fbpx

ہائے رے تبدیلی ، تیرا ککھ نہ روے ۔۔۔تحریر:نوید شیخ

یوں لگ رہا ہے کہ حکومت نے عوام سے انتقام لینا شروع کردیا ہے کہ انھوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ کیوں ڈالا ہے ۔

۔ وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں جو اضافہ کرنا تھا کر دیا مگر جس ڈھٹائی سے وزیروں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ابھی تو ہم نے عوام کا بہت خیال کر لیا ہے ۔ خطے کے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پیڑول کی قیمت بہت کم ہے ۔ اسلیے شکر منائیں ۔ اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔

۔ ان وزیروں کو میں آئینہ دیکھا دوں اور پوچھنے کی جسارت کروں کہ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں
per capita income
کیا ہے۔ زچی اور بچہ اموات کی
ratio
کیا ہے ۔ پاکستان میں
average life expentancy ratio
کیا ہے ۔ پاکستان کرپشن میں خطے کے ممالک میں کس نمبر پر ہے ۔ کاروبار کرنے کے حوالے سے پاکستان کے حالات کتنے اچھے ہیں ۔ ہماری جی ڈی پی خطے کو چھوڑیں جنگ زدہ افغانستان کے مقابلے میں کیا ہے ۔ ان سب چیزوں کا
comparison
بھی ہم کو خطے کے ممالک کے حوالے سے بتادیں تو ان کے پاک دامنی پر میں ایمان لے آؤں ۔ دراصل جھوٹ کا نہ سر ہوتا ہے نہ پاؤں ۔ بجٹ میں تمام اعلانات ، بیانات بلکہ پورا کا پورا بجٹ ہی ایک جھوٹ کا پلندہ تھا ۔ اب بھی معیشت آئی ایم ایف کے کہنے پر چلائی جا رہی ہے ۔ یہ پیڑول اور دیگر اشیاء کی چیزوں کی قیمتیں بڑھا کر حکومت نے عوام کو آئی ایم ایف کی جانب سے عید سے پہلے عیدی دے دی ہے ۔

۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے پیٹرول آج تک اتنا مہنگا نہیں ہوا ۔ جتنا آج ہوگیا ہے یہ بھی اس حکومت کا کریڈٹ ہے ۔

۔ صرف پٹرولیم مصنوعات ہی نہیں ایل پی جی کی قیمت میں بھی
5
روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد سرکاری قیمت
160
فی کلو سے تجاوز کر گئی۔

۔ سب سے زیادہ مشیر اور وزیر خزانہ تو اس حکومت کے پاس ہی ہے وہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ پٹرول اور ایل پی جی کی قیمت بڑھے تو عام آدمی کو فرق پڑتا ہے یا نہیں ۔ ابھی جو عید پر پردیسوں نے اپنے گھروں کو جانا ہے ان کو اس کا کتنا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اور صرف پیٹرول مہنگا ہونے سے مہنگائی کا ایک نیا ریلا آئے گا وہ کس کس کو متاثر کرے گا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔

۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو ٹرانسپورٹ یا کنوینس الاؤنس ملتا ہے۔ تھوڑا اوپر کا گریڈ ہو تو گاڑی یا پٹرول بھی ملتا ہے۔

۔ پولیس مدعی سے پٹرول کے پیسے لے لیتی ہے۔ چاک و چوبند دستوں نے کبھی پلے سے پٹرول ڈلوانا نہیں ہے۔ باقی وزیر مشیر تو اس عوام کو ویسے ہی جہیز میں ملے ہیں ۔ انکے پیڑول ، بجلی ، گیس کے بل اور عیاشیوں کا خرچہ بھی عوام نے برداشت کرنا ہے ۔ لہذا یہ جو باقی بچے کھچے اٹھارہ بیس کڑور عام آدمی ہیں ان کا اللہ مالک ہے۔ ان کی گدھا گاڑیوں کو پٹرول چاہیے بھی نہیں ہوتا۔

۔ عمران خان کی حکومت نے آتے ہی عزم ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ پانچ ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کریں گے۔ پر یہ جھوٹے وعدے اور دعوی ہی ثابت ہوئے ۔

۔ آج سینیٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہی میں 147 ارب روپےکی ٹیکس چوری ہوئی ہے ۔ ۔ دوسری جانب کسی اور نہیں اس عوامی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر 3 بنیادی اشیا مہنگی کرنے کی منظوری دیدی ہے ۔ چینی کی فی کلو قیمت میں 17 روپے کا اضافہ کردیا۔ اب یوٹیلیٹی اسٹور ز پر چینی 68 کے بجائے 85 روپے کلو دستیاب ہوگی۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا مزید 150 روپے مہنگا کردیا گیا۔ یوں 20 کلو آٹا کا تھیلا 950 روپے کا ہوگیا ہے ۔ ۔ گھی کی قیمت میں بھی 90 روپے اضافہ کر دیا گیاہے ، ایک کلو گھی کا پیکٹ اب 170 کی بجائے 260 روپے فی کلو میں دستیاب ہو گا ۔

۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ یوٹیلی اسٹورز پر غریب اور سفید پوش بندہ ہی جاتا ہے ۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ حکومت کو غریبوں کی کتنی فکر ہے ۔

۔ پھل ، سبزیوں ، فروٹ ، بجلی اور گیس کے بلوں کا کیا رونا یہاں تو آٹا ، گھی اور چینی عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ دراصل عوام نے سر پکڑ لیے ہیں ۔ کہتے ہیں ایسے نئے پاکستان سے تو پرانا پاکستان ہی بہتر تھا۔

۔ اس کارکردگی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل کام نہیں کہ کیوں اس حکومت کے وزیروں کو گندے انڈے اور ٹماٹر پڑ رہے ہیں ۔

۔ پر اس کے ردعمل میں جو کل علی امین گنڈا پور نے بیچ چوراہے کھڑے ہوکر سنجے دت اسٹائل میں فائرنگ کی ہے ۔ وہ اس ملک ، وہ قانون اور اس حکومت کو ووٹ دینے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے ۔

۔ مجھے لگتا ہے آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کو گاجر مولی سمجھ لیا ہے، جسے چاہے کاٹو یا بغیر کاٹے کھا جاؤ۔ اب تازہ ترین خبر یہ آئی ہے آئی ایم ایف نے بجلی ساڑھے تین روپے کے قریب مہنگی کرنے کی فرمائش کر دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے لائف لائن صارفین کو تین سو یونٹ کی بجائے دو سو یونٹ پر سبسڈی دی جائے۔

۔ سنا ہے ہمارے معاشی مینجروں نے اس پر غور شروع کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے صرف آئی ایم ایف کی ہدایات کو دیکھنا ہوتا ہے، عوام کی پروا نہیں ہوتی۔

۔ آئی ایم ایف عوام کو پیستی اور خواص کو نوازتی ہے، کیونکہ خواص کے پاس پیسہ ہو تو اس کا فائدہ سرمایہ دارانہ نظام کو پہنچتا ہے۔ عوام کے پاس ہو تو سرمایہ دارانہ نظام کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

۔ کبھی آپ نے سنا ہو آئی ایم ایف نے حکومت پر دباؤ ڈالا ہے وہ سرمایہ داروں پر ٹیکس دوگنا کرے، یا کبھی یہ کہا ہو بالواسطہ ٹیکسوں کی بجائے بلاواسطہ ٹیکسوں کو بڑھایا جائے۔

۔ وہ ہمیشہ بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، گھی جیسی بنیادی اشیاء کو مہنگی کرنے کی فرمائش کرتا ہے، ان پر حکومت اگر کوئی سبسڈی دے رہی ہے تو اسے ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈالتا ہے۔

۔ اس کا کیا مقصد ہے۔ اگر آئی ایم ایف کو صرف اپنے قرضے کی واپسی سے غرض ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کہیں ڈوب نہ جائے تو اسے ٹیکس جمع کرنے پر زور دینا چاہئے اور ان طبقوں پر ٹیکس لگانے کی شرط رکھنی چاہئے جو صاحبِ استطاعت ہیں، سرمایہ دار ہیں، بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں اربوں روپے کماتے ہیں مگر نہیں آئی ایم ایف ایسا نہیں کرے گا، اس کی نظر معاشرے کے عام فرد پر ہو گی، شیدے، میدے، گامے اور ماجھے ساجھے کے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنا اس کا مشن ٹھہرے گا۔ یہی وجہ ہے ہمارے ہاں جو بھی بجٹ بنتا ہے،وہ امیروں کا بجٹ ہوتا ہے۔

۔ نام تو غریبوں کا لیا جاتا ہے لیکن اس میں سرکاری مراعات امیروں کے لئے ہوتی ہیں۔ بجٹ میں پہلے ہی عام آدمی کا بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے کچومر نکال دیا گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف کی فرمائشوں کے سامنے حکومت ہاتھ جوڑے کھڑی نظر آتی ہے۔

۔ جس طرح کوئی اپنی کمر کا تل نہیں دیکھ سکتا اسی طرح حکمران بھی اپنے کیے ہوئے اکثر فیصلوں کے نتائج سے لا علم ہوتے ہیں۔ وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ آنے والے وقت میں یہ فیصلے کیا نتائج دیں گے اور ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہیں اس بات کا بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے ارد گرد اور آگے پیچھے پھرنے والے وزیر اور مشیر گورننس کے نام پر کیا کچھ کرتے پھر رہے ہیں۔ مشورے دینے اور فیصلے کروانے والے اکثر تتر بترہو جاتے ہیں اور کچھ اپنی اگلی منزلوں کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں۔

۔ عمران خان پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ اُن سے غلط فیصلے ہو جاتے ہیں ۔ اسی لیے بیشتر معاملات میں حکومت کو روزِ اول ہی سے سبکی اور جگ ہنسائی کا سامنا ہے۔ جبکہ بعض مشیر اور سرکاری بابو کمالِ مہارت سے اہم ترین اور حساس نوعیت کے معاملات پر وزیراعظم عمران خان کواپنے گرد گھما رہے ہیں۔

۔ اب آپ دیکھیں نہ راولپنڈی رنگ روڈ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔ جس میں زلفی بخاری اور غلام سرور خان کو کلین چیٹ دے دی گئی ہے ۔

۔ مزے کی بات ہے کہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ منصوبے کی الائنمنٹ میں تبدیلی اور لینڈ ایکوزیشن کے معاملات میں بے ضابطگیاں بھی ثابت ہوچکی ہیں۔
اب پتہ نہیں کون سے فرشتے یا جن تھے جنہوں نے یہ واردات ڈالی تھی ۔ اور یہ آٹا ، چینی ،پیڑول اور دیگر اسکینڈلز کی طرح ایک نیا معمہ بن گیا ہے۔ کہ کرپشن ہوئی مگر معلوم نہیں کس نے کی ۔ اور اب اتنے بڑے معاملے میں دو بے وقعت افسران کو ہی بلَی کا بکرا بنا کر معاملات کو سمیٹا جارہا ہے ۔

۔ آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ اب تو یہی خواہش رہ گئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان امریکہ کی طرح آئی ایم ایف کو بھی انکار کر دیں صاف کہہ دیں اس سے آگے کچھ نہیں ہو سکتا۔