fbpx

لاہورہائی کورٹ نے جسسٹس جمال خان مندوخیل کے سپریم کورٹ میں بطورجج کےعہدے پرفائزہونے کی تجویزکی حمایت کردی

لاہور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ‌ کو لکھے گئے خط میں سپریم کورٹ کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ‌ کو لکھے گئے خط پرلاہور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن نے سندھ ہائی کورٹ‌ کے معززجج اورجوڈیشل کمیشن کے معززممبران کی ہمایت کی ہے.

خط میں لکھا گیا ہے کہ لاہورہائی کورٹ چیف جسسٹس آف بلوچستان جسسٹس جمال خان مندوخیل کو سپریم کورٹ کے بطور جج کے عہدے پر فائز ہونے کی تجویز کو سہراتی ہے، جسسٹس جمال خان مندوخیل بلوچستان کے سینئر ترین جج ہیں، جو ترقی، سالمیت، کارکردگی، سیدھے اور اہلیت کے معیار کو پورا کرتے ہیں، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوی ایشن نے دوسری طرف سندھ ہائی کورٹ کے جج جسسٹس محمد علی مظہر ( جو کہ سینئر لسٹ میں 5 ویں نمبر پر ہیں) سپریم کورٹ میں ترقی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعلیٰ ہائیکورٹ کے چاروں سینئر ججوں کے پاس سپریم کورٹ آف پاکستان میں ترقی پانے کے لیئے وضع کردہ معیارات کا فقدان ہے، سیریل نمبر 5 میں جسسٹس محمد علی مظہر کی ترقی نہ صرف الجہاد ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے جذبے کے خلاف ہے، بلکہ یہ سندھ ہائی کورٹ‌ کے سینئر ججوں کے منحرف ہونے کے مترادف ہے.

جب تک عدالتی کمیشن عدالت عظمیٰ میں تقرری کیلئے شفاف اور واضح معیار کی تشکیل کا کام انجام نہیں دیتا ہے اور اس کو مکمل نہیں کرتا ہے، تب تک یہ سنیارٹی کے اصولوں کو رد کرنا خطرناک ہے، حالیہ اس اصول کو چھوڑنا ان اعلیٰ عدالتوں کے ججوں میں سنجیدہ اور دکھائی دینے والا، تفرقہ اور حوصلے پست کرنے کا باعث بنا ہے، لہذا لاہور ہائی کورٹ‌ بار ایسوسی ایشن اعلیٰ ترین عدالت عظمیٰ کے جج کی حیثیت سے سینئر سندھ ہائی کورٹ‌ کے چیف جسسٹس، اعلیٰ ترین ججوں، اعلیٰ ججوں کی ترقی کی توثیق کرتی ہے.

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، لاہور نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے معزز چیف جسسٹس آف پاکستان جسسٹس گلزار احمد اور سینئرٹیٹی کے معیار پر عمل کرنے کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے تمام معززین کو لکھے گئے خط کی بھی مکمل حمایت کی ہے.