حکومت اور جانی خیل جرگہ کے درمیان تصفیہ طے پاگیا

حکومت اور جانی خیل جرگہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد تصفیہ طے پا گیا اور دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔

تصفیہ کو وزیراعلی خیبرپختونخوا نے بذات خود منظورکرتے ہوئے تمام مطالبات تسلیم کئے۔ صوبائی کابینہ کے ارکان کامران بنگش، شاہ محمد، ضیاء اللہ بنگش، شاہ جی گل آفریدی سمیت دیگر حکومتی عہدیداروں اور مشران نے تحریری معاہدے پر دستخط کئے۔

خیال رہے کہ بنوں کے علاقے جانی خیل کے 4 نوجوان کچھ روز قبل شکارکےلئے گئے تھے جس کے کئی روز بعد اُن نوجوانوں کی لاشیں قریبی نالے کے پاس سے دفن ملی تھیں۔

واقعے کے خلاف جانی خیل میں دھرنا دیا گیا تھا جو کہ 8 روز سے جاری تھا تاہم آج دھرنے کے شرکاء نے انصاف نہ ملنے پر لاشوں کے ہمراہ اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا۔

ضلعی انتظامیہ اور مشران کےدرمیان مذاکرات ناکام ہونے پردھرنے کے شرکاء بنوں شہرمیں داخل ہوگئے۔ مظاہرین نے پولیس کی تمام رکاوٹیں توڑدیں تاہم جیسے ہی مظاہرین کینگر پل پہنچے تو پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کی

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں چاروں دوست شکار کیلئےگئے تھے اور ان کی لاشیں زمین میں دبی ہوئی ملی تھیں۔

پولیس کے مطابق مقتولین کی عمریں 14سے18سال کے درمیان تھیں جن میں سے ایک کو تیز دھار آلے سے قتل اور ایک کو فائرنگ کرکے جبکہ دوکوپتھر مار کر قتل کیاگیا۔

Shares: