جس کا بھی مینڈیٹ ہے اس کو حکومت دینا چاہیئے،شاہ اویس نوارنی

اگر اب گرینڈ ڈائیلاگ نہ ہوا تو پاکستان میں کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا
0
90

اسلام آباد: عام انتخابات میں ناکامی کے بعد جمیعت علماء اسلام (ف) کے عہدیداران اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

باغی ٹی وی: جمعیت علمائے پاکستان نےعام انتخابات کے نتائج کو مسترد کردیا ہے، جبکہ رہنما جے یو آئی شاہ اویس نورانی نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے دیا، انہوں نے ٹروتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

شاہ اویس نورانی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں بالخصوص عدلیہ جرائم کا اعتراف کریں، 8 فروری کے انتخابات دھاندلی کی بدترین مثال ہیں ادارے بے توقیر ہوچکے ہیں اور افراد کا احترام ختم ہو چکا ہے، انتخابات میں جو ہوا اس کی وجہ سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر رسوائی ہوئی ہے، 8 فروری کے انتخابات دھاندلی کی بدترین مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی پولرائزیشن اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ گھروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، تجربات کرکے ملک کو اس سطح تک پہنچادیا کہ کوئی ملک کا اقتدار لینے کو تیار نہیں انتخابات میں ہمارے ساتھ بدترین ظلم ہوا ہے، ہمیں اپنے ووٹ گننے کے حق سے بھی محروم کیا گیا، اب جس کا بھی مینڈیٹ ہے اس کو حکومت دینا چاہیے، کسی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنا نہیں ڈالا جانا چاہیے، اگر اکثریت نہیں ہے تو شہباز شریف کو حکومت میں نہیں بیٹھنا چاہیے، اگر تحریک انصاف کا مینڈیٹ ہے تو اقتدار ان کو دینا چاہیے۔

پی ایس ایل 9: کوئٹہ نے پشاور کو 16 رنز سے شکست دے دی

شاہ اویس نورانی نے کہا کہ اگر اب گرینڈ ڈائیلاگ نہ ہوا تو پاکستان میں کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا ایم ایم اے نہ ہونے کی وجہ سے مذہبی جماعتوں کا کردار متاثر ہوا ہے، ایم ڈبلو ایم کے ساتھ بیٹھنا تحریک انصاف کا اندرونی معاملہ ہے میں نے اپنا استعفی مرکز کو بھیج دیا ہے، چاروں صوبائی صدور اور جنرل سیکرٹریز بھی اپنا استعفی دیں گے، ہم دوبارہ تنظیم سازی کریں گے اور جے یو آئی کو از سر نو منظم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پر غیر ملکی دباؤ کی وجہ سے بھی مذہبی جماعتوں کو الیکشن میں دیوار سے لگایا گیا، ہم اس الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے پی ٹی آئی نے ابھی رابطہ نہیں کیا،اگر رابطہ ہوا تو ہم سوچیں گے، جنھیں سیٹیں ملیں اور وہ دھاندلی کا کہہ رہے ہیں انہیں پھر پارلیمان میں نہیں جانا چاہیے، جنہیں سیٹیں نہیں ملیں انہیں پارلیمان سے باہر رہ کر آواز اٹھانی چاہیے پرامن احتجاج کرنا چاہیے۔

پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے درمیان معاملات طے پا گئے

Leave a reply