Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نئی دوستی پر سابق شوہر نے تین بچوں کی ماں کو قتل کر دیا

Crime
مصنف:

اسکاٹ لینڈ کے علاقے اسکاٹش بارڈرز میں ایک شخص نے نئی دوستی قائم کرنے پر اپنی سابق ساتھی کو چاقو کے متعدد وار کرکے قتل کر دیا۔ ملزم نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ارادہ مقتولہ کا سر قلم کرنے کا تھا۔


برطانوی خبر رساں ادارے اسکائی نیوز کے مطابق 39 سالہ لی انگلس نے 35 سالہ اسٹیسی ہوگ کو رواں سال 25 جون کو ہاوک میں واقع اس کے گھر میں کچن کے چاقو سے متعدد وار کرکے قتل کیا۔ مقتولہ تین بچوں کی ماں تھی۔ایڈنبرا کی ہائی کورٹ میں جمعے کے روز سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ملزم اور مقتولہ کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے۔ دونوں نومبر 2024 میں الگ ہو گئے تھے۔ اس سے قبل اکتوبر 2024 میں انگلس نے چاقو سے اسٹیسی ہوگ پر حملہ کیا تھا، جس پر اسے سزا بھی ہوئی تھی۔ قتل کے وقت اس پر پابندیوں کا حکم نافذ تھا۔


استغاثہ کے مطابق مقتولہ نے اپنی موت سے چند ماہ قبل ایک نیا تعلق قائم کیا تھا اور 24 جون کو ملزم کو اس بارے میں بتایا۔ اس کے بعد ملزم نے اسے پیغامات کے ذریعے دھمکیاں دیں اور خبردار کیا کہ اسے کسی دوسرے شخص سے تعلق قائم کرنے کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔خوفزدہ ہو کر اسٹیسی اپنی والدہ کے گھر چلی گئی اور ملزم کے شام 7 بجے کرفیو شروع ہونے تک وہاں انتظار کیا۔ بعد ازاں وہ اپنے گھر واپس آئی اور سو گئی۔عدالت کو بتایا گیا کہ 25 جون کی صبح 7 بج کر ایک منٹ پر گھر کے دروازے پر نصب کیمرے میں ملزم کو بیگ اٹھائے مقتولہ کے گھر کی جانب جاتے دیکھا گیا، جبکہ صبح 7 بج کر 4 منٹ پر وہ سی سی ٹی وی میں گھر پہنچتا دکھائی دیا۔استغاثہ کے مطابق ملزم گھر کے پچھلے دروازے سے داخل ہوا اور مقتولہ سے سامنا ہونے کے بعد باتھ روم میں اس کی گردن پر کچن کے چاقو سے متعدد وار کیے۔ مقتولہ نے مزاحمت کی، تاہم گردن پر لگنے والے زخم جان لیوا ثابت ہوئے۔صبح 7 بج کر 11 منٹ پر اسٹیسی نے ایمرجنسی نمبر 999 پر کال کی۔ کال کے دوران اس کی چیخیں سنائی دیں اور وہ اپنے بچوں کا ذکر کرتی رہی، تاہم رابطہ منقطع ہو گیا۔


قتل کے بعد ملزم اپنے والدین کے گھر پہنچا اور اپنی والدہ سے کہا کہ پولیس کو فون کریں کیونکہ اس نے اسٹیسی کو قتل کر دیا ہے۔ والدہ نے اس کے کپڑوں پر خون اور کچن کے کاؤنٹر پر خون آلود چاقو دیکھنے کے بعد پولیس کو اطلاع دی۔پولیس اہلکار مقتولہ کے گھر پہنچے تو وہ خون کے بڑے تالاب میں اوندھے منہ پڑی تھی۔ اہلکاروں نے طبی امداد پہنچنے تک سی پی آر کی کوشش کی، تاہم اسٹیسی کو صبح 7 بج کر 56 منٹ پر مردہ قرار دے دیا گیا۔استغاثہ لیان کراس کے سی کے مطابق ملزم نے پولیس کو بتایا کہ مقتولہ کے نئے ساتھی کے بارے میں جان کر وہ مشتعل ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ اس کا ارادہ مقتولہ کا سر قلم کرنے کا تھا، لیکن ایسا کرنا اس کے لیے مشکل ثابت ہوا۔ ملزم نے یہ بھی کہا کہ مقتولہ اس کی ملکیت تھی اور اگر وہ اسے حاصل نہیں کر سکتا تو کوئی دوسرا بھی اسے نہیں رکھ سکتا۔


عدالت میں بتایا گیا کہ فرانزک ماہر نفسیات نے ملزم میں شخصیت کی خرابی کی نشاندہی کی، تاہم اسے مقدمے کی سماعت میں شرکت کے قابل قرار دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی گردن پر متعدد گہرے کٹ لگنے سے ایسے زخم آئے تھے جن سے بچنا ممکن نہیں تھا۔لی انگلس نے جمعے کو ایڈنبرا کی ہائی کورٹ میں قتل کا اعتراف کر لیا۔ جج لارڈ ایونگ نے سزا سنانے کا فیصلہ 5 نومبر تک مؤخر کرتے ہوئے فوجداری انصاف سے متعلق سماجی بہبود کی رپورٹ طلب کر لی۔جج نے ملزم سے کہا کہ قتل کے جرم میں صرف ایک ہی سزا دی جا سکتی ہے اور وہ عمر قید ہے۔