اناللہ وانا الیہ راجعون، ایرانی صدر ہیلی حادثے میں جاں‌بحق

ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر گزشتہ شام خراب موسمی حالات میں دیزمر جنگل میں کریش ہوا
0
323
Iran

ایرانی صدر کی ہیلی حادثے میں موت پر ایران میں پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے صدر سید ابراہیم رئیسی ، وزیر خارجہ امیر عبداللیہان ، مشرقی آذربائيجان میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین آل ہاشم، مشرقی آذربائیجان کے گورنر رحمتی اور ان کے دیگر ساتھیوں کی شہادت پر تعزیت پیش کی ہے۔اور کہا ہے کہ سید ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں، رضوان اللہ علیہم کی شہادت کی اندوہناک خبر ملی، یہ ناگوار حادثہ خدمت رسانی کی کوشش کے دوران پیش آیا؛ اس عظیم اور فداکار انسان کی ذمہ داریوں کی پوری مدت چاہے صدارت کی مختصر مدت ہو،یا اسلام اور ملک و قوم کی ان کی خدمات کا اس سے پہلے کا دور ہو، انتھک محنتوں اور سعی و کوشش میں گزری ہے، عزیز رئیسی انتھک خدمت میں مصروف تھے۔ اس تلخ حادثے میں ملت ایران ایک گرانقدر اور مخلص خدمتگزار سے محروم ہوگئی ۔ ان کے لئے عوا کی بھلائی اور ان کی خوشی، جس کا سرچشمہ رضائے الہی ہے، ہر چیز پر ترجیح رکھتی تھی۔ اس بناپر بعض بدخواہوں کی ناشکری اور طنز، اصلاح امور اور پیشرفت کے لئے ان کی رات دن کی کوششوں میں کبھی بھی رکاوٹ نہ بن سکی، اس تلخ حادثے میں تبریز کے محبوب اور معتبرامام جمعہ آل ہاشم، مجاہد اور فعال وزیر خارجہ حسین امیر عبداللّہیان، مشرقی آذربائیجان کے متدین اور انقلابی گورنر جناب مالک رحمتی اور ان کے دیگر ساتھی جوار رحمت الہی میں چلے گئے، میں پانچ دن کے عام سوگ کا اعلان اور ملت ایران کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔ آقائے مخبر آئین کی دفعہ 131 کے مطابق مجریہ کے سربراہ ہیں اور ان کا فریضہ ہے کہ مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں کے ساتھ مل کے 50 دن کے اندر نئے صدر کا الیکشن کرانے کا اہتمام کریں۔

واضح رہے کہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں‌بحق ہو گئے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ کی بھی موت ہو گئی ہے ہیلی کا ملبہ مل چکا ہے، لاشیں جل چکی ہیں اور ناقابل شناخت ہیں، حادثے کا شکار ہونے والے بدقسمت ہیلی کاپٹر میں شہید صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کے ہمراہ وزیر خارجہ شہید حسین امیر عبداللہیان صوبہ مشرقی آذربائیجان کے گورنر شہید مالک رحمتی ،صدرمملکت کے سیکورٹی دستے کے کمانڈر شہید جنرل سید مہدی موسوی اور صدر کے محافظین موجود تھے،حادثے میں کل 9 افراد کی موت ہوئی ہے
irani sadar
ایرانی میڈیا نے ہیلی کاپٹر حادثے میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثے میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ بھی جاں بحق ہوگئے ہیں، حادثے میں نو افراد جاں بحق ہوئے ہیں،ایرانی خبر رساں ادارے تہران ٹائمز کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثہ تبریز سے 100 کلومیٹر دور پیش آیا جس میں گورنر تبریز بھی جاں بحق ہوئے ہیں ، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ترجمان آیت اللہ علی ہاشم اور مشرقی آذربائیجان کے گورنر بھی اس ہیلی کاپٹر میں سوار تھے،ایرانی حکام کے مطابق کچھ لاشیں جل کر ناقابل شناخت ہوگئی ہیں۔
irani helli
قبل ازیں ، ایرانی ہلال احمر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ صدر رئیسی کا ہیلی کاپٹر کریش ہونے کے بعد زندہ بچے مسافروں کا کوئی نشان نہیں،ایرانی عہدیدار نے بتایا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد صدر ابراہیم رئیسی کے بچنے اور زندہ ہونے کی توقعات کم ہیں، ایرانی صدر رئیسی کا ہیلی کاپٹر مکمل طور پر جل گیا ہے۔

ایران ہیلی حادثہ،سرکاری سطح پر نمازجنازہ کل متوقع
ایران ہیلی کاپٹر حادثہ،میتوں کو تبریز منتقل کیا جا رہا ہے، الجزیرہ کے مطابق میتوں کو تبریز پہنچانے کے بعد پوسٹ مارٹم کیا جائے گا، پہلا سرکاری سطح پرنماز جنازہ کل متوقع ہے، نمازجنازہ کے بعد میتوں کو دارالحکومت تہران منتقل کیے جانے کی توقع ہے،اس کے بعد میتوں کو مشہد منتقل کیا جاسکتا ہے،مشہد صدر ابراہیم رئیسی کا آبائی شہر تھا، ابراہیم رئیسی کا سیاسی کیریئر بھی وہیں سے شروع ہوا،تدفین کی تقریب بھی مشہد میں متوقع ہے،

ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر میں صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان، صوبہ مشرقی آذر بائیجان کے گورنر ملک رحمتی، سپریم لیڈر کے ترجمان اور تبریز کے امام آیت اللہ محمد علی سمیت 9 افراد سوار تھے۔ صدر کے سکیورٹی یونٹ کے کمانڈر سردار سید مہدی موسوی، باڈی گارڈ اور ہیلی کاپٹر کا عملہ بھی حادثے میں جاں بحق ہوا۔المناک حادثے میں تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر میں ایرانی صدر سمیت ایران کے اہم عہدیداران شامل تھے۔ہیلی کاپٹر میں وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان بھی سوار تھے۔حسین امیر عبداللہیان 2011 سے 2016 تک نائب وزیر خارجہ برائے مشرق وسطیٰ و افریقی امور رہے۔انہوں نے 2021 میں وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالا۔اس دوران سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں واضح بہتری دیکھی گئی۔حسین امیر عبداللہیان نے مشرق وسطی کے سیاسی حالات پر کئی کتابیں بھی لکھیں۔سپریم لیڈر کے ترجمان اور تبریز کے امام آیت اللہ محمد علی بھی طیارے میں موجود تھے۔ہیلی کاپٹر میں صوبہ مشرقی آذر بائیجان کے گورنر ملک رحمتی بھی ایرانی صدر کے ہمراہ تھے۔ملک رحمتی رواں سال جنوری میں مشرقی آذربائیجان کے گورنر جنرل مقرر ہوئے تھے۔حادثے میں صدر کے سیکیورٹی یونٹ کے کمانڈر سردار سید مہدی موسوی، باڈی گارڈ اور ہیلی کاپٹر کا عملہ بھی چل بسا۔

ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر گزشتہ شام خراب موسمی حالات میں دیزمر جنگل میں کریش ہوا، حادثہ ضلع اُوزی اور پیر داؤد قصبے کےدرمیانی علاقے میں پیش آیا، ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ شدید دھند اور بارش کو قرار دیا گیاہے، پرواز کے آدھے گھنٹے بعدصدارتی ہیلی کاپٹر کا دیگر 2 ہیلی کاپٹروں سے رابطہ منقطع ہوا تھا،

ہیلی کاپٹر کے ڈھانچے کا پتہ لگانے میں غیر ملکی امداد کی افواہ جھوٹی،سربراہ ایرانی ہلال احمر
ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کے سربراہ پیر حسین کولیوند کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کا سرچ آپریشن مکمل طور پر ایرانیوں نے انجام دیا ہے اور اس میں کوئی بیرونی مدد نہیں رہی ، صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ہلال احمر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ صدر ایران اور ان کے ساتھیوں کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی جگہ کا پتہ لگانے اوروہاں پہنچنے تک کے سارے مراحل ایرانی امدادی دستوں نے طے کئے ہیں، سرچ آپریشن میں ہلال احمر، سپاہ پاسدران، فوج، بسیج، فائربریگیڈ، ڈیزاسٹرمینیجمنٹ اور ایمرجنسی سروسز کے دو ہزار سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا،ایران کی ہلال احمر سوسائٹی کے سربراہ کولیوند نے ہیلی کاپٹر کے ڈھانچے کا پتہ لگانے میں غیر ملکی امداد کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سرچ آپریشن کے سبھی مراحل ایرانی امدادی دستوں نے انجام دیئے ہیں اور ان میں کوئی غیر ملکی مدد نہیں رہی ، ہیلی کاپٹر کا ڈھانچہ ملنے اور وہاں تک پہنچنے میں چالیس منٹ لگے اور اس آپریشن میں غیر ملکی امداد کی افواہ جھوٹی ہے

ترک ڈرون نے ایرانی صدر کے ہیلی کو تلاش کیا
قبل ازیں کہا گیا تھا کہ ترکیے کے ڈرون نے ایرانی صدر کے ہیلی کے گرنے کے مقام کی نشاندہی کی تھی جس کے بعد مختلف ٹیمیں وہاں پہنچیں اور ہیلی کا ملبہ ملنے کی تصدیق کی، ترک آکنجی ڈرون مشن ایران مکمل کرنے کے بعد ترکیے واپس پہنچ گیا ہے،آکنجی ڈرون نے اپنے نائٹ ویژن، ہیٹ کیمروں اور مشکل موسم میں اپنی کارگردگی کی صلاحیت کی بنا پر ایرانی صدر کے حادثے کا شکار بننے والے ہیلی کاپٹر کی باقیات کو مختصر وقت میں ڈھونڈ نکالا-

ایرانی سید ابراہیم رئیسی اور الہام علی اف نے گزشتہ روز زیر تعمیر قیز قلعہ سی ڈیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، تھااسلامی جمہوریہ ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے صدور سید ابراہیم رئیسی اور الہام علی اف نے اتوار 19 مئی 2024، زیرو بارڈر پوائنٹ پر مشترکہ ڈیم قیز قلعہ ڈیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا،قیز قلعہ سی ڈیم کی تعمیر کے بعد، خدا آفرین ڈیم میں ذخیرہ شدہ پانی، جو کہ قیز قلعہ سی ڈیم کے اوپر کی طرف واقع ہے، مشرقی آذربائیجان، اردبیل اور جمہوریہ آذربائیجان کے میدانی علاقوں میں نہری اور پایاب ورک کے ذریعے سالانہ 2 بلین کیوبک میٹر کے حساب سے زراعت اور برقی توانائی کی پیداوار کے شعبوں کو دیا جائے گی،خدافرین نیٹ ورک کو پانی کی فراہمی، سالانہ 270 گیگا واٹ گھنٹے کی شرح سے بجلی کی فراہمی اور ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے لیے 2 بلین کیوبک میٹر سالانہ کی شرح سے پانی کو منظم کرنا قیزقلعہ سی ڈیم کی تعمیر کے اہداف میں شامل ہیں۔

ایرانی صدر کی موت کے بعد ایرانی کابینہ کا ہنگامی اجلاس، صدر ابراہیم رئیسی کا وژن جاری رکھیں گے،کابینہ
ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد حکومتی کابینہ کا ہنگامی اجلاس ہوا، صدر ایران اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے فورا بعد حکومتی کابینہ نے ہنگامی اجلاس تشکیل دیا جس کے بعد ایک بیان جاری کیا گیا جس میں شہید صدر کے دکھائے ہوئے راستے کو باقی رکھنے کے عہد کا اعلان کیا گیا ہے ۔حکومتی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بیان کا متن یہ ہے۔ "بسم الله الرحمن الرحیم مِنَ المُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا یوم ولادت باسعادت حضرت علی علی ابن موسی الرضا علیہ السلام پر خادم امام رضا، خادم ملت اور عوام کے محبوب صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی ملکوت اعلی سے مل گئے، ایرانی عوام کے محبوب صدر نے جو ملک و قوم کی خدمت میں انتھک کوششوں میں مصروف رہے اپنے عہد پر باقی رہتے ہوئے اپنی جان قوم پر فدا کردی ، حکومتی کابینہ ہیلی کاپٹر کے اس جانگداز سانحے اور ملت ایران کے محبوب اور خدمتگزار صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی، جہادی وزیر خارجہ ڈاکٹر حسین امیر عبداللہیاں، تبریز کے امام جمعہ حجت الاسلام والمسلمین آل ہاشم، مشرقی آذربائیجان کے گورنر ڈاکٹر مالک رحمتی اوران کے دیگر ساتھیوں کی شہادت پر حضرت امام زمانہ عج اللہ فرجہ الشریف، رہبر معظم انقلاب اسلامی اورملت ایران کو تعزیت پیش کرتی ہے اور اپنے عزیز عوام کو یقین دلاتی ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی کے وفادار ساتھی ، خادم ملت، غیور صدر آیت اللہ رئیسی کی انتھک جذبے کی پیروی اوران کے دکھائے ہوئے خدمت ملت کے راستے کو باقی رکھا جائے گا اور خدا وند عالم کی نصرت اور عوام کے تعاون سے ملک کے جہادی انتظام و انصرام میں معمولی سا بھی خلل ںہیں آئے گا”۔ ایرانی کابینہ کا کہنا ہے کہ صدر ابراہیم رئیسی نے ملک کے لیے اپنی زندگی وقف کی،ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے وژن جاری رکھیں گے،عوام کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ملک کے انتظامی امور میں خلل نہیں آنے دیں گے،

ایرانی نائب صدر محمد مخبر نے دو ماہ کے لیے ملک کی صدارت سنبھال
‏ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں شہادت کے بعد ملک کے نائب صدر محمد مخبر نے دو ماہ کے لیے ملک کی صدارت سنبھال لی ہے۔محمد مخبر کی بطور عبوری صدر تقرری کا اعلان پیر کو ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی منظوری کے بعد کیا گیا۔ایران کے آئین کے مطابق ملک میں 50 دن کے اندر دوبارہ صدارتی انتخاب کروایا جائے گا۔68 سالہ محمد مخبر ابراہیم رئیسی کی طرح سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں،1955 میں پیدا ہونے والے محمد مخبر ایرانی مصالحت کونسل کے رکن بھی ہیں،ابراہیم رئیسی نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد اگست 2021 میں محمد مخبر کو اپنا پہلا نائب صدر مقرر کیا تھا،محمد مخبر ایرانی حکام کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے اکتوبر2023 میں ماسکو کا دورہ کیا تھا اور روس کی فوج کو میزائل اور مزید ڈرون فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی،اس ٹیم میں ایران کے پاسداران انقلاب کے دو سینئر اہلکار اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک اہلکار بھی شامل تھے، محمد مخبر سپریم لیڈر سے وابستہ سرمایہ کاری فنڈ سیتاد کے سربراہ رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ وہ سینا بینک کے بورڈ چیئرمین اور صوبہ خوزستان کے ڈپٹی گورنر ہیں، 2013 میں امریکی محکمہ خزانہ نے سیتاد اور اس کے زیر انتظام 37 کمپنیوں کو پابندی کی فہرست میں شامل کیا تھا،نائب ایرانی صدر کے پاس دو ڈاکٹریٹ ڈگریاں ہیں جن میں بین الاقوامی حقوق میں ڈاکٹریٹ کا تعلیمی مقالہ بھی شامل ہے، انہوں نے مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔

ہیلی حادثے میں جاں بحق ایرانی صدر کی زندگی پر ایک نظر
ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں‌بحق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 2021 سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر تھے،14 دسمبر 1960 کو ایران کے شہر مشہد کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والے ابراہیم رئیسی قدامت پسند سیاستدان، اسلامی قانون دان اور مصنف بھی تھے، ابراہیم رئیسی نے مذہبی تعلیمات کا آغاز قُم کے مدرسے سے کیا اور 20 سال کی عمر میں ہی وہ ایران کے عدالتی نظام کا حصہ بن گئے تھے،کرج شہر کے پراسیکیوٹر نامزد ہونے سے لے کر ہمادان اور پھر تہران کے پراسیکیوٹر جنرل بنے، وہاں سے جوڈیشل اتھارٹی کے نائب سربراہ اور پھر 2014 میں ایران کے پراسیکیوٹڑ جنرل مقرر ہوئے،1988 میں ابراہیم رئیسی اُس پراسیکیوشن کمیٹی کا حصہ تھے جس نے ملک بھر میں بے شمار سیاسی قیدیوں کو سزائے موت سُنائی، 2017 کا صدارتی الیکشن وہ اعتدال پسند صدر حسن روحانی سے ہار گئے تاہم دوسری مرتبہ 2021 میں وہ 62.9 فیصد ووٹوں سے ایران کے آٹھویں صدر منتخب ہوئے،اقتدار کے ایک سال بعد ہی ابراہیم رئیسی کی حکومت کو 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاج کا سامنا کرنا پڑا،خارجہ پالیسی میں ابراہیم رئیسی علاقائی خودمختاری کے حامی مانے جاتے تھے، امریکی افواج کے انخلاء کے بعد انہوں نے افغانستان میں استحکام کی حمایت کی اور کہا کہ افغان سرحد کے اطراف داعش جیسے کسی بھی دہشت گرد گروپ کو پیر جمانے نہیں دیا جائے گا،ابراہیم رئیسی نے شام کے ساتھ اسٹریٹجک روابط مستحکم کیے، یمن میں سعودی ناکہ بندی کی شدید مخالفت کی، یوکرین جنگ میں روس کی حمایت کا اعلان کیا، 2023 کے دورہ چین میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے 20 معاہدے کیے، اور کچھ ہی دن بعد ابراہیم رئیسی کی قیادت میں ایران اور سعودی عرب نے 2016 سے منقطع سفارتی تعلقات بحال کر لیے،اُنہوں نے غزہ جنگ میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ امریکا کی مدد سے اسرائیل، غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے

پچھلے مہینے اپریل میں ہی صدر ابراہیم رئیسی نے پاکستان کا 3 روزہ دورہ کیا جس میں دونوں ملکوں نے باہمی تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عہد کیاتھا، ایرانی صدر نے اسلام آباد میں وزیراعظم ، صدر مملکت،آرمی چیف، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگرحکام سے ملاقاتیں کی تھیں، ایرانی صدر نے لاہور اور کراچی کا بھی دورہ کیا تھا،

پاکستان اور ایران کے دل ہمیشہ ایک ساتھ جڑے رہیں گے، ایرانی صدر

پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تعاون مزید وسیع کرنے کے عزم کا اظہار

ایرانی صدر کی اہلیہ کا پاکستان سویٹ ہوم سنٹر اور نمل یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ

آرمی چیف سے ایرانی صدر کی ملاقات،دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر اتفاق

پاک ایران تجارتی حجم 10ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے،ایرانی صدر کی پریس کانفرنس

خراب موسم ،ایرانی صدر کے ہیلی کو اجازت کیوں دی گئی؟ذمہ دار کون
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے قافلے میں 3 ہیلی کاپٹر تھے،2 دیگر ہیلی کاپٹر بالکل محفوظ رہے جبکہ ایرانی صدر کا ہیلی کریش ہوگیا،اگر علاقے میں دھند زیادہ تھی تو سیکیورٹی حکام نے ہیلی کاپٹر سفر کی اجازت کیوں دی؟موسم خراب تھا تو ایرانی صدر کے ہیلی کو اس فضائی راستے سے کیوں لے جایا گیا، سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ موسم کی خرابی کا علم ہونے کےباوجود ایرانی صدر کے ہیلی کو سفر کیوں کروایا گیا؟ گزشتہ شام حادثہ پیش آیا، ہیلی کے ملبہ کی تلاش میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ ایرانی صدر کے ہیلی میں حفاظتی انتظامات تھے اسکے باوجود ہیلی کو کیوں تلاش کرنے میں تاخیر ہوئی،ایرانی رکن پارلیمنٹ نے بھی اس پر آواز اٹھائی ہے اور کہا ہے کہ موسمیاتی ادارے کو پائلٹ کو موسم کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیے تھا،اسلامی کونسل کے ایک رکن نے بتایا کہ انھوں نے گذشتہ سال قزقلاسی ڈیم کا دورہ کیا تھا اور اس وقت موسم کی خرابی اور دھند آلود آسمان نے ان کے ہیلی کاپٹر کو پرواز کی اجازت نہیں دی گئی تھی،ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن شہریار حیدری نے کہا ہے کہ ان کی رائے میں محکمہ موسمیات کو ایران کے صدر کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کو فوری طور پر موسم کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ انھیں بھی گذشتہ برس اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا، گذشتہ سال ایک نمائندے کے طور پر ہم اسی ڈیم کا دورہ کرنے گئے تھے۔ ان کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر پر وہ یہ دورہ نہیں کر سکے تھے، یہ مناسب نہیں ہے، صدر کے ہیلی کاپٹر کو بارش اور دھند کے موسم میں کیوں اجازت دی؟

30 برس پرانا ہیلی کاپٹر،پاور پلانٹ بھی طاقتورنہیں تھا،ایرانی صدر کو سفر کی اجازت دینا سنگین غفلت،اہم انکشافات
ایرانی صدر جس ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے وہ 30 سالہ پرانا تھا، میڈیا رپورٹس کے مطابق تیس برس پرانا بیل 212 ہیلی کاپٹر میں ایرانی صدر دیگر حکام کے ہمراہ سفر پر تھے، یہ ہیلی کاپٹر 1994 ساختہ تھا، اسکی رجسٹریشن نمبر 6-9207، مینوفیکچرر سیریل نمبر 35071ہے ،تباہ ہونے والا ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر ایرانی فضائیہ کے بھی زیر استعمال رہ چکا ہے،ہیلی کاپٹر صرف VFR (صرف بصری) پرواز کے لیے سرٹیفائیڈ ہے اور اس میں صرف 6 مسافر سفر کر سکتے ہیں، ایران پابندیوں کا شکار رہا ہے، ایران ہیلی کے پارٹس درآمد نہیں کر سکتا، ماہرین کے مطابق جس ہیلی کاپٹر بیل پر ایرانی صدر سفر کر رہے تھے اسکا پاور پلانٹ زیادہ طاقتور نہیں اور نہ نہ ہی ٹربو شافٹ پاوراتنی تیز ہے کہ بدلتے ہوئے خطوں کی سطحوں پر پرواز کر سکے ،تیس برس پرانا ہیلی کاپٹر پہاڑی خطوں کے اوپر اونچائی پر بھاری بوجھ سمیت پرواز کرنے کا اہل نہیں ،،اگر اس صورتحال میں اہم ترین مسافروں کو ایسے ہیلی کاپٹر میں سفر کرنے دیا جائے تو پائلٹ فلائٹ پلانرز بلکہ پورا صدارتی عملہ ہی نااہل اور سنگین غفلت کاذمہ دار ہے، ہیلی پر چھ افراد سوار ہو سکتے تھے لیکن عملے سمیت نو افراد سوار تھے، موسم بھی خراب تھا اسکے باوجود 30 برس پرانے ہیلی پر صدر کو سفر کی اجازت دی گئی.
iran
ایرانی صدر کی ہیلی حادثے میں موت،پاکستان کا ایک روزہ سوگ کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے جاں بحق ہونے پر پاکستان میں سوگ کا اعلان کر دیا،قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے تعزیتی پیغام میں ایرانی مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کو پاکستان کا دوست قرار دیا،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی کریش لینڈنگ کی اطلاع کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کو بے چینی سے دیکھ رہے تھے۔ اچھی خبر کی امید تھی۔ افسوس، ایسا نہیں ہونا تھا۔ میں پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے اس ہولناک نقصان پر ایرانی قوم کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ اللہ شہیدوں کو جنت الفردوس میں سکون عطا فرمائے۔ عظیم ایرانی قوم روایتی ہمت کے ساتھ اس سانحے پر قابو پالے گی۔پاکستان کو ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل ایک تاریخی دورے پر صدر رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی میزبانی کی خوشی حاصل ہوئی۔ وہ پاکستان کے اچھے دوست تھے۔ پاکستان میں یوم سوگ منایا جائے گا اور صدر رئیسی اور ان کے ساتھیوں کے احترام اور برادر ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر پرچم سرنگوں رہے گا۔

صدر ابراہیم رئیسی امت مسلمہ کے اتحاد کے بڑے حامی تھے ،صدر مملکت آصف زرداری
صدر مملکت آصف زرداری نے ایرانی صدر، وزیر خارجہ اور حادثے میں جاں بحق دیگر افراد کے سوگواران سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مسلم امہ کے لیے سابق صدر ابراہیم رئیسی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔صدر مملک کا کہنا تھا کہ صدر ابراہیم رئیسی امت مسلمہ کے اتحاد کے بڑے حامی تھے ، عالم اسلام ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گیا، ایرانی صدر فلسطینی اور کشمیری عوام سمیت عالمی سطح پر مسلمانوں کے درد کو دل سے محسوس کرتے، آج پاکستان ایک عظیم دوست کو کھو دینے پر سوگوار ہے۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی شہادت ایران کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے،مریم نواز
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نےہیلی کاپٹر حادثے میں ایرانی صدرا براہیم رئیسی اور ان کے رفقاء کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے سوگوار خاندانوں اور ایرانی عوام سے اظہار ہمدردی و تعزیت کی ہے اور کہا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی شہادت ایران کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ایران کے عوام کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات کے لئے ابراہیم رئیسی کی خدمات کو فرموش نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی حکومت و ایرانی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں، گورنر خیبر پختونخوا
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے ہیلی کاپٹر حادثہ میں جاں بحق ہونے کا افسوسناک واقع،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نےپاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے،گورنر نےاایرانی سفیر سے اظہار افسوس، دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ واقعہ پر دل بہت افسردہ ہے، ایرانی حکومت و ایرانی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں،

ہیلی کاپٹر حادثے میں ایرانی صدر اور ان کے رفقاء کی المناک موت پر بلاول،آصفہ کا اظہار افسوس
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہیلی کاپٹر حادثے میں ایرانی صدر اور ان کے رفقاء کی المناک موت پر اظہار افسوس کیا ہے ،بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان اور انکے رفقاء کے انتقال پر ایران کی عوام سے تعزیت کرتا ہوں، اس افسوسناک واقعے پر ہر پاکستانی غمزدہ ہے اور اپنے ایرانی بہن بھائیوں کے غم میں برابر کا شریک ہے ، اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور شہریوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کیا ہے،آصفہ بھٹو زرداری نےایرانی صدر اور دیگر افراد کے سوگواران سے اظہارِ تعزیت کیا اور کہا کہ دکھ کے اس گھڑی میں ہماری دعائیں ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے جاں بحق ہونے پر شدید افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی جاں بحق ہونے پر بے انتہا دکھ ہوا ہے، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور انکے ساتھیوں کا ہیلی کاپٹر حادثے میں المناک موت پر اظہارِ افسوس ہے ،نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور دیگر کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور انکے دیگر ساتھیوں کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے پر دلی افسوس ہوا ہے،سانحہ اور دکھ کی گھڑی میں ایران حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں،یہ ایک افسوسناک سانحہ ہے،ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے مشکل حالات میں اہم کردار ادا کیا،وہ پاکستان کے بہترین دوست تھے،ہیلی کاپٹر حادثے ان کی شہادت پر پورا پاکستان افسردہ ہے،اللہ تعالی تمام شہدا کے درجات بلند کرے اور سوگوار لواحقین کو صبر و جمیل عطا فرمائے ،آمین

امت مسلمہ ایک عظیم اور دلیر لیڈر سے محروم ہو گئی۔عمر ایوب خان
قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب خان نے ایرانی صدر سید ابرھیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں سید ابراھیم رئیسی، ایرانی وزیر خارجہ اور ہیلی کاپٹر میں سوار دیگر رفقاء کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ،عمر ایوب خان نے دکھ کی گھڑی میں ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کی، انہوں نے حادثے میں شہید ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی کی دعا کی اور کہا کہ صدر ابراہیم رئیسی کے جانے سے پوری مسلمہ کا نقصان ہوا۔امت مسلمہ ایک عظیم اور دلیر لیڈر سے محروم ہو گئی۔

ہماری دعائیں شہداء کے اہل خانہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام کے ساتھ ہیں،پاکستان
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی ہیلی کاپٹر میں شہادت کی المناک خبر پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جا نب سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے،ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہماری دعائیں شہداء کے اہل خانہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام کے ساتھ ہیں،سوگ کی اس گھڑی میں ہم اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں،صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان قابل احترام رہنما تھے ،ان کی پاکستان ایران تعلقات اور علاقائی تعاون کو تقویت دینے کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے ہمارے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اس اپریل میں پاکستان کا دورہ کیا،اسلامی جمہوریہ پاکستان ایران کے ساتھ دوستی اور تعاون کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

ایرانی صدر پاکستان کے بہترین دوست تھے ،وزیر داخلہ محسن نقوی
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ہیلی کاپٹر حادثے میں ایرانی صدر ابراہیم ریئسی ، وزیر خارجہ اور دیگر ساتھیوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی صدر ابراہیم ریئسی کی شہادت پر دلی رنج اور صدمہ ہوا ہے، ایرانی حکومت اور عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں ، پاکستانی حکومت اور عوام دکھ کے وقت ایران کے ساتھ کھڑے ہیں،ایرانی صدر پاکستان کے بہترین دوست تھے ، حالیہ دورہ پاکستان کے دوران ایرانی صدر سے ملاقات یادگار رہی، پاک ایران تعلقات کے حوالے سے ایرانی صدر ابراہیم ریئسی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

بھارت دکھ کی گھڑی میں ایران کے ساتھ ہے، مودی
ایرانی صدر کی ہیلی حادثے میں موت پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کے المناک انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے میں ہوں۔ ہندوستان-ایران باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی شراکت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے اہل خانہ اور ایرانی عوام کے تئیں میری دلی تعزیت۔ ہندوستان دکھ کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے صدر، بھارتی وزیراعظم ، حزب اللہ سربراہ کا ایرانی صدر کی موت پر اظہار افسوس
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیرِ خارجہ کے جاں بحق ہونے پر اظہار تعزیت کیا ہے،شیخ محمد بن زاید النہیان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اس مشکل وقت میں ایران کے ساتھ یکجہتی میں کھڑا ہے،ہم ایرانی حکومت اور عوام سے تعزیت کرتے ہیں

حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے ایرانی صدر رئیسی کی موت پر اظہار تعزیت کی ہے اور کہا کہ ’’وہ لوگ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں:’’بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے “یرانی صدر رئیسی کی وفات پر حماس کا سرکاری بیان:”خدا کی مرضی اور تقدیر پر زیادہ یقین کے ساتھ، اور بڑے صبر اور غور و فکر کے ساتھ، ہم سپریم لیڈر حضرت سید علی خامنہ ای اور ایرانی حکومت سے اپنی مخلصانہ تعزیت، گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ہم برادر ایرانی عوام کے ساتھ اپنے دکھ اور درد کے مشترکہ جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، اس دردناک اور سنگین حادثے میں، جس میں بہترین ایرانی رہنماؤں کے ایک گروپ کی جانیں گئیں جنہوں نے طویل سفر کیا تھا۔ ایران کی نشاۃ ثانیہ میں، فلسطینی اتھارٹی، صہیونی وجود کے خلاف ہمارے عوام کی جائز جدوجہد کے لیے اس کی حمایت، فلسطینی مزاحمت کے لیے اس کی قابل تعریف حمایت، یکجہتی کے لیے اس کی انتھک کوششوں اور غزہ کی پٹی کے ثابت قدم عوام کے لیے تمام فورمز اور میدانوں میں حمایت پر شکرگزار ہیں,ہمیں یقین ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان شاء اللہ اس عظیم نقصان کے اثرات پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ عزیز ایرانی عوام کے پاس قدیم ادارے ہیں جو اس سخت آزمائش سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستانی یو ٹیوبرز بھی کیا لوگ ، تعزیت سے پہلے سازش بیان کرنے میں لگ گئے،حسین حقانی
پاکستان کے امریکا میں سابق سفیر حسین حقانی کہتے ہیں کہ ابھی تک ایران نے اپنے صدر کے حادثہ میں کسی سازش کا ذکر کیا ہے نہ عندیہ دیا ہے۔ صرف موسم کی خرابی کا ذکر ہے۔ لیکن پاکستانی یو ٹیوبرز بھی کیا لوگ ہیں۔ تعزیت سے پہلے سازش بیان کرنے میں لگ گئے ہیں۔ اس طرح کے سازشی نظریوں میں الجھی قوم اپنے مسائل کی گتھی کیسے سلجھا سکتی ہے؟

سندھ اسمبلی میں ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہادت پر قرارداد پیش
قرداد وزیرداخلہ و پارلیمانی امور کے وزیر ضیاء لنجار نے پیش کی،قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایران کے صدر اور وزیر خارجہ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں ،ایران پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر تسلیم کیا ،یہ ایوان ایران کے عوام اور مرحومین کے اہل خانہ سے مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے،سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور انکے رفقاء کے انتقال پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی

وزیراعظم کا ایرانی سفارتخانے کا دوہ،ایرانی سفیر سے ایرانی صدر کی ناگہانی وفات پر افسوس کا اظہار
وزیراعظم شہباز شریف نے وفد کے ہمراہ ایرانی سفارتخانے کا دورہ کیا،وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی سفیر سے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیرِ خارجہ کی ناگہانی وفات پر افسوس کا اظہار کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے مہمانوں کی کتاب میں تعزیتی پیغام درج کیا،ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیر مقدم نے وزیراعظم شہباز شریف کا ایران آمد پر خیر مقدم کیا،ایرانی سفیر نے پاکستانی اعوام اور حکومت کا مشکل کی اس گھڑی میں شکریہ ادا کیا
iran

1940 سے اب تک 15 ممالک کے صدور کی فضائی حادثات میں موت ہوئی ہے،فضائی حادثات میں جاں بحق ہونے والے صدور کی لسٹ:

🇵🇾 صدر پیراگوئے (1940) 🛩️
🇵🇭 فلپائن کے صدر (1957) 🛩️
🇧🇷 صدر برازیل (1958) 🛩️
🇮🇶 صدر عراق (1966) 🛩️
🇧🇷 صدر برازیل (1967) 🛩️
🇧🇴 صدر بولیویا (1969) 🚁
🇪🇨 صدر ایکواڈور (1981) 🛩️
🇲🇿 صدر موزمبیق (1986) 🛩️
🇵🇰 صدر پاکستان (1988) 🛩️
🇷🇼 روانڈا کے صدر (1994) 🛩️
🇧🇮 صدر برونڈی (1994) 🛩️
🇲🇰 صدر شمالی مقدونیہ (2004) 🛩️
🇵🇱 صدر پولینڈ (2010) 🛩️
🇨🇱 چلی کے سابق صدر (2024) 🚁
🇮🇷 صدر ایران (2024) 🚁

Leave a reply