن کسی غریب کی حالت زار سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے مفلوک الحال لوگوں کے لیے مدد کی درخواست بھی کی جاتی ہے ساتھ ہی ضرورت مند لوگوں کا اکائونٹ نمبر بھی دے دیا جاتا ہے جس سے پیسہ براہ راست ضرورت مند کے کھاتے میں جاتا ہے اور گڑبڑ کی زیادہ گنجائش نہیں رہتی یہ ایک اچھا کام ہے بلکہ اس عمل کو سراہا جانا چاہئے کیوں اس طرح بہت سے غریب لوگوں کی مدد ہو جاتی ہے بہت سے بیمار لوگوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے ایسی درجنوں مثالیں دی جا سکتی ہیں

جہاں لوگوں کی اس طریقے سے بہت مدد کی گئی یہ سوشل میڈیا کا بہترین استعمال ہے لیکن حیرت تب ہوتی ہے جب بہت سے صاحب ثروت لوگوں کو میڈیا کے ذریعے ہی پتا چلتا ہے کہ ان کا ہمسایہ اتنا غریب ہے کہ وہ اپنی داستان لے کر سوشل میڈیا پر آ گیا ہے آخر ہمارے آس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی غربت ہمیں نظر کیوں نہیں آتی؟ ہمیں بھی پتہ کیوں نہیں چلتا کہ ہمارے ارد گرد کتنی بیوائیں ہیں جن کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے؟ کتنے یتیم بچے ہیں جو محض غربت کی وجہ سے تعلیم چھوڑ کر مزدوری کرتے ہیں؟ کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جن کی عمر ڈھلتی جا رہی ہے لیکن محض غربت کی وجہ سے ان کی شادی نہیں ہو پاتی ہے؟ کتنے ایسے بیمار ہونگے جن کے پاس ادویات کے لئے پیسے نہیں ہونگے؟ اور کتنے ایسے گھر ہونگے جہاں کئی کئی دنوں تک چولھا نہیں جلتا ہو گا؟

آخر ہم سوشل میڈیا کا انتظار کیوں کرتے ہیں شاید محض اس وجہ سے کہ وہ ہمارے آس پڑوس میں رہتے ہیں ہمیں ان کی غربت نظر نہیں آتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے لوگوں کو سوشل میڈیا پر پوری دنیا کو اپنے حالات بتانے پڑتے ہیں لیکن بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو غربت میں گھٹ گھٹ کر جینا پسند کرتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر نہیں آتے ہیں ایسے لوگوں تک پہنچنے کے لئے بہترین راستہ یہی تھا کہ صاحب ثروت لوگ اپنی آنکھوں سے پردہ ہٹا کر اپنے آس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی خفیہ طور پر مدد کر کے اللہ کے دربار میں خوشنودی حاصل کریں۔غریبی غریب انسان کے لئے تو امتحان ہے ہی ساتھ ہی یہ صاحب ثروت لوگوں کے لیے بھی آزمائش کی گھڑی ہوتی ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب کورونا کی وبانے غریب افراد کا جینا محال کردیا ہے۔
تحریر:مبین خان
سٹی خان پور ضلع رحیم یار خان.

Leave a reply