پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

گوجرخان،چیف آفیسر کی تعیناتی چند گھنٹوں میں منسوخ، بلدیاتی فیصلوں پر سوالات

gujar khan
مصنف:

غلام قمر وڑائچ کے تبادلے کا معاملہ پھر زیرِ بحث، مسلم لیگ ن کی مقامی گروپ بندی پر شہریوں میں تشویش

تبادلے مذاق بن گئے یا انتظامی اختیار بے اثر؟ شہریوں کا وزیراعلیٰ پنجاب کی گڈ گورننس سے متعلق دعووں پر سوال

گوجرخان (قمر شہزاد) چیف آفیسر بلدیہ گوجرخان غلام قمر وڑائچ کے تبادلے، ان کی جگہ اختر اسلام کی تعیناتی اور پھر چند گھنٹوں بعد احکامات کی منسوخی نے بلدیاتی انتظامی فیصلوں پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ ذرائع کے مطابق اختر اسلام نے دو روز بعد پیر کو چارج سنبھالا، تاہم اسی روز ان کی تعیناتی کے احکامات منسوخ کر دیے گئے۔ شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سرکاری تبادلے اور تعیناتیاں محض دفتری کھیل بن کر رہ گئے ہیں؟ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی گڈ گورننس کے دعووں کے تناظر میں شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک افسر کا تبادلہ کرکے دوسرے کو چارج بھی دے دیا جائے تو پھر چند گھنٹوں بعد فیصلہ واپس لینے کی کیا وجہ ہے؟ اگر غلام قمر وڑائچ کی کارکردگی یا تعیناتی میں کوئی مسئلہ تھا تو تبادلہ کیوں کیا گیا، اور اگر اختر اسلام موزوں افسر تھے تو ان کی تعیناتی منسوخ کرنے کا جواز کیا ہے؟ شہریوں نے متعلقہ اعلیٰ حکام سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے متضاد فیصلے انتظامی سنجیدگی اور حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالیہ نشان ہیں۔دوسری جانب مقامی سیاسی حلقوں میں اس معاملے کو مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت کے درمیان اختلافات اور گروپ بندی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تقرریوں اور تبادلوں کے معاملات سیاسی اختلافات کی نذر ہونے کا تاثر مضبوط ہوا تو اس سے جماعت کی مقامی ساکھ اور عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکریٹری کی انتظامی نگرانی میں کام کرنے والے متعلقہ حکام تبادلوں کو بار بار تبدیل ہونے والے فیصلوں کا سلسلہ کیوں بنا رہے ہیں؟ ان کا مطالبہ ہے کہ تعیناتی منسوخ کرنے کی وجوہات سامنے لائی جائیں، انتظامی فیصلوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور مقامی سیاسی اختلافات کو سرکاری اداروں کے معاملات پر اثرانداز ہونے سے روکا جائے