ملک میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے اکثر علاقوں میں سیلاب آیا ہوا ہے، درد دل رکھنے والے احباب محکمہ موسمیات کی بروقت پیش گوئی کے باوجود نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ کرنے یا جن علاقوں میں حکومت کو حالات قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ہو وہاں سے لوگوں کے بروقت انخلاء نہ کرانے کی وجہ سے تنقید کر رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے بروقت مناسب اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کا بہت زیادہ جانی یا مالی نقصان ہوا ہے ۔
آپ نے اکثر بازار میں بھکاری دیکھے ہیں جو ہٹے کٹے بھکاری ہوں انہیں لوگ امداد دینے سے زیادہ غیرت دلاتے ہیں کہ اللہ پاک نے تمھیں صحت کی نعمت سے نوازا ہے تو محنت مزدوری کر کے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کیوں نہیں کرتے اس کے برعکس جو بھکاری جسمانی طور پر معذور ہو یا اس کی بظاہر حالت قابل رحم ہو وہ اگر دست سوال دراز نہ بھی کرے تو لوگ اسے روک کر خود امداد دیتے ہیں، اسی لئے اگر کوئی جسمانی طور پر صحت مند بھکاری ہو تو وہ کوشش کرتا ہے کہ کسی معذور بچے یا فرد کو اپنے ساتھ نتھی کر کے اس کی قابل رحم حالت کی بنیاد پر بھیک مانگے اور لوگ بھی بغیر کوئی سوال جواب کرے ایسے شخص کو امداد دے دیتے ہیں ۔
ہم ملک پاکستان کے شہری اللہ کے فضل سے ایک ایٹمی قوت ہیں اور ہمارا پاس اسلامی بم ہے ہم امت مسلمہ کے خودساختہ ٹھیکیدار اور محافظ ہیں لیکن حالات یہ ہیں کہ اگر ہمیں امداد نہ ملے تو ہمارے پاس ایک یا دو مہینے کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں اور اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جن کے ہم خودساختہ محافظ اور ٹھیکیدار ہیں وہ بھی ہمیں آنکھیں دکھانے لگ گئے ہیں اور ہمیں امداد یا بھیک انتہائی ذلیل کر کے اپنی من پسند شرائط پر دیتے ہیں اور ساتھ طعنہ دیتے ہیں کہ ایٹمی طاقت تو بن گئے ہو اور معاملات میں کیوں نہیں خود کفیل ہوتے ہو۔
ہٹے کٹے بھکاری کی طرح ہمیں بھی ہماری ظاہری حالت کی وجہ سے امداد نہیں ملتی جبکہ ہڈحرامی کی وجہ سے ہم خود محنت مزدوری کر نہیں سکتے اس لئے ہم بھی صحت مند بھکاری کی طرح کوئی معذور، جسمانی طور پر لاغر اور قابل رحم جسمانی حالت والا بچہ دھونڈتے ہیں اور ہمارا وہ بچہ یا ساتھی قدرتی آفات ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی قدرتی آفت آنے کا ہمیں بروقت معلوم ہو بھی جائے تو ہم وہ وقت اس آفت کا سدباب کرنے کے بجائے اس آفت کی بنیاد پر اقوام عالم سے زیادہ سے زیادہ امداد حاصل کرنے اور اس امداد سے اپنے اکاؤنٹ بھرنے میں صرف کرتے ہیں ۔
اسی لئے سیلاب آنے کی بروقت اطلاعات کے باوجود ہم نے اس کے تدارک کے لئے رسمی انتظامات کئے اور ملک میں سیلاب آیا ہوا تھا جبکہ ہم اپنی سیاست بچا رہے تھے سیلاب میں گھرے متاثرین سے زیادہ اہمیت ایک اکیلے شہباز گل کو دی جا رہی تھی کیوں کہ اس نے رہا ہو کر ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانا اور معاشی طور پر خودمختار کرنا تھا اس سارے عمل کے دوران لوگوں کی توجہ متاثرین سیلاب سے ہٹا کر متاثرین سیاست کی طرف لگا دی گئی ۔
اپنی ذمہ داریوں کا ملبہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ڈالتی رہیں جبکہ اس دوران بین الاقوامی برادری کو سیلاب متاثرین کی حالت زار سے بھی آگاہ کیا جاتا رہا اور امریکہ نے ایک لاکھ ڈالر کی امداد سیلاب متاثرین کے لئے دے دی اور شاید بعد میں دس لاکھ ڈالر کی مزید امداد دی یا دس لاکھ ڈالر کی امداد قدرتی آفات سے نبٹنے کے لئے پہلے سے مختص تھی اور اس کے علاوہ ایک لاکھ ڈالر مزید امداد دی لیکن اصل بات یہ ہے کہ اب ہمیں امداد مل گئی ہے اور سیلاب کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے۔
تو اس امداد کے ذریعے حکومت اب پورے دل سے متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے کوشش کرے گی اور ان کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرے گی اور بچنے والے پیسوں سے اپنے اردگرد موجود مستحق لوگوں کی امداد کرے گی جو ہر اچھے وقت میں ان کے ساتھی ہیں اس اب کے باوجود ہم ایٹمی قوت ہیں بھکاری نہیں لیکن اگر قدرت کسی کے دل میں رحم ڈال اور وہ ہمیں ہدیہ دے تو ہم ہدیہ قبول کر لیتے ہیں کیونکہ ہدیہ قبول نہ کرنا کفران نعمت ہے ۔