Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

گورنمنٹ کالج چھب میں 50سال گزرنے کے باوجود اساتذہ تعینات نہ ہو سکے

جب کالج میں نہیں ہوں گے استاد توکیسے آگے بڑھے گا مریم نواز کاپنجاب

مصنف:

گورنمنٹ کالج چھب میں 50سال گزرنے کے باوجود اساتذہ تعینات نہ ہو سکے14میں سے14آسامیاں خالی

تیل و گیس سے مالامال علاقہ سب تحصیل چھب بنیادی سہولیات سے ہی محروم ،پرنسپل اور نان ٹیچنگ سٹاف موجود

کالج کی شاندار عمارت لیباریٹریاں اور لائبریری مگر پڑھانے کوایک بھی استاد نہیں،

اہل علاقہ نے لکھے اتنے خط کہ ہوگئے نظام سے ہی مایوس۔


راولپنڈی ڈویژن میں ایسے کالج کا انکشاف ہوا ہے جہاں پر اساتذہ کی 14میں سے 14آسامیاں عرصہ دراز سے خالی ہیں صرف ایک پرنسپل تعینات ہیں اور نان ٹیچنگ سٹاف موجود ہے ۔گورنمنٹ کالج چھب میں 50سال گزرنے کے باوجود اساتذہ تعینات نہ ہو سکے،جب کالج میں نہیں ہوں گے استاد توپھرکیسے آگے بڑے گا مریم نواز کاپنجاب،تیل و گیس سے مالامال علاقہ سب تحصیل چھب بنیادی سہولیات سے ہی محروم ہے، کالج کی شاندار عمارت لیباریٹریاں اور لائبریری مگر پڑھانے کوایک بھی استاد نہیں، اہل علاقہ نے لکھے اتنے خط کہ ہوگئے نظام سے ہی مایوس۔

کالج بنیادی سہولیات سے محروم۔ پندرہ میں سے ایک استاد مستقل تعینات ہے۔ کالج میں سائنس لیب، لائبریری اور وسیع و عریض عمارت کے باوجود غریب طلباء پر تعلیم کے دروازے بند جبکہ وسائل رکھنے والے طلبہ شہروں میں اعلی تعلیم کے لیے چلے جاتے ہیںراولپنڈی ڈویژن کے ضلع اٹک کا گورنمنٹ کالج نرڑہ کنجور چھب سب تحصیل و یونین کونسل چھب 1976 میں منظور کیا گیا جبکہ 1978 میں کالج میں باقاعدہ کلاسیں گورنمنٹ ہائی سکول چھب میں شروع کی گئیں۔ کالج کی موجودہ عمارت 1990 میں مکمل ہوئی جو کہ پینتیس کنال رقبے پر محیط ہے جبکہ چار کنال پر عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ کالج میں چوبیس سے زائد کمرے ہیں۔ اکیڈمک بلاک میں18 کمرے ہیں جن میں چھ کلاس رومز، تین سائنس لیبز جن میں کیمسٹری، بائیو اور فزکس لیبز شامل ہیں۔ دو ملٹی پرپز ہال اور ایک وسیع و عریض لائبریری شامل ہے جس میں سیکڑوں نادر کتب موجود ہیں۔کالج کے اندر ایک پرنسپل چار پروفیسرز اور ایک چوکیدار کا گھر بھی موجود ہے جس کوصوبہ پنجاب کے شعبہ بلڈنگ نے خطرناک قرار دے کر ان کی مرمت کی ہدایت کی ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ کالج کی عمارت 1990 میں بنی جبکہ رہائشی عمارت کو 1999 میں خطرناک قرار دیدیا گیا۔ کالج کو اگر فعال کر دیا جائے تو اس سے قریب کی 8 یونین کونسلوں کے گورنمنٹ ہائی سکولوں کے غریب طلبہ استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ غریب طلبا وسائل نہ ہونے کی وجہ سے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیرآباد کہہ دیتے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق کالج انتظامیہ نے سرکاری خط کے ذریعے وزارت تعلیم کو آگاہ کیا ہے کہ کالج کی چار دیواری نہیں ہے اور نہ ہی کالج میں پینے کا صاف پانی دستیاب ہے جبکہ برقی نظام اور سیوریج سسٹم بھی انتہائی ناقص ہے۔ دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے سی ٹی آئی ٹیچرز ملتے نہیں اگر مل جائیں تو ان کی وقت پر تعینات نہیں ہوتی جس کی وجہ سے کالج میں تعلیم کا معیار دن بدن گر رہا ہے۔

پندرہ ٹیچرز میں سے ایک پرنسپل مستقل تعینات ہے جبکہ چودہ سیٹیں خالی ہیں۔ رہائشی عمارتیں بھی خطرناک قرار دی جا چکی ہیں اور عرصہ دراز سے کالج میںرنگ وروغن اور مرمت نہیں کی گئی ہے ۔ خط میں اعلی حکام سے کالج انتظامیہ نے درخواست کی ہے کہ ان مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ کالج میں گرتے ہوئے تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور غریب طلبہ کے لئے ان کے گھر کے قریب کالج کی سہولت دی جا سکے۔

سی ایم شکایت سیل پر ایک شکایت کے جواب میں کالج پرنسپل کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہاگیاہے کہ 10سال سے کالج میں کوئی مستقل ٹیچر نہیں ہیں اس حوالے سے زبان اور تحریری طور پر بلیک اینڈ وائٹ میں اعلیٰ حکام کو بتاچکے ہیں مگر کوئی عملی اقدام نہیں ہورہاہے ۔ڈی ڈی اٹک کالجز نے بتایاکہ گریڈ 17میں تعیناتی اور ٹرانسفر کا اختیار سیکرٹری ایجوکیشن کے پاس ہے ہم صرف رپورٹ دے سکتے ہیں کہ کالج میں کوئی استاد نہیں ہے ۔

اہل علاقہ نے بتایا کہ ہر جنرل الیکشن اور بلدیاتی الیکشن میں عوامی نمائندے ان سے کالج کو مکمل فعال کرنے کا وعدہ کرتے ہیں مگر الیکشن کے بعد کوئی بھی نمائندہ اس حوالے سے عملی اقدامات نہیں کرتا۔ اگر یہ ایک کالج ہی فعال کر دیا جائے اور اس میں سائنس ٹیچر تعینات کر دیا جائے تو دو سال کے اندر اس میں داخلے کے لئے بھی میرٹ لگ جائے گا۔ حکومت سے ہماری درخواست ہے کہ صرف 3 سال کے لئے ہمیں سائنس ٹیچر دے دیں اگر اس کے بعد بھی یہ تجربہ ناکام ہو جائے تو بے شک کالج کو بند کر دیں

سب تحصیل ویونین کونسل چھب کے سماجی کارکن ریٹائرڈ استاد محمد فاروق اور چھب سوشل ویلفیئر سوسائٹی کے عہدیدارڈاکٹر محمد صدیق نے کہا ہے کہ اس کالج کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے بڑی محنت کی تھی۔ کالج کی منظوری کے بعد چندہ جمع کر کے اس کی زمین خریدی گئی مگر آج کالج میں ٹیچر نہیں ہیں اور ایک وسیع و عریض عمارت ہمارے پاس موجود ہے اگر حکومت ہمیں صرف سائنس ٹیچر فراہم کر دے تو غریب بچوں کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔کالج میںداخلے کے لیے ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت اشتہار بھی چلایاکہ جو غریب بچے سکول میں داخلہ لیں گے ہم ان کی فیس ادا کریں گے مگر مسئلہ یہ ہے کہ عمارت میں تو تمام سہولیات موجود ہیں مگر استاد نہیں ہیں جس کی وجہ سے بچے داخلہ نہیں لیتے کہ ہمارا سال ضائع ہوجائے گا ،جب کالج میں اساتذہ ہوتے تھے تو بچے بھی ہوتے تھے اب جب استاد ہی نہیں تو لوگوں سے توقع کرنا کہ وہ ایسے ادارے میں بچے داخل کریں جہاں استاد نہ ہو خام خیالی ہے ،کالج میں مستقل بنیاد پر فزکس ،کیمسٹری ، بائیو،کمپیوٹر ،ریاضی اور انگلش کے اساتذہ دیئے جائیں ان اساتذة کی مستقل تعیناتی کے ساتھ ہی بچے داخلہ بھی لینا شروع کردیں گے ،

مقامی رہائشی طارق نے کہا کہ میں نے خود اس کالج میں تعلیم حاصل کی ہے مگر بعد میں حکومتوں کی طرف سے توجہ نہ ملنے کی وجہ سے اس میں بچوں کی تعداد بھی کم ہوئی اور کالج میں ٹیچر بھی تعینات نہیں کئے گئے۔ حکام کہتے ہیں کہ پہلے بچے داخل کروائیں اس کے بعد ہم ٹیچر تعینات کریں گے اگر ٹیچر نہیں ہونگے تو کس طرح لوگ اپنے بچے کالج میں داخل کرا سکتے ہیں۔ اس سے تو بچوں کا مستقبل تباہ ہو جائے گا اور کوئی بھی اپنے بچوں کا مستقبل تباہ نہیں کرنا چاہتا۔

مقامی رہائشی اور اسی کالج سے ایف اے کرنے والے عمر فاروق نے بتایاکہ میں نے 2002میں کالج سے ایف اے کیا تھا اس وقت کالج میں 7سے8پروفیسر موجود تھے جو بچوں کو پڑھاتے تھے ایف اے اور ایف ایس سی کی کلاسیں ہوتی تھیں اور 50 طلباء ہوتے تھے۔جو انٹر کرنے کے بعداعلیٰ تعلیم کے لیے شہروںمیں چلے جاتے تھے۔

سرگرم سماجی کارکن تابش ریحان ،عبداللہ عمر، فخرعالم ودیگر نے کہا ہے کہ اگر حکومت سائنس ٹیچر تعینات کر دے تو پورے علاقے کے 8یونین کونسلوں میں ہر گھر اور ہرسکول میں خود جا کر کالج میں طلبہ کو داخل کرانے کے لئے کمپین چلائیں گے۔آج کا دور سائنس کا دور ہے کوئی بھی اپنے بچے کوآرٹس نہیں پڑھانا چاہتاہے سی ٹی آئی بھی وقت پر بھرتی نہیں کیے جاتے ہیں اور کئے بھی جائیں تو اردو اور اسلامیات کے کیے جاتے ہیں ۔

کالج میں اساتذہ کی تمام آسامیوں کے خالی ہونے کے حوالے سے وزیر تعلیم پنجاب سے رابطہ کیاگیا مگر انہوں نے کسی قسم کا موقف نہیں دیا،

خبر کی اشاعت سے قبل  ڈائریکٹر کالجز راولپنڈی ڈویژن ڈاکٹر شہنازاختر سے ان کے پی اے اور براہ راست رابطہ کیا گیا ۔ڈاکٹر شہنازاختر نے رابطہ کرکے بتایاکہ کالج میں داخلے نہ ہونے کا ذمہ دار کالج کے پرنسپل ہیں ان کو یہ مہم چلانی چاہیے تھی میں خود کالج کادورہ کروں گی اور میری کوشش ہوگی کہ وہاں پر مستقل اساتذہ جلد ازجلد تعینات کیئے جاسکیں تاکہ کالج فعال ہوجائے ۔