پاکستان کے قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے آج وفاقی سطح پر محتسب کے احکامات کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔

ایوان صدر میں ہونے والی اس اہم سماعت میں صدر پاکستان کے نامزد امیدوار جسٹس (ر) عرفان قادر بھی موجود تھے، جو ان نمائندگیوں پر کارروائی اور فیصلہ کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔سماعت میں کام کی جگہ پر ہراسانی سے متعلق تحفظ کے لیے وفاقی محتسب اور وفاقی انشورنس محتسب کے معاملات پر غور کیا گیا۔قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نےوفاقی محتسب کے احکامات کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے بعد اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ میں صدر پاکستان نے اپنے نامزد امیدوار کے ذریعے سیکڑوں مقدمات کا فیصلہ کیا، ایوانِ صدر نے ایگزیکیٹیو کی بد انتظامی کے خلاف پسماندہ طبقات، بیواؤں، معذور افراد بشمول اقلیتوں اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ریلیف فراہم کیا،حالیہ دنوں میں مقدمات کا اس طرح فوری طور پر نمٹنا بے مثال ہے، شہریوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ٹیکسیشن اور بینکنگ سیکٹر میں بھی بڑے پیمانے پر ریلیف فراہم کیا گیا، وفاقی سطح پر محتسب کے ادارے، بشمول صدر کے نامزد کردہ اعلیٰ ترین فورم نے، وفاقی حکومت کے تمام محکموں، خود مختار اداروں اور دیگر سے متعلق امور میں ایگزیکٹو کی بدانتظامی کے خلاف عام لوگوں کو ریلیف فراہم کیا، وفاقی محتسبوں اور صدر کے دفتر کے ذریعے ہر سال دو لاکھ سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا جا رہا رہا ہے، میڈیا لوگوں میں محتسب کے دفاتر بارے آگاہی پیدا کرے، محتسبوں کے ذریعے بڑی تعداد میں شکایات کا پہلے ہی ازالہ کیا جا چکا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید ازالہ کیا جائے گا،

سروسز چیفس کی مدت،پریکٹس اینڈ پروسیجر سمیت اہم بلز کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری

قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

Shares: