پاکستان نے نئے نامزد بھارتی ناظم الامور کو ویزہ دینے سے انکار کردیا

پاکستان اور بھارت کی تاریخ میں پہلی بارپاکستان نے بھارت کی طرف سے نامزد کئے جانے والے نئے ناظم الامور جیانت کھوبراگڑے کی تعیناتی کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ویزہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ باغی ٹی وی کو بھارتی دفتر خارجہ سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق پاکستان میں اس وقت تعینات بھارتی ناظم الامورگورو آہلووالیہ کی مدت ملازمت جون سے ختم ہو چکی ہے اور وہ اس وقت اسلام آباد میں اضافی طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی جگہ پر بھارتی حکومت نے اٹامک انرجی ڈیپارٹمنٹ کے جوائنٹ سیکرٹری جیانت کھوبراگڑےکو پاکستان میں نیاناظم الامور مقرر کیا اور اس بارے میں پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیالیکن پاکستان کی طرف دفتر خارجہ میں ڈائریکٹرساوتھ ایشیانے بھارتی حکام کوبتادیا ہے کہ جیانت کھوبرا گڑے پاکستان کو قابل قبول نہیں اس لئے ان کوویزہ جاری نہیں کیاجاسکتا۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ ناظم الامور کی پوسٹ کے لئے بہت سینئرہیں اس لئے بھارت کوئی جونئیر آفیسر تعینات کرے۔ جیانت کھوبراگڑے اس سے قبل کرغستان میں بھارتی سفیر بھی رہ چکے ہیں جب وہ پاکستان میں بھی تعینات رہے ہیں۔ بھارتی دفتر خارجہ نے جیانت کھوبراگڑے کی پاکستان میں تعیناتی کومسترد کرنے کے پاکستانی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور اسے ویانا کنونشن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سفارتکارکو دوسرے ملک میں تعینات کرنا اس ملک کا اپنا استحقاق اور فیصلہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ کسی سفارتکار کی تعیناتی کو مسترد کر دے۔ بھارتی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور بھارت کی سفارتی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس پر بھارت کو سخت حیرت ہوئی ہے۔ 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.