پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟ تحریر مہوش شفیق

نقطہ نظر

تعلیم انسان کی زندگی میں وہ چراغ ہے جو اسے جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور، آگہی اور ترقی کی روشنی تک پہنچاتا ہے۔ مگر آج ہمارے معاشرے میں ایک اہم سوال مسلسل جنم لے رہا ہے: کیا تعلیم کا مقصد صرف ایک ڈگری حاصل کرنا ہے، یا تعلیم انسان کے اندر شعور بھی پیدا کرتی ہے؟ اگر کسی شخص کے پاس اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں موجود ہوں، مگر اسے اپنے حقوق و فرائض، اخلاق، انسانیت اور معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس نہ ہو تو کیا اسے حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ کہا جا سکتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ڈگری تعلیم کا ثبوت ہو سکتی ہے، لیکن شعور کی ضمانت نہیں۔ تعلیم کا اصل مقصد انسان کے ذہن کو روشن کرنا، اسے سوال کرنے، سوچنے، سمجھنے اور درست و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت دینا ہے۔ ایک ایسا شخص جو کتابیں پڑھ کر صرف امتحان پاس کرنا جانتا ہو، لیکن عملی زندگی میں جھوٹ، دھوکے، ناانصافی اور تعصب کا شکار ہو، اس کی تعلیم ابھی ادھوری ہے۔آج ہمارے ہاں تعلیم کو اکثر ملازمت کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ والدین بچوں کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی اس امید سے بھیجتے ہیں کہ وہ اچھی ڈگری حاصل کریں گے، اچھی نوکری ملے گی اور مستقبل محفوظ ہو جائے گا۔ یہ خواہش اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ معاشی خودمختاری بھی زندگی کی ایک اہم ضرورت ہے۔ لیکن اگر تعلیم کا مقصد صرف اچھی نوکری اور زیادہ تنخواہ رہ جائے تو اس کے وسیع تر مقاصد پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔

تعلیم انسان کو صرف کمانا نہیں، جینا بھی سکھاتی ہے۔ایک تعلیم یافتہ انسان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اختلافِ رائے دشمنی نہیں ہوتا۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ کمزور انسان کی مدد کرنا، قانون کا احترام کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اور اپنے فرائض ادا کرنا بھی تعلیم کا حصہ ہے۔ وہ اپنے علم کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اپنے علم اور صلاحیتوں سے معاشرے کے لیے فائدہ پیدا کرتا ہے۔

شعور کا تعلق صرف کتابوں سے نہیں بلکہ تجربے، مشاہدے، سوال کرنے اور حالات کو سمجھنے سے بھی ہے۔ ایک باشعور انسان افواہ سن کر فوراً یقین نہیں کرتا، بلکہ حقیقت جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر بات کو سچ نہیں سمجھتا۔ وہ اختلاف رکھنے والے شخص کی بات بھی سننے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ یہی وہ رویے ہیں جو ایک معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں۔ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارے تعلیمی نظام میں رٹنے کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔ بہت سے طلبہ امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرنےکےلیےمعلومات یاد کر لیتے ہیں، لیکن چند ماہ بعد وہی معلومات ذہن سے نکل جاتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ علم کو سمجھنے کے بجائے اسے صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ جب تعلیم سوال کرنے، تحقیق کرنے اور تخلیقی سوچ پیدا کرنے کے بجائے صرف نمبروں کے حصول تک محدود ہو جائے تو ڈگری تو حاصل ہو سکتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ شعور بھی پیدا ہو۔اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کے رویے میں نظر آئے۔اگر کوئی ڈاکٹر اپنی مہارت سے مریضوں کی خدمت کرے، استاد اپنے شاگردوں میں تحقیق اور اخلاق پیدا کرے، انجینئر اپنی صلاحیت کو محفوظ اور بہتر معاشرے کی تعمیر میں استعمال کرے، صحافی سچائی اور ذمہ داری کو اہمیت دے اور ایک عام شہری اپنے اردگرد کے لوگوں کے حقوق کا خیال رکھے تو یہ تعلیم کے عملی اثرات ہیں۔اسی طرح والدین کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ بچے صرف کتابوں سے تعلیم حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنے گھر کے ماحول سے بھی بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں بڑوں کو دوسروں کا احترام کرتے، سچ بولتے اور اپنی غلطی تسلیم کرتے دیکھا جائے تو بچوں میں بھی یہی رویے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے تعلیم صرف اسکول یا یونیورسٹی کی چار دیواری تک محدود نہیں؛ گھر، معاشرہ اور عملی زندگی بھی انسان کی درس گاہیں ہیں۔ہمیں ڈگری کے خلاف نہیں بلکہ ڈگری کو تعلیم کا آخری مقصد سمجھنے کے خلاف سوچنے کی ضرورت ہے۔ ڈگری ایک کامیابی ہو سکتی ہے، لیکن کامیابی کی آخری منزل نہیں۔ ایک شخص کئی ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود اگر اپنے علم کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال نہیں کرتا تو اس کے علم کا دائرہ محدود رہ جاتا ہے۔آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور معلومات کی بھرمار نے انسان کے سامنے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ ایسے دور میں صرف معلومات کافی نہیں؛ معلومات کو سمجھنے، پرکھنے اور درست انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ یہی شعور ہے۔

ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو نوجوانوں کو صرف ملازمت کے لیے تیار نہ کرے بلکہ انہیں ذمہ دار شہری، اچھا انسان اور باشعور فرد بھی بنائے۔ ہمیں ایسے اسکول اور جامعات درکار ہیں جہاں کتاب کے ساتھ کردار، نمبروں کے ساتھ اخلاق اور ڈگری کے ساتھ ذمہ داری کو بھی اہمیت دی جائے۔آخر میں سوال پھر وہی ہے: تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟ شاید درست جواب یہ ہے کہ ڈگری تعلیم کا ایک حصہ ہے، جبکہ شعور اس تعلیم کی روح ہے۔ ڈگری انسان کو ایک مقام تک پہنچا سکتی ہے، مگر شعور اسے اس مقام کا درست استعمال سکھاتا ہے۔ ڈگری روزگار دے سکتی ہے، مگر شعور انسان کو کردار دیتا ہے۔ ڈگری ہاتھ میں ایک کاغذ ہے، جبکہ حقیقی تعلیم انسان کی سوچ، زبان، عمل اور کردار میں نظر آتی ہے۔ہمیں ایسی تعلیم نہیں چاہیے جو صرف ڈگریاں پیدا کرے؛ ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو انسان پیدا کرے۔ کیونکہ معاشرے عمارتوں، ڈگریوں اور عہدوں سے نہیں، باشعور اور ذمہ دار انسانوں سے ترقی کرتے ہیں۔