fbpx

لاہور میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی کراچی کی لڑکی کا میڈیکل کروانے سے انکار

کراچی : لاہور میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی کراچی کی لڑکی کا میڈیکل کروانے سے انکار،

متاثرہ لڑکی نے کیس کی مزید پیروی سے بھی معذرت کر لی، عدالت سے پولیس کو زبردستی میڈیکل کروانے سے روکنے کی درخواست کر دی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں کراچی سے آئی لڑکی کو ایک ہفتے کے دوران متعدد مرتبہ مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی نے میڈیکل کروانے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس کیس کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتی۔ متاثرہ لڑکی نے عدالت میں درخواست جمع کروائی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پولیس اس کا زبردستی میڈیکل کروانے کی کوشش کر رہے ہے، پولیس کو اس عمل سے روکا جائے۔

متاثرہ لڑکی نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ وہ اب اس کیس کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں انکشاف ہوا تھا کہ کراچی کی ایک لڑکی کو لاہور آنے کے بعد ایک ہفتے کے دوران کئی مرتبہ مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ لڑکی کی جانب سے درج کروائی گئی شکایت میں بتایا گیا کہ وہ کراچی شہر کی رہائشی ہے اور آن لائن گیم پب جی کھیلتے ہوئے لاہور کے ایک لڑکے سے دوستی ہو گئی۔ بعد ازاں اس لڑکے نے شادی کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے لاہور آنے کا کہا جس پر میں 23 نومبر کو بذریعہ ریلوے لاہور پہنچی۔
لاہور پہنچنے کے بعد پب جی کے ذریعے دوست بننے والا لڑکا مجھے ایک ہوٹل میں لے گیا جہاں مجھے 3 دن تک زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ بعد ازاں ملزم مجھے ہوٹل میں چھوڑ کر فرار ہو گیا اور پھر میں ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ جب وہ اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کر رہی تھیں تو دو آدمیوں نے انہیں نوکری دلانے کا وعدہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ مشتبہ افراد انہیں سرور روڈ پر واقع ایک گھر میں لے گئے جہاں اس کا کئی مرتبہ ریپ کیا لیکن وہ بالآخر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے ساتھ ریپ کی ایف آئی آر 28 نومبر کو نارتھ کینٹ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی اور اب کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!