اوکاڑہ،غیرقانونی ایل پی جی شاپس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری

اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)شہر میں غیرقانونی ایل پی جی شاپس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری، 4 دکانیں سیل، 3 کو نوٹسز جاری، سول ڈیفنس آفیسر عدنان قیصر کی زیر نگرانی غیر قانونی اور غفلت برتنے والی ایل پی جی ری فلنگ شاپس کے خلاف بلاامتیاز کاروائیاں جاری ہیں۔ سول ڈیفنس کی ٹیموں نے شہر کے مختلف علاقوں میں فیلڈ چیکنگ کے دوران شدید نوعیت کی خلاف ورزیوں پر 4 ایل پی جی دکانوں کو موقع پر سیل کر دیا، جبکہ آگ بجھانے والے آلات کی عدم دستیابی اور ناقص انتظامات پر 3 دکانداروں کو نوٹسز جاری کیے۔ مزید برآں صنعتی و تجارتی مراکز میں حفاظتی تدابیر کے پیش نظر سول ڈیفنس کی پیشہ ورانہ ٹیم نے ایک نجی رائس مل کے 17 ورکرز کو آتشزدگی سے بچاؤ، فائر آلات کے استعمال اور ایمرجنسی میں بروقت انخلاء کی عملی تربیت دی تاکہ کسی بھی ممکنہ ناگہانی حادثے پر بروقت قابو پایا جا سکے۔ سول ڈیفنس آفیسر عدنان قیصر نے کہا کہ بغیر این او سی اور غیر محفوظ طریقوں سے ایل پی جی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کے تحت سخت کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی ری فلنگ کی ہر دکان پر موثر آگ بجھانے والے آلات اور حفاظتی تدابیر کا ہونا لازمی ہے۔ جو دکاندار مقررہ وقت میں اپنے آلات مکمل نہیں کرے گا، اس کی دکان بھی فوری سیل کر دی جائے گی۔
اوکاڑہ(نامہ نگار ملک ظفر)انجمن تاجران کے مرکزی دفتر میں ایڈوائزر صوبائی محتسب پنجاب محمد شفیق احمد کی صدارت آگاہی سیمینار، سیمینار میں شہریوں کو درپیش مسائل، سرکاری محکموں کی غفلت یا نااہلی کے خلاف داد رسی اور صوبائی محتسب کے ادارے کے ذریعے فوری و بلا معاوضہ انصاف کے حصول کے طریقہ کار سے متعلق آگاہی دی گئی۔ ایڈوائزر صوبائی محتسب پنجاب محمد شفیق احمد نے کہا کہ صوبائی محتسب پنجاب کا ادارہ عوام الناس کو سرکاری دفاتر میں بدانتظامی، بلاجواز تاخیر اور ناانصافی کے خلاف فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہری کو اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے کسی بھی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے، اسی کے پیش نظر آگاہی سیمینارز کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ اپنے حقوق اور شکایت درج کروانے کے آسان طریقہ کار سے باخبر ہو سکیں۔ اس موقع پر شہریوں اور تاجر برادری کی جانب سے مختلف سرکاری محکموں سے متعلق درپیش درپیش مسائل کی نشاندہی کی گئی، جس پر ایڈوائزر صوبائی محتسب نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ شعبہ جات کے ذریعے ان کے پائیدار حل کے لیے موقع پر ہی رہنمائی فراہم کی اور قانونی طریقہ کار سے آگاہ کیا۔
مزید پڑھیں





