Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بلدیہ گوجرخان کا مبینہ رسید سکینڈل اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟دھماکہ خیز انکشافات

مصنف:

ذرائع کا ایک انکشاف دستاویزی سچ ثابت ریکارڈ جلانے کے دوسرے دعوے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ!


بلدیہ کے اہلکار خود اکر پیسے لیتے رہے متاثرہ دکان داروں کے ریگولیشن آفیسر کے سامنے سنسنی خیز اعترافات


سرکاری مہر لگی پرچیاں دفتری ریکارڈ سے غائب مینوئل وصولی کمپیوٹرائزڈ سسٹم کا بڑا تضاد کھل کر سامنے آ گیا


لوٹ مار یا دفتری ملی بھگت؟ بلدیاتی نظام کا آڈٹ کرنے قومی خزانے کو بڑے ٹیکے سے بچانے کے لیے اعلی سطحی انکوائری کا مطالبہ


گوجرخان (قمرشہزاد) بلدیہ گوجرخان کے شعبہ ریگولیشن میں کمرشل ٹیکس اور سائن بورڈ فیسوں کی وصولی کے نظام میں جاری مبینہ بے ضابطگیاں اب ایک پیچیدہ اور گھمبیر رخ اختیار کر گئی ہیں، جس نے پورے بلدیاتی جانچ پڑتال کے نظام پر کئی چشم کشا سوالات کھڑے کر دیے ہیں، تفصیلات کے مطابق، روزنامہ عوامی للکار کے نمائندے کی موقع پر خصوصی کوریج کے دوران یہ چونکا دینے والے انکشافات اس وقت سامنے آئے جب میونسپل ریگولیشن آفیسر میڈم انوشیہ افضل کی سربراہی میں بلدیاتی ٹیم نادہندگان کے خلاف کارروائی اور دکانیں سیل کرنے فیلڈ میں پہنچی، تو وہاں ایک انتہائی متصادم صورتحال دیکھنے میں آئی، ایک طرف جہاں مہم کے دوران کئی دکان دار واقعی نادہندہ پائے گئے، وہیں دوسری طرف ایسے دکان دار بھی سامنے آئے جنہوں نے نوٹسز پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بلدیہ گوجرخان کی آفیشل مہر اور دستخط شدہ مینوئل رسیدیں (بشمول سیریل نمبر 0008301 اور سیریل نمبر 0009964 میونسپل ریگولیشن آفیسر کے سامنے پیش کر دیں، ان متاثرہ دکان داروں نے انکشاف کیا کہ بلدیہ کا عملہ خود دکانوں پر آ کر ان سے مینوئل رسیدوں کے ذریعے رقم وصول کرتا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود دفتری ریکارڈ میں ان کی یہ ادائیگیاں شامل نہیں کی گئیں اور انہیں کمپیوٹرائزڈ لسٹوں میں بدستور نادہندہ ظاہر کر کے حتمی نوٹسز تھما دیے گئے، فیلڈ میں ہونے والی اس فوری کوریج سے جہاں موقع پر ہی یہ سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے، وہیں باوثوق ذرائع کے ان دعووں پر بھی مہرِ تصدیق ثبت ہو گئی ہے کہ ادائیگیاں کرنے کے باوجود دکان دار دفتری ریکارڈ کے جھول کی وجہ سے نادہندگی کا شکار چلے آ رہے ہیں جبکہ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بلدیہ گوجرخان کے دائرہ اختیار میں آنے والے کئی دیگر دکان داروں کے ساتھ بھی مبینہ طور پر ایسا ہی معاملہ پیش آنے کا خدشہ ہے جس کا حتمی اندازہ فیلڈ میں جاری چیکنگ اور مستقبل میں ہونے والی انکوائری و تصدیقی عمل کے بعد ہی کھل کر سامنے آ سکے گا، ذرائع نے اس حوالے سے ایک اور تشویشناک انکشاف بھی کیا ہے کہ مبینہ طور پر بعض ایسی مینوئل پرچیوں کا دفتری ریکارڈ جلائے جانے کی بھی بازگشت سنی گئی ہے، تاہم اس مبینہ دعوے کی سرکاری سطح پر تاحال کوئی تصدیق سامنے نہیں آسکی ہے، تجارتی و عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ فیلڈ میں پے شدہ دکان داروں اور اصل نادہندگان کا یہ متصادم تضاد کھل کر سامنے آ چکا ہے اور ذرائع کا پہلا دعویٰ دستاویزی طور پر سچ ثابت ہو چکا ہے، اس لیے اعلیٰ حکام کو اس کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے، ان سامنے آنے والے حقائق کے بعد اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ پورے معاملے کو واضح کرنے اور قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کے لیے فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ انکوائری اور دفتری کھاتوں کی پڑتال کا حکم دیا جائے، دوسری جانب، میونسپل ریگولیشن آفیسر میڈم انوشیہ افضل نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ دکان داروں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ان مینوئل رسیدوں کی نقول کے ہمراہ ان سے رقم وصول کرنے والے عملے کے خلاف محکمے کو تحریری درخواستیں دیں تاکہ ملوث عناصر کا تعین کیا جا سکے، انہوں نے کوریج کے دوران روزنامہ عوامی للکار کے رپورٹر سے گفتگو میں تسلیم کیا کہ ان سامنے آنے والی مینوئل رسیدوں کا دفتری ریکارڈ اور کیش بک سے موازنہ کیا جا رہا ہے اور انہوں نے اصل حقائق اور دفتری ریکارڈ کا موازنہ سامنے لانے کے لیے رپورٹر کو خصوصاً سوموار والے دن اپنے دفتر میں ملاقات کا وقت بھی دے دیا ہے۔