fbpx

پاکستان کے کھوٹے سکے

پاکستان کے کھوٹے سکے
تیسری وآخری قسط
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
واضح رہے کہ مشرف ہی کے دور میں پاکستان میں گمشدگیوں میں اضافہ ہوا۔افغانستان پر حملے کے وقت مبینہ طور پر بہت سے القاعدہ دہشتگرد افغان سرحد عبور کر کے شمالی وزیرستان میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انہیں شروع میں ہی داخل ہونے سے روکا جاتا کیونکہ پھر انہی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کرناپڑا، جس کی زد میں سویلین عوام بھی آئے۔ ان آپریشنز کا سلسلہ 2004میں شمالی وزیرستان سے شروع ہوا لیکن آہستہ آہستہ جنوبی وزیرستان، باجوڑ ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، خیبر ایجنسی تک پھیل گیا۔ بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان کی صورت میں نمودار ہونے والے نئے چیلنج نے ان آپریشنز کو سوات، دیر اور بونیر تک پھیلادیا۔ اس جنگ نے پاکستان کے پرامن قبائلی علاقوں میں انتشار پیدا کیا ۔جنرل پرویز مشرف ہی کے دور میں امریکہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرنے کی اجازت دی گئی۔ اگلے چند سالوں میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہزاروں بیگناہ قبائلی شہریوں کی جانیں گئیں اور ہزاروں کی تعداد میں بوڑھے، بچے اور مردوخواتین اپاہج ہوئے۔جنرل مشرف کے حکم پر 26اگست 2006کوڈیرہ بگٹی میں ایک غار پر میزائل حملے میں اکبر بگٹی کو ماردیاگیا۔ اس قتل نے بلوچستان میں وہ آگ لگائی جس کے شعلے آج بھی ٹھنڈے نہیں ہوئے۔لال مسجد آپریشن نے جنرل پرویز مشرف کی مقبولیت کو سب سے بڑا دھچکا لگایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے سربراہ نے طلبہ کو ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر ابھارا تھا اور اس کا سد باب لازمی تھی لیکن پہلے تو لال مسجد میں اسلحہ بھرا جاتا رہا اور یہ سکیورٹی کی سطح پر بڑی ناکامی ہی تھی کہ اس مدرسے میں اتنا اسلحہ جمع کر لیا گیا کہ کئی دن تک فوج کا آپریشن جاری رہا تب جا کر لال مسجد clear ہو سکی۔ اس آپریشن کے حوالے سے بھی چودھری شجاعت کے مطابق بات چیت کے ذریعےحل نکالا جا چکا تھا لیکن پھر اچانک نجانے کیا ہوا کہ فوج کو آپریشن کا حکم دے دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن مشرف نے محض اس لئے کیا کہ امریکہ اور چین کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہیں اور لال مسجد میں اسلحے کو بلا روک ٹوک جمع ہونے دینے کی وجہ بھی یہی تھی کہ مغرب کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان میں جنرل مشرف نہ ہوں تو یہاں دہشتگرد قبضہ کر لیں گے۔ 28جولائی 2007 کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن تقریبا ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے 18اکتوبر کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں150 افرادکو موت کی نیند سلادیاگیا جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ)سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی محترمہ بے نظیربھٹو دوبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک ملک میں نگران حکومت بن چکی تھی اور مختلف پارٹیاں انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ۔27دسمبر 2007 کو جب محترمہ بے نظیربھٹو لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آبادجا رہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد محترمہ بے نظیربھٹو کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں محترمہ بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے فوراََ بعد راولپنڈی فائر بریگیڈ کے عملے نے جائے وقوعہ کو پانی کے ذریعے دھو کر چمکا ڈالا۔ ان کا یہ عمل آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
2018کے عام انتخابات میں سابق کرکٹرعمران کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی سمیٹی اس طرح 17اگست 2018 کو عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 10 اپریل 2022 تک بطور وزیراعظم رہے۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی طرف سے عدم اعتمادکی کامیابی پرعمران خان کووزیراعظم ہائوس سے نکلناپڑا ۔ درحقیقت دو دہائیوں پر مشتمل اپنے سیاسی سفر میں انہوں نے لچک دکھانے، عہد کی پاسداری کرنے یا اصولوں کی پیروی کرنے کے فن کو کبھی نہیں سیکھا۔ وہ عمدگی کے ساتھ اکسانے والے، مقبول بیانئے کو قائم کرنے اور عوام کے خوابوں کی پہچان رکھنے کے ماہر تو رہے تاہم ان میں انہیں عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت نہ تھی۔ 2018 میں ان کی اقتدار میں آمد کرپشن، نوجوانوں میں بیروزگاری کا مسئلہ حل کرنے اور دنوں میں معیشت کی بحالی کے بلند بانگ وعدوں سے مامور تھی۔ بدقسمتی سے ناقص حکمرانی اور غلط ترجیحات کی وجہ سے یہ وعدے کبھی پورے نہ ہو سکے۔
آخر کارعمران خان کو اس بنا پر یاد رکھا جائے گا کہ وہ معاشی چیلنجزکا مقابلہ نہ کرسکے ،عوام کو مہنگائی کے سونامی کے سپردکردیا،ہوشربامہنگائی نے کروڑوں لوگوں کو غربت کی لکیرسے نیچے دھکیل دیا، اس پر توجہ دینے کے بجائے وہ حزب اختلاف کو نشانہ بناتے رہے۔عمران خان حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے زرمبادلہ، داخلی و بیرون ملک سے لیے گئے قرضوں اور آئی ایم ایف کے معاشی بیل آٹ پر بڑی حد تک انحصار کرتی رہی ۔ آخر میں اپنی حکومت کے خلاف خاص کر گنجان آباد اور سیاسی اعتبار سے اہم صوبے پنجاب میں پائی جانے والی ناراضگی کا رخ موڑنے کے لیے عمران خان نے یہ جواز پیش کیا کہ امریکہ کی بائیڈن حکومت نے ملک میں انتقال اقتدار کے لیے پاکستان کی حزب اختلاف سے مل کر سازش کی ہے اورنیاپاکستان بنانے کیلئے اورنعرے کااضافہ کیا”کیاہم غلام ہیں۔۔؟”عوام کواس نعرے سے مسلسل بیوقوف بنارہاہے جبکہ درپردہ امریکہ سے اپنے معاملات طے کررہاہے رواں ماہ جس کی جھلک خیبرپختون خواہ کے وزیراعلیٰ محمودخان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات کی صورت میں سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعلی خیبر پختون خواہ محمود خان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے ملاقات کی ہے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیراعلی محمود خان نے امریکی سفیر کو صوبے کے پہلے دورے پر خوش آمدید کہا، اس موقع پر انہوں نے مختلف شعبوں میں کے پی حکومت سے تعاون اور اشتراک پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔محمود خان نے کہا کہ مختلف شعبوں میں امریکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس ملاقات سے قبل امریکی سفیر نے محکمہ صحت کے پی کو یو ایس ایڈ کے تحت 36ہیلتھ وہیکلز حوالے کرنے کی تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ہیلتھ وہیکلز فراہمی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔خیبرپختون خواہ کے وزیراعلیٰ محمودخان نے امریکی سفیرسے گاڑیاں لیکر عمران کے بیانیہ کیاہم امریکہ کے غلام ہیں کواُڑاکررکھ دیاہے ۔اس ملاقات نے رجیم چینج کے غبارے سے بھی ہوانکال دی ہے۔عمران خان ہروقت اپنے مخالفین کوچورچورکہنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،اسی چورچورکے شورمیں الیکشن کمیشن کاممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کافیصلہ بھی آگیا ہے جس میں لکھاگیا ہے کہ پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ثابت ہوچکاہے، پاکستان تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کا کیس بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014میں دائر کیاتھا،الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ برس بعد سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف پر غیر ملکی فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔پی ٹی آئی نے امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثار احمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ سنایا،الیکشن کمیشن نے 21جون کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،فیصلے کے مطابق تحریک انصاف پارٹی نے عارف نقوی اور 34 غیر ملکی شہریوں سے فنڈز لیے جبکہ 8 اکانٹس کی ملکیت ظاہر کی اور 13 اکانٹس پوشیدہ رکھے گئے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے غلط ڈکلیئریشن جمع کرایا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اکائونٹس چھپائے، بینک اکائونٹس چھپانا آرٹیکل 17کی خلاف ورزی ہے،13 نامعلوم اکاونٹس سامنے آئے ہیں جن کا تحریک انصاف ریکارڈ نہ دے سکی، پی ٹی آئی نے جن اکائونٹس سے لاتعلقی ظاہر کی وہ اس کی سینئر قیادت نے کھلوائے تھے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے پاس سال 2008سے 2013تک غلط ڈیکلریشن جمع کروائے جبکہ ان کے پاس فنڈنگ درست ہونے کے سرٹیفکیٹ نہیں تھے۔
اب وفاق میں سابقہ اپوزیشن اتحادپی ڈی ایم کی حکومت ہے جس کے وزیراعظم میاں محمدشہباشریف ہیں جوابھی تک عوام کوکچھ ڈیلیورکرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ضروریات زندگی کی تمام اشیاء عوام کی قوت خرید سے باہرہوچکے ہیں۔پٹرولیم مصنوعات مہنگی،گھی ،دالیں ،سبزیاں،آٹااورادویات اتنامہنگی ہوچکی ہیں کہ دیہاڑی دارمزدورسے زندہ رہنے کاحق بھی چھین لیاگیاہے۔1947سے 2022تک اس مملکت پاکستان کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے گئے۔ کرپشن دھونس دھاندلی اوربے ایمانی نے قائداعظم کے پاکستان کی معیشت کوتباہ و بربادکردیا ہے ،ایوب خان کے دورمیں 20گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں لیکن اب ان کی تعداد22ہوچکی ہے،ان کرپٹ خاندانوں کی وجہ سے مملکت پاکستان اتنامقروض ہوچکا ہے کہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ،پاکستان پر جتنابھی قرض ہے وہ کسی عام پاکستانی نے نہیں لیااورنہ ہی کوئی کرپشن کی ہے اورنہ ہی قرض لی گئی رقم عام پاکستانی پر خرچ کی گئی ، قرض لی گئی تمام رقوم یہ22خاندان مختلف حیلوں بہانوں سے ہڑپ کرتے آرہے ہیں ۔یہ سب ڈاکولٹیرے حکمران جنہوں نے پاکستان کی ہرایک چیز بیچ کھائی ہے ،ان لوگوں کی دولت میں روزبروزاضافہ ہورہالیکن میراملک پاکستان مزید قرضوں کے بوجھ میں دبتاجارہاہے ،یہ انہی لوگوں کی اولادیں ہیں جن کے بارے میں میرے قائد حضرت قائداعظم محمدعلی جناح نے فرمایاتھاکہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں ۔(ختم شد)