وزیراعظم کی عدلیہ پر تنقید ، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

باغی ٹی وی : لاہور ہائی کورٹ میں وزیراعظم کی عدلیہ پر تنقید روکنے کے لیے درخواست کی سماعت ہوئی .درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم کی عدلیہ پر تنقید توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے . عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا،لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا.

درخواست میں وزیراعظم عمران خان پر ٹی وی پروگرام میں مبینہ طور پر عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے کاالزام ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں سردار فرحت منظور چانڈیو ایڈووکیٹ نے وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کی آئینی درخواست دائر کر رکھی تھی . ۔درخواست میں وزیراعظم کے پرسنل سیکرٹری کے ساتھ ساتھ سیکرٹری اطلاعات، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پی ٹی وی کو بھی فریق بنایا گیا ہے ۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 4 اپریل 2021 کو پی ٹی وی سے لائیو پروگرام نشر کیا گیا جس میں وزیر اعظم عمران خان سوالوں کے جوابات دے رہے تھے۔ وزیراعظم نے مذکورہ پروگرام میں عدلیہ مخالف بیان دیا اور پیغام کے ذریعے عدلیہ کے ججوں پر نواز شریف سے تعلقات کا الزام لگایا ۔

لاہور ہائیکورٹ میں درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے نیب کی ناقص تفتیش کا ذمے دار ججز کو ٹھہرانے کی کوشش کی ۔ وزیر اعظم نے اپنے الفاظ سے آئین کے آرٹیکل 204 کی خلاف ورزی کی ہے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔عمران خان آرٹیکل 68 اور 114 کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوئے جو حتیٰ کے پارلیمنٹ میں بھی عدلیہ کے خلاف اس طرح کے توہین آمیز بیانات کی ممانعت کرتے ہیں۔ اس طرح کے طرز عمل کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلے میں فوری کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ معزز ججز کے وقار کو بحال رکھا جا سکے۔

اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مزید موقف اپنایا گیا تھا کہ ماضی میں توہین عدالت پر متعدد بار اسٹیک ہولڈرز کو سزا ہوئی۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سرفہرست ہیں جنہیں اس وقت سزا ہوئی جب وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وزیر اعظم کو مستقل طور پر عدلیہ اور معزز ججز کے خلاف اس طرح کے توہین آمیز بیانات دینے سے روکا جائے اور ملک اور عوام کے وسیع تر مفاد میں اس طرح کا توہین آمیز مواد نشر کرنے ان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر کے وضاحت بھی طلب کی جائے

Shares: