جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا،راہول گاندھی

0
19

نئی دہلی: اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

باغی ٹی وی:راہول گاندھی نے الزام عائد کیا ہےکہ وزیراعظم نریندر مودی کے کاروباری اتحادی کے خلاف تحقیقات کے مطالبے کی پاداش میں مجھے پارلیمنٹ سے نکالا گیا لیکن میں جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

سعودی وزیر خارجہ کا ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ،رمضان المبارک کی مبارکباد

نریندر مودی کی حکومت پر سیاسی مخالفین اور سماجی تنظیموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر الزام لگایا گیا کہ وہ قانون کا استعمال ناقدین کو نشانہ بنانے اور خاموش کرنے کے لیے کرتی ہے،راہول گاندھی نے کہا کہ وہ دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ میں اس ملک کی جمہوری کے دفاع کے لیے جو بھی کرنا پڑے گا کروں گانریندر مودی کے اہم مخالف کی پارلیمنٹ سے برطرفی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہےجب بھارت کے سب سے طاقتور صنعت کاروں میں سے ایک گوتم اڈانی کے ساتھ وزیر اعظم کےتعلقات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے مجھے نااہل قرار دیا گیا ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی گوتم اڈانی پر آنے والی اگلی تقریر سے خوفزدہ ہیں، میں یہ سوال پوچھتا رہوں گا کہ مسٹر اڈانی کے ساتھ وزیر اعظم کا کیا تعلق ہے؟-

شہزادہ ولیم کا یوکرین اورپولینڈ کی سرحد کے قریب اچانک دورہ

خیال رہے کہ سورت کی عدالت نے جمعرات کو 12.30 بجے راہل کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ لیکن 27 منٹ بعد ضمانت مل گئی۔ سزا کے 26 گھنٹے بعد جمعہ کو ان کی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔ ہفتہ کو 23 گھنٹے بعد راہل پرینکا کےساتھ کانگریس دفتر پہنچے اور 28 منٹ تک میڈیا سے بات کی راہول گاندھی کو عدالتی فیصلے کےبعد 24 مارچ کو ان کی پارلیمانی نشست سے ہٹا دیا گیا تھا، 2019 میں مودی کی آبائی ریاست گجرات میں انتخابی مہم کےدوران کیےگئے تبصرے میں انہیں ہتک عزت کا مجرم قرار پایا گیا تھا جسے وزیر اعظم نریندر مودی کی توہین کے طور پر دیکھا گیا –

مودی برادری کی توہین، راہول کو دو برس قید کی سزا

Leave a reply