سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

کسی امیدوار کے کردار کا تعین کرنا عدالتوں کا کام نہیں بلکہ جمہوری معاشروں میں یہ کام ووٹر کا ہے،
0
131
supreme court01

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاست دانوں کی نااہلی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

باغی ٹی وی :53 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا، فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ شامل ہے جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ بھی تفصیلی فیصلے کا حصہ ہے۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاست دانوں کی نااہلی کیس میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا، جس میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کو عوامی رائے اور عوام کی شاباشی حاصل کرنے کے بجائے آئین و قانون کے تحت فیصلے کرنے چاہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاناما کیس فیصلے میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت سپریم کورٹ براہ راست کورٹ آف لاء کے تحت کسی امیدوار کی اہلیت کا تعین کیسے کر سکتی ہے؟ کسی امیدوار کو نااہل کرنے میں عدلیہ کو انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی امیدوار کے کردار کا تعین کرنا عدالتوں کا کام نہیں بلکہ جمہوری معاشروں میں یہ کام ووٹر کا ہے، نہ آئین میں اور نہ ہی کسی قانون میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کورٹ آف لاء کون سا عدالتی فورم ہوگا جو ڈیکلریشن دینے کا مجاز ہوگا۔

24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاست دانوں کی تاحیات نا اہلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے، سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نا اہلی کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے۔

فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نا اہلی کا ڈکلیئریشن دے کر آئین بدلنے کی کوشش کی الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد نا اہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں تاحیات نا اہلی کا کہیں ذکر نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا تصور بنیادی حقوق کی شقوں سے ہم آہنگ نہیں، ضیا الحق نے مارشل لا لگا کر آرٹیکل 62 میں تاحیات نااہلی کی شق شامل کرائی،تاحیات نا اہلی انتخابات لڑنے اور عوام کے ووٹ کے حق سے متصادم ہے۔

عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عدالت الیکشن ایکٹ کے اسکوپ کو موجودہ کیس میں نہیں دیکھ رہی،آرٹیکل 62 ون ایف کو تنہا پڑھا جائے تو اس کے تحت سزا نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں درج نہیں کہ کورٹ آف لا کیا ہے، آرٹیکل 62 ون ایف واضح نہیں کرتا کہ ڈکلیئریشن کس نے دینی ہے، ایسا کوئی قانون نہیں جو واضح کرے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کا طریقہ کار کیا ہوگا،سابق جج عمر عطا بندیال نے سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ لکھا اور خود فیصلے کی نفی بھی کی، سابق جج عمر عطا بندیال نے فیصل واوڈا اور اللہ ڈینو بھائیو کیس میں اپنے ہی فیصلے کی نفی کی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ تاحیات نا اہلی ختم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرتا ہوں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی مستقل یا تاحیات نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن تک محدود ہے، نا اہلی تب تک بر قرار رہتی ہے جب تک کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن موجود ہو، سپریم کورٹ کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ درست تھا۔

ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

Leave a reply