کراچی میں واقع صنعتوں کو پچھلے کئی دنوں سے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اس کی وجہ سے پیداواری سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں اور خدشہ ہے کہ ایکسپورٹ/ برآمدی آرڈر ضائع ہوسکتے ہیں۔کراچی ٹرینڈ انڈسٹری کے ذمدار افراد نے صنعتوں کو پانی کی عدم فراہمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی گورمنٹ کو تنبیہہ کی کے جلد از جلد اس مسئلے کا حل نکالا جائے، اور وزیر اعلی سندھ سے درخواست کی کہ وہ اس کا فوری نوٹس لیں۔ صنعتوں کے استعمال کے مطابق پانی کی فراہمی کے لئے منتخب ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر واٹر بورڈ کو ہدایت جاری کریں۔ تاکہ اس مسئلے کہ فوری حل ہو اور پیداوار کی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکیں۔گورمنٹ کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کے پیداواری سرگرمیوں کے تسلسل کے لئے پانی انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہ بنیادی خام مال میں سے ایک ہے ، لیکن ان دنوں کراچی کی صنعتوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ، جبکہ ٹینکر مافیا میں وافر مقدار میں پانی موجود ہے اور وہ اپنی مرضی کا معاوضہ وصول کر کے سپلائی دیتے ہیں جس سے اِنکی سامان کی قیمت پے اضافہ ہوتا ہے اِنکی سامان کی بناوٹ کو قیمت میں اضافہ ہوتا ہے. اس کے برعکس ، واٹر بورڈ لائنوں سے پانی دستیاب نہیں ہے ، جو کے اس ادارے کے لیئے سوالیہ نشان ہے؟ انہوں نے کہا کہ فیکٹریوں کو پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے پیداواری سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں۔ اس کا خدشہ ہے کہ اس سے سامان کی پیداوار اور غیر ملکی احکامات کی بروقت فراہمی متاثر ہوسکتی ہے ہزاوں مزدور بے روزگار ہوسکتے ہیں.
وفاق گورنمنٹ کا مستقل پیداواری سرگرمیاں بڑھانے پے زور ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے لیکن پانی کی نہ کافی سپلائی کی وجہ سے کراچی کی صنعتیں مستقل تعطل کا شکار ہے یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کو فوری حل کیا جانا چاہئے کیوں کورونا وبا کے باعث پہلے ہے بہت سی انڈسٹری مال کے آرڈر نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوئی اور بہت سے مزدور فارغ ہوئے کہیں یہ پانی کا تعطل بھی ہماری صنعتوں کو کچھ اسّی طرح کا نقصان نہ دے.
لوکل گورنمنٹ کو اس مسئلے پے فوری نوٹس لینے کی ضروری ہے تاکہ برآمدات کے آرڈرز کو دئیے گئے وقت پے مکمل کر کے بھیجا جا سکے.

@umesalma_

Shares: