امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

0
152
usa

امریکی کانگرس کی قرارداد 901 کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ آپریشن گولڈ سمتھ کا ایک حصہ ہے۔جس کا مقصد پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو بدنام کرنا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد 901 پیش کی گئی تھی جو پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال کی حمایت کیلیے تھی، یہ قرارداد ریپبلکن سینیٹر رچرڈ میک کارمک نے گزشتہ برس 30 نومبر 2023 کو پیش کی تھی۔امریکی سینیٹر کی اس قرار داد کو 21 مارچ 2024 کو امریکی کمیٹی برائے خارجہ امور میں بحث کے لئے بھیجا گیا تھا،جس کے بعد 24 جون 2024 کو قرارداد کو ایوان میں غور کے لیے پیش کیا گیا ،امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد 901 کی وقفے وقفے سے ٹیبلنگ کے اوقات کافی دلچسپ ہیں ، قرارداد 901 میں پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، وہ بھی کسی صورت درست نہیں ہیں،اصل میں یہ قرارداد ترقی کرتے پاکستان کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش و سازش ہے

امریکی کانگریس کی قرارداد 901 "آپریشن گولڈ اسمتھ 2.0” کی ایک کڑی نظر آتی ہے،جو کہ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو نشانہ بنانے والی بدنامی کی مہم ہے، جس کا آغاز ایک سیاسی جماعت نے کیا تھا اور وہی ان سارے عوامل کے پیچھے ہے، حقائق کے برعکس بات کرنا، پروپیگنڈہ پھیلا کر قرارداد 901 کا مقصد جمہوریت اور انسانی حقوق کے شعبوں میں پاکستانی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں بے بنیاد شکوک و شبہات کو جنم دینا ہے۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی رکھنے والا ملک ہے، پاکستان میں 8 فروری کو رواں برس پرامن انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں حکومت تشکیل میں آئی جو جمہوریت کے روح کے مطابق کام کر رہی ہے، حکومت بجٹ پیش کر چکی ہے.پاکستانی معیشت سنبھل رہی ہے، مہنگائی میں کمی ہو رہی ہے، جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے،تو پاکستان میں انسانی حقوق کے حالات پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک سمیت پاکستان قدرے بہتر ہے.

پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر ریاستی اداروں کی حکومت کو مکمل حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہے، دہشت گردوں، انکے سہولت کاروں کے خلاف پاکستان نے ابھی چند دن قبل ہی آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے.

فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی سیاسی حکومت براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر کے معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سخت معاشی اقدامات کے ذریعے ڈالر کے غیر قانونی بہاؤ، اسمگلنگ اور کارٹیلز کی اجارہ داری کو کنٹرول کرنے میں کامیابی ہوئی ہے۔ نتیجتاً، فصلوں کی پیداوار کی سطح میں بہتری آئی ہے، افراط زر میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے اور تمام معاشی اشاریے تیزی کا رجحان دکھا رہے ہیں۔ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج تاریخ میں پہلی بار 78 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گئی۔ معروف اقتصادی ویب سائٹ بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی 27 فیصد اسٹاک ریلی ایشیا میں آگے ہے اور اس سال کے آخر تک 10 فیصد مزید اضافہ متوقع ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کا تجربہ کامیاب رہا ہے، جس کا منافع اپنے قیام کے ایک سال کے اندر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت پاکستان ریاست اور اس کے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ عوام اور افواج کے درمیان سماجی معاہدہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستان کے حوالہ سے قرارداد اسرائیل اور بھارت نواز رکن کانگریس کے ذریعے جمع کروائی گئی، امریکی قرارداد جس شخص نےامریکی ایوان نمائندگان میں پیش کی، اِس شخص کا نام رچ میک کارمک (Rich McCormick) ہے۔ یہ کانگریس میں امریکہ میں اسرائیلی لابی کو کا سب سے بڑا سپورٹر ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران اِس نے اپنی ایک ٹویٹ میں اسرائیلی بربریت کی کھلم کھلا سپورٹ کی اور فلسطینی مسلمانوں کو برائی سے تشبیہ دی ہے ،آج کل یہ شخص پی ٹی آئی کا سب سے بڑا لابیسٹ ہے۔ پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ اپنی ریاست کے خلاف اِس سازش کو سمجھیں، اور اپنے گردو نواح اُن لوگوں کو پہچانیں جو اِس سازش کے آلہ کار ہیں اور پاک فوج کو کمزور کر کے پاکستان کو عراق اور لیبیا بنانا چاہتے ہیں۔

یہ لابی پہلے سے پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینے میں مصروف ہے جس کا پی ٹی آئی سے براہ راست گٹھ جوڑ ہے،امریکہ میں ایک لابسٹ فرم کی خدمات بھی اسی سلسلے میں حاصل کی گئی تھیں جس نے 9 مئی کو فالس فلیگ آپریشن ثابت کرنے والی رپورٹ چھپوانے کیلئے ایک امریکی سینیٹر کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر ادا کئے۔ آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالے سے باتیں سوشل میڈیا پر پہلے ہی زیر گردش ہیں، خبریں اور تجزیئے شائع کرانا آپریشن گولڈ سمتھ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی مخصوص سیاسی جماعت نے 25 ہزار ڈالر ماہانہ کے عوض امریکی فرم کی خدمات حاصل کیں،بیرون ملک مخصوص جماعت کے حامی پاکستان میں انتخابات سے متعلق گمراہ کن پراپیگنڈہ کر تے رہے، مخصوص سیاسی جماعت سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے تمام حدیں پار کر چکی۔ آپریشن گولڈ سمتھ کا مقصد پاکستان پر سفارتی اور انسانی حقوق کے اداروں کے ذریعے دباؤ بڑھانا ہے۔

آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے اب آپ دیکھیں گے کہ عنقریب پاکستان کے میڈیا میں آپ کو خبریں آئیں گی ایک اور پینڈورا باکس کھلے گا ایک طوفان بدتمیزی مچایا جائے گا آن لائن ہو گا پاکستان میں نہیں ہوگا پہلے باہر ہو گا اور اسی سے آپ کڑیاں ملا سکتے ہیں پہلے باہر ہو گا پھر پاکستان میں آئے گا پھر ٹی وی پر ہم بحث کریں گے مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں آپریشن گولڈسمتھ انتشار پھیلائے گا اور لوگوں کو مزید کنفیوز رکھے گا لوگ اب جو سیٹل ہونا شروع ہو گئے ہیں امیدیں بننا شروع ہو گئی ہیں کہ اب گورننس بہتر ہو رہی ہے،ان میں انتشار پھیلے گا-

Leave a reply