وزیر اعظم عمران خان نے بیجنگ سے روانگی سے قبل چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کی۔
باغی ٹی وی : وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان چیی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد واپس وطن روانہ ہوچکے ہیں۔ دونوں رہنماوں کے درمیان عالمی اور باہمی معاملات پر گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر، مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان 2 بجے چین سے واپس وطن پہنچیں گے ۔ نور خان ائیر بیس پر وفاقی وزراء میڈیا سے گفتگو کریں گےاور دورہ چین پر روشنی ڈالیں گے۔
انہوں نے دورۂ چین کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک میں اربوں ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی ہم منصب لی کی چیانگ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے آج ملاقاتیں کی تھیں بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ وزیراعظم نے آج کا دن بھی مصروف گزارا، وہ پہلے چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے تمام ممالک کے سربراہان کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے میں شریک ہوئے تھے-
”خونِ دل دے کر نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے:آئی ایس پی آر
فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ چین نے ایک بار پھر کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی یقین دہانی کرائی جبکہ عالمی برادری بھی ہمارے موجودہ مؤقف کی بھرپور حمایت کررہی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے چین کو ہانگ کانگ اور تائیوان میں جاری مسئلے پر پاکستان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وزیراعظم عمران خان کی چینی ہم منصب لی کی چیانگ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جبکہ اقتصادی، تجارتی تعلقات، سی پیک، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اعلامیے کے مطابق دونوں فریقین نے پاک چین اسٹریٹجک تعاون، بنیادی دلچسپی کے امور پر حمایت کا اعادہ کیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ سرمائی اولمپکس کے انعقاد پر چینی ہم منصب کو مبارک باد بھی پیش کی۔
لی کی چیانگ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات دونوں ممالک کے بنیادی مفاد میں ہے، گزشتہ سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کی کامیاب تقریبات نے دوطرفہ دوستی کو ایک نئی جہت دی پاکستان صنعتی، تجارت، صحت، ڈیجیٹل اور گرین کوریڈورز کے ذریعے سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔
ایف بی آر میں غیرقانونی ادائیگیوں کا سب سے بڑا اسکینڈل سامنے آگیا
وزیراعظم نے کوویڈ 19 سے نمٹنے، ویکسین کی بروقت فراہمی میں پاکستان کی مدد پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، توانائی، سماجی و اقتصادی ترقی، لوگوں کی زندگیوں میں بہتری میں سی پیک کے کردار کو سراہا عمران خان نے چینی ہم منصب کو کو سی پیک اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز میں چینی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کیا اور پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورت حال، کشمیری عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے عالمی برادری کی طرف سے فوری اقدام کی اہمیت کو اجاگر کیا جبکہ افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے لیے پاکستان اور چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی روابط کو مزید گہرا کرنے اور مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، کثیر جہتی تعاون پر مبنی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملک میں مزید 6 ہزار 137 کورونا کیسز رپورٹ
قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کی ازبکستان کے صدر سے ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت اور سیاحت کے فروغ کے لیے براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا، وزیراعظم نے ریلوے منصوبے کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا دونوں رہنماؤں نے تعلیم اور ثقافت میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا، علاقائی امن و استحکام پر بھی غور کیا گیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سیاحت اور عوامی رابطے بڑھانے کیلئے ہنگامی اقدامات پر غور اور علاقائی امن و استحکام کےلیے جاری اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے تعلیم، ثقافت اور ڈرامہ و فلم انڈسٹری میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان علاقائی استحکام کیلئے ضروری ہے۔ وزیراعظم نے ازبک صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی، جب کہ دونوں رہنماوں نےعالمی برادری سے افغانستان کی اقتصادی امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔