اسلام آباد: وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تاخیر پر پاکستان پر 18 ارب روپے جرمانے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم جان بوجھ کر غلط بتائی گئی ہے اور ای سی سی میں ان کے دوستانہ رویے کی وجہ سے یہ تفصیلات درست نہیں ہیں مصدق ملک نے وضاحت کی کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر 18 ارب روپے کے جرمانے کا کوئی تخمینہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خبر محض جھوٹ پر مبنی ہے اور کسی بنیاد پر قائم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلومات غلطی سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر غلط بیان کی گئی ہیں۔وزیر پیٹرولیم نے ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے بھی اہم اعلان کیا اور کہا کہ اگلے دو ماہ میں اس منصوبے پر ایک بڑا معاہدہ متوقع ہے۔ انہوں نے ریکوڈک منصوبے کو ملک کے لئے گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بلوچستان میں موجود مسائل کا حل نکلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے ہمارے دشمن ممالک کا ہاتھ ہے، اور ان کی سازشوں سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔
مصدق ملک نے سعودی عرب کے ساتھ جاری مذاکرات کو بھی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت جلد ایک بڑا سرپرائز متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا اور حکومت بجلی کی قیمتوں پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں، سرکلر ڈیٹ اور کپیسٹی پیمنٹس پر چار یا پانچ الگ الگ ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور امید ہے کہ جلد عوام کو کچھ ریلیف ملے گا۔سردیوں کے دوران گیس کی سپلائی کے چیلنجز کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ بجلی کی کھپت کم ہونے کی صورت میں گیس کی قیمتیں بڑھائی جا سکتی ہیں تاکہ کپیسٹی پیمنٹ سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہیٹرز اور چولہے گیس کی بجائے بجلی پر منتقل کر دیے جائیں تو سردیوں میں بجلی کی کھپت بڑھ سکتی ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے گرین ریفائنری کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں اور بتایا کہ اس کی کمرشل رپورٹ دسمبر میں سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پیٹرو کیمیکلز کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے اور گرین فیلڈ ریفائنری میں 50 فیصد پیٹروکیمیکل اور 50 فیصد پیٹرولیم ہوگا۔ ریکوڈک منصوبے پر نان ڈسکلوژر اگریمنٹ میں ہونے کی وجہ سے جلد مثبت خبر متوقع ہے۔بلوچستان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے، مصدق ملک نے کہا کہ ان کا حل صرف ریکوڈک منصوبے میں نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود میں ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں بیرونی مداخلت کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ فرنٹیئر ریجن میں کمپنیوں کو طے شدہ طریقے کے تحت سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ سولر پر رپورٹ جلد وزیراعظم کو پیش کی جائے گی اور گیس پائپ لائن منصوبے پر جرمانے کے حوالے سے کوئی درست تخمینہ نہیں ہے۔








