محبت، تصوف اور تاریخ کا سفر،جھنگ سے احمد پور سیال تک،تحریر: مہوش بنت بشارت
نقطہ نظر
سیاحت صرف نئے مقامات دیکھنے کا نام نہیں، یہ دراصل وقت کے دریچوں میں جھانکنے، مٹی کی خوشبو کو محسوس کرنے اور ان کہی داستانوں کو سننے کا سفر ہے۔ کچھ شہر نقشے پر صرف ایک نام ہوتے ہیں، مگر کچھ شہر اپنے اندر صدیوں کی تہذیب، محبت، عقیدت اور تاریخ سمیٹے ہوتے ہیں۔ جھنگ بھی ایسا ہی ایک شہر ہے، جہاں دریاؤں کی روانی کے ساتھ صوفیانہ روایتیں بہتی ہیں اور جہاں کی مٹی میں محبت کی ایسی داستانیں دفن ہیں جو آج بھی دلوں کو چھو لیتی ہیں۔27 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ سیاحت منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیاحت صرف دنیا کے مشہور مقامات تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے اپنے خطوں میں بھی ایسے بے شمار خزانے موجود ہیں جنہیں دریافت کرنے، محفوظ رکھنے اور دنیا سے متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ پنجاب کا ضلع جھنگ اور اس کی تاریخی تحصیل احمد پور سیال اسی پوشیدہ حسن کی ایک خوبصورت مثال ہیں۔جھنگ کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی دریائے چناب کی لہریں جیسے ماضی کی کوئی داستان سنانے لگتی ہیں۔ اس شہر کا نام آتے ہی محبت کی وہ لازوال داستان یاد آتی ہے جس نے پنجاب کے لوک ادب کو صدیوں سے زندہ رکھا ہوا ہے۔ ہیر اور رانجھا صرف ایک داستان کے کردار نہیں بلکہ پنجاب کی تہذیبی شناخت کا حصہ ہیں۔ جھنگ کے گرد و نواح میں موجود ان سے منسوب مقامات آج بھی ان لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جو تاریخ، لوک ادب اور محبت کی داستانوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔جھنگ کی خوبصورتی صرف اس کی داستانوں تک محدود نہیں۔ دریائے چناب کے کنارے پھیلی فطری خوبصورتی، کھیتوں کی وسعت، درختوں کی قطاریں اور دیہی زندگی کے سادہ مناظر اس خطے کو ایک منفرد شناخت دیتے ہیں۔ یہاں کا سکون ان لوگوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے جو شہروں کے شور سے نکل کر فطرت کے قریب کچھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔اسی سفر کو آگے بڑھائیں تو تریموں کا مقام سامنے آتا ہے، جہاں دریائے چناب اور دریائے جہلم کا سنگم ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ پانی کی وسعت، کناروں کا قدرتی حسن، پرندوں کی آوازیں اور بدلتے موسم اس علاقے کو فطرت کے شائقین کے لیے خاص بنا دیتے ہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں انسان صرف منظر نہیں دیکھتا بلکہ اسے محسوس بھی کرتا ہے۔مگر جھنگ کی داستان یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اس کے سفر کا ایک نہایت اہم باب احمد پور سیال کی طرف جاتا ہے۔
احمد پور سیال محض ایک تحصیل نہیں بلکہ تاریخ، تصوف، ثقافت اور مذہبی ورثے کا ایسا امتزاج ہے جسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ اس علاقے کی سب سے نمایاں روحانی شناخت حضرت سلطان باہوؒ کا دربارِ عالیہ ہے۔ سلطان العارفین حضرت سلطان باہوؒ کی تعلیمات، عارفانہ شاعری اور روحانی فکر نے برصغیر کی صوفیانہ روایت پر گہرا اثر چھوڑا۔ ان کا کلام آج بھی عقیدت مندوں کے دلوں میں محبت، معرفت اور اللہ کی یاد کا چراغ روشن کرتا ہے۔دربارِ سلطان باہوؒ صرف عقیدت کی جگہ نہیں بلکہ یہ ہمارے خطے کے روحانی اور ادبی ورثے کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں آنے والا شخص صرف ایک مزار کی زیارت نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی روایت کے قریب پہنچتا ہے جس نے صدیوں سے انسان کو محبت، عاجزی اور باطن کی پاکیزگی کا درس دیا ہے۔احمد پور سیال کی سرزمین پر پیر عبدالرحمٰنؒ کا مزار بھی اس علاقے کی روحانی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ ایسے مقامات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ اس خطے کی شناخت صرف جغرافیہ سے نہیں بلکہ ان بزرگوں کی تعلیمات اور ان سے وابستہ صدیوں پرانی روایات سے بھی تشکیل پاتی ہے۔احمد پور سیال کی ایک اور خوبصورتی اس کا تاریخی اور تہذیبی تنوع ہے۔ یہاں موجود قدیم سیتا رام مندر اس خطے کے ماضی کی ایک اہم یادگار ہے۔ اس کی قدامت اور طرزِ تعمیر ماضی کے ان ادوار کی طرف اشارہ کرتی ہے جب مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے آثار ایک ہی خطے میں ساتھ ساتھ موجود تھے۔ ایسے تاریخی مقامات صرف اینٹوں اور پتھروں سے بنی عمارتیں نہیں ہوتے بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ماضی کے محفوظ صفحات ہوتے ہیں۔
جھنگ سے احمد پور سیال تک کا سفر دراصل ایک ایسے خطے کا سفر ہے جہاں دریا بھی داستان گو ہیں، مزار بھی تاریخ سناتے ہیں، قدیم عمارتیں بھی ماضی کی گواہی دیتی ہیں اور کھیتوں کی خاموشی بھی اپنی ایک زبان رکھتی ہے۔یہ خطہ صرف صوفیاء اور تاریخی شخصیات کی وجہ سے اہم نہیں، بلکہ یہاں کی ثقافت، مقامی روایات، دیہی زندگی، دریائی مناظر اور قدیم آثار مل کر اسے ایک منفرد سیاحتی شناخت عطا کرتے ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جھنگ اور احمد پور سیال کے تاریخی و ثقافتی مقامات کو محض مقامی یادگاریں سمجھنے کے بجائے انہیں ہماری اجتماعی میراث کے طور پر محفوظ کیا جائے۔ ان مقامات تک بہتر رسائی، بنیادی سہولیات، مناسب رہنمائی اور تاریخی معلومات کی فراہمی نہ صرف مقامی سیاحت کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ نئی نسل کو اپنے ماضی سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
سیاحت دراصل اپنے آپ کو پہچاننے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ جب ہم اپنے ہی خطے کی گلیوں، دریاؤں، مزاروں، قدیم عمارتوں اور لوک داستانوں کو دریافت کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ تاریخ صرف کتابوں میں نہیں ہوتی، وہ ہمارے اردگرد سانس لے رہی ہوتی ہے۔جھنگ اور احمد پور سیال اسی زندہ تاریخ کا نام ہیں۔
یہاں چناب صرف بہتا نہیں، داستانیں بہاتا ہے۔یہاں مٹی صرف مٹی نہیں، صدیوں کی یادیں سنبھالے ہوئے ہے۔یہاں دربار صرف عمارت نہیں، روحانی روایت کا امین ہے۔ یہاں کا ہر قدیم نشان ہمیں اپنے ماضی سے جڑنے کی دعوت دیتا ہے۔
آئیے، عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر اپنے ان مقامات کو نئے انداز سے دیکھیں، ان کی قدر کریں، انہیں محفوظ کریں اور دنیا کو بتائیں کہ پاکستان کی خوبصورتی صرف مشہور سیاحتی مقامات تک محدود نہیں۔
جھنگ سے احمد پور سیال تک پھیلی یہ دھرتی محبت، تصوف، تاریخ اور فطرت کا ایسا حسین امتزاج ہے جسے دیکھنے کے لیے شاید کسی دور دیس جانے کی ضرورت ہی نہیں۔کبھی اپنے ہی وطن کی مٹی کو مسافر بن کر دیکھیے،ممکن ہے جس تاریخ کو آپ کتابوں میں ڈھونڈتے رہے،وہ آپ کے قدموں کے نیچے موجود ہو۔
مزید پڑھیں




