fbpx

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر، مولانا فضل الرحمان کا موقف بھی آ گیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ معیشت تباہ ہوچکی ہے ،بجٹ صفر سے بھی نیچے چلاگیا،اسلام آباد میں مندر کی تعمیر پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لینی چاہئے.

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ہے کہ نئے سال کیلیے محصولات کا ہدف گزشتہ سال سے کم رکھا گیا،یہ بجٹ ایسا ہے تو آئند سال کیسے ہوگا؟براہ راست سرمایہ کاری میں پچاس فیصد کمی آئی ہے ،نہ ملک کے اندر عوام اور نہ اوورسیز پاکستانیوں کو اس حکومت پر اعتماد ہے

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سب کے سامنے آرہا ہے کہ ہم نے جو پہلے دن موقف اختیار کیا تھا وہ ٹھیک تھا،جو الیکشن ہوا وہ بھی ڈھونگ ،حکومت بنی وہ بھی ڈھونگ ، بجٹ بنا وہ بھی ڈھونگ،جنھوں نے انکی پروجیکشن میں سالوں لگائے وہ بھی سمجھتے ہیں انکو ووٹ دینا غلط تھا،حکومت کس احتسا ب کی بات کررہی ہے؟ خیبرپختونخوا میں احتسابی کمیشن بنا تو ان کے وزرا زد میں آگئے،پی ٹی آئی کے وزرا کی احتساب کی بات ہوئی تو کمیشن کے اختیارات ختم کیے گئے،

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ بڑے بڑے دانشور ووٹ دےکر اپنے فیصلوں پر نادم ہیں ،بی آر ٹی ، بلین ٹری منصوبہ ہو تو پھر عدالتوں سے اسٹے لیتے ہیں، یہ احتساب اپنا اعتمادکھوبیٹھا ،فاٹا میں لینڈ ریفارم ہی نہیں کہتے تھے کہ ہم چوروں کو پکڑیں گے ،چور مل نہیں رہےتھے اب تو چور مل گئے ،چور کابینہ میں ہیں جلدی سے پکڑو چوروں کو،تاثر دے رہے ہیں کہ جنوبی پنجاب کو بڑی اہمیت دی گئی ہے نہیں سمجھتا کہ یہ عوام کا مطالبہ پورا کررہے ہیں،

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ق لیگ اور ایم کیو ایم بھی مختلف چیزوں پر حکومت سے اختلاف رکھتیں ہیں اسلام آباد میں مندر کی تعمیر پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لینی چاہیے،

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں بلدیاتی الیکن نہیں چاہیئے بلکہ عام انتخابات کا اعلان کیا جائے، یہ جعلی اسمبلیاں ہیں ، جب تک یہ جعلی اسمبلیاں موجود ہیں اس وقت ملک میں لوگوں کو بلدیاتی الیکشن کی طرف متوجہ کرنا ان کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ووٹ کے حق سے ان کو دستبردار کرنے والی بات ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں اس وقت درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوئی جگہ نہیں رہی ہے، گنجائش ہی نہیں ہے، واضح طور پر یا حکمرانوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا یا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا اس کے بیچ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اپوزیشن یا میں تو کہہ سکتا ہوں لیکن اگر حکمران یہ کہے کہ ہمارے پاس پانچ یا چھ مہینے ہیں تو یہ ان کی ذہنی شکست خوردگی کی علامت ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں ایک قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، ہم نے کوروناکی عالمی وباء کی وجہ سے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور ہم نے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھایااور حکمران بھی کہتے تھے کہ یہ یکجہتی کا وقت ہے ہم نے مل کر لڑنا ہے، لیکن ان حالات کے اندر غیر متنازعہ ایشوز اور غیر متنازعہ معاملات کو دوبارہ متنازعہ بنانا جسے 18ویں ترمیم کا مسئلہ لے آئے ، این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ لے آئے۔ 18ویں ترمیم ان ترامیم میں سے ایک آدھ ترمیم ہے جو بالکل ایوان کی متفقہ ہے ، آج اس کو متنازعہ بنایاجارہا ہے، پھر صوبوں کے اندر ایک ارتعاش آئے گا، پھر وہاں پر محرومی کے احساسات اٹھیں گے جبکہ آئین کہتا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصوں کو کم نہیں کیا جاسکے گا، آ ئین صوبوں کے حصہ میں کسی بھی قسم کی کمی کو تسلیم نہیں کرتا، یہاں دبائو ڈالا جارہا ہے کہ صوبے اپنا حصہ کم کر دیں۔